مشرق وسطی
2 منٹ پڑھنے
فلسطین حکومت: ہم امریکی مسوّدہ قرارداد کا خیر مقدم کرتے ہیں
یہ قرارداد غزہ میں "ایک مستقل اور جامع جنگ بندی کے قیام، انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی اور فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور حقِ ریاست" کی توثیق کرتی ہے: فلسطین انتظامیہ
فلسطین حکومت: ہم امریکی مسوّدہ قرارداد کا خیر مقدم کرتے ہیں
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کو امریکہ کی تیار کردہ ایک قرارداد منظور کر لی۔ / AA

فلسطین ا نتظامیہ نے، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں منظور ہونے والی اور غزہ میں امن کمیٹی کے اور  بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام پر مبنی، امریکی مسوّدہ قرارداد کا خیر مقدم کیا ہے ۔

فلسطین  وزارتِ خارجہ  نے منگل کو "ایکس" سے جاری کردہ  بیان میں کہا  ہےکہ فلسطین انتظامیہ   اس قرارداد کو غزہ میں "ایک مستقل اور جامع جنگ بندی کے قیام، انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی اور فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور حقِ ریاست" کی توثیق قرار دیتی ہے۔

بیان میں اُن تمام ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا گیا ہے جنہوں نے ریاستِ فلسطین اور متعلقہ فریقین کے ساتھ مل کر قبضے کے خاتمے اور آزادی و خود مختاری کے حصول کے لیے فلسطینی کوششوں کی حمایت  کی خواہش ظاہر کی ہیں۔

فلسطین نے قرارداد کے نفاذ کی حمایت کے لیے امریکہ، سلامتی کونسل کے اراکین اور عرب و اسلامی ریاستوں سمیت تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ تعاون پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ بیان میں، غزہ، مقبوضہ مغربی کنارے اور مقبوضہ  مشرقی القدس  میں فلسطینی عوام کی مشکلات کے خاتمے کی خاطر، قرارداد کے فوری اطلاق کو یقینی بنانے کا مطالبہ بھی  کیا گیا ہے۔

امن کمیٹی

بروز سوموار  اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ، امن بورڈ کے قیام، غزہ کے انتظام، تعمیرِ نو اور سکیورٹی  انتظامات کی نگرانی کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس کو اختیار دینے  پر مبنی، ایک امریکی مسودے پر مبنی قرارداد منظور کی ہے۔

امریکہ کی مذکورہ  مسودہ قرار داد  اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور یرغمالیوں کے تبادلے کے معاہدے کا حصہ ہے۔ یہ معاہدہ  10 اکتوبر کو غزہ میں نافذ ہوا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی منصوبے کی بنیاد پر مرتب کیا گیا تھا۔

معاہدے کے پہلے مرحلے میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جانا شامل ہے۔ منصوبے میں غزہ کی تعمیرِ نو اور حماس کے بغیر ایک نئے انتظامی نظام کے قیام کا بھی تذکرہ  کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2023 سے تاحال اسرائیل ،  غزہ پر مسّلط کردہ  نسل کشی  جنگ میں، زیادہ تر عورتوں اور بچوں پر مشتمل،  69,000 سے زائد فلسطینی  قتل اور 170,700 سے زیادہ کو زخمی کر  چکا ہے۔

دریافت کیجیے
ایستونیا: بھارتی کمپنی سے دھوکہ کھانے کے بعد وزیرِ دفاع نے استعفیٰ دے دیا
سیلاب سے ایک ہفتے سے زیادہ عرصے کے بعد دو افراد کو ایک ٹنل سے زندہ بچا لیا گیا
تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ایران قرار دینے والے  امریکی نائب صدر کو ایران کا جواب
اسرائیل: 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو غزّہ سے نکال دیا جائے
ترکیہ: قالن۔دیمیرس ملاقات
پاک فوج: "خیبر پختونخوا میں 15 دہشتگرد غیر فعال کر دیے گئے ہیں"
نیو یارک سٹی نے آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت ممنوع کر دی
ماسکو پر 37 ڈرونز سے حملے کی  کوشش ناکام بنا دی گئی
ٹرمپ کا جنگ ختم کرنے پر غور،پینٹاگون کا نفری بڑھانے پر زور
مشرق وسطی کے ممالک مسئلہ فلسطین کو  پس پشت نہ ڈالیں:چین
کرغزستان اور پاکستان کا باہمی تجارت کو 200 ملین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف
آذربائیجان: اسلحہ ڈپو میں دھماکہ ،5 ہزار افراد کا انخلا
روس، یوکرین کے خلاف جنگ جیت رہا ہے: پوتن
ہم، صدر السیسی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں: صدر شی
ماسکو: برلن کے دعوے "بے بنیاد، مضحکہ خیز اور غیر منطقی" ہیں