سوڈان کی نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) نے سوڈانی فوج کے ساتھ یکطرفہ تین ماہ کے لیے "انسانی جنگ بندی" کا اعلان کیا ہے، اور کہا ہے کہ یہ جنگ بندی بین الاقوامی اپیلوں کے جواب میں تشدد روکنے اور ریلیف اداروں کی رسائی بڑھانے کے لیے کی گئی ہے۔
ریکارڈ کیے گئے بیان میں آر ایس ایف کے رہنما محمد حمدان دقلو نے کہا کہ ان کی فورسز اور حلیف گروپوں نے "فوری انسانی جنگ بندی جس میں تین ماہ کے لیے تمام دشمنانہ کارروائیوں کا توقف شامل ہے" پر اتفاق کیا ہے۔
دقلو نے کہا کہ آر ایس ایف، امدادی کارکنوں کی نقل و حرکت کو محفوظ کرنے، متاثرہ علاقوں تک بلا روکاٹ رسائی یقینی بنانے، مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں کی تنصیبات اور گوداموں کا تحفظ، اور طبی و ریلیف ٹیموں کو آزادانہ کام کرنے کی اجازت دینے کی پابند ہے۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ آر ایس ایف نے جنگ بندی کی نگرانی کے لیے ایک فیلڈ مانیٹرنگ میکانزم کے قیام کی منظوری دے دی ہے جو کہ چہار رکنی گروپ اور افریقی یونین کی نگرانی کے تحت کام کرے گا، اور ساتھ ہی اضافی کمیٹیاں بنائی جائیں گی جو یہ یقینی بنائیں گی کہ امداد محفوظ طریقے سے شہریوں تک پہنچے۔
دقلو نے کہا کہ یہ جنگ بندی "دشمنانہ کارروائیوں کے خاتمے اور ایک جامع سیاسی حل تک پہنچنے کی طرف پہلا قدم" ہونی چاہیے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ بین الاقوامی حمایت اور وسیع سوڈانی شراکت ایک سیاسی عمل کے لیے راہ ہموار کرے گی جو جنگ کو ختم کرے اور ملک کو ایک مستحکم عبوری مرحلے کی طرف لے جائے۔
دقلو نے کہا کہ مستقبل کے کسی بھی سیاسی عمل میں "دہشت گرد اسلامی تحریک، اخوان المسلمین، نیشنل کانگریس پارٹی اور ان کے وابستگان (فوج اور حلیف گروپس)" کو شامل نہیں کیا جانا چاہیے۔
آر ایس ایف کے اعلان کے بارے میں سوڈانی فوج کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں آیا۔
اتوار کو سوڈان کی عبوری حاکمیت کونسل کے چیئرمین عبد الفتاح البرہان نے چہار رکنی گروپ کہ جس میں امریکہ، مصر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں، کی ایک تجویز پر تنقید کی تاہم انہوں نے اس کے متن کی تفصیلات سے آگاہی نہیں کرائی۔
12 ستمبر کو، اس گروپ نے نے ابتدائی طور پر سہ ماہی انسانی جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا تاکہ سوڈان بھر میں فوری امداد کی رسائی ممکن ہو سکے، اور مستقل جنگ بندی کے لیے راہ ہموار ہو۔
گزشتہ ہفتے، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ واشنگٹن سوڈان میں تنازعہ ختم کرنے کی کوشش کرے گا۔
اپریل 2023 سے سوڈانی فوج اور آر ایس ایف حالتِ جنگ میں ہیں جسے علاقائی اور بین الاقوامی ثالثی کی کوششیں اب تک ختم نہیں کر پائیں۔ اس تنازعے میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے دخل ہوچکے ہیں۔
اس تنازعے پر بین الاقوامی توجہ اس وقت بڑھی جب آر ایس ایف نے پچھلے مہینے دارفور کے اہم شہر الفاشر پر مسلسل محاصرے اور پرتشدد حملوں کے بعد قبضہ کر لیا، جنہوں نے انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کی وارننگز پیدا کر دی ہیں۔
بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت آئی او ایم نے کہا ہے کہ آر ایس ایف کے 26 اکتوبر کو شہر پر قبضے کے بعد سے شمالی دارفور کے دارالحکومت الفاشر سے 106,000 سے زائد شہری نقل مکانی کر چکے ہیں۔











