چین نے فلسطین کے زیرِ محاصرہ علاقے 'غزہ' کی موجودہ صورتحال پر 'شدید تشویش' کا اظہار کیا اور اسرائیل سے تناو میں اضافے سے پرہیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
چین وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماؤ نِنگ نے بروز جمعہ بیجنگ میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہا ہے کہ "ہم ، شہریوں کو نقصان پہنچانے اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی فعل کی مخالفت کرتے ہیں"۔
ماؤ نے کہا ہے کہ یہ تبصرہ گذشتہ روز 15 فلسطینیوں کی ہلاکت کا سبب بننے والے اسرائیلی فضائی حملوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔چین امید کرتا ہے کہ فائر بندی معاہدے پر عمل درآمد ہوگا، انسانی ہمدردی کا بحران کم ہوگا اور جلد از جلد استحکام بحال ہوگا"۔
ماؤ نے خاص طور پر اسرائیل پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ "متعلقہ فریقین کوصبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا اور مزید اشتعال انگیزی سے بچنا چاہیے"۔
فلسطین کی سرکاری خبر ایجنسی 'وفا' کے مطابق فائر بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی فضائی حملے جاری ہیں۔ جمعرات کی صبح سے کئے گئے حملوں میں 5 بچوں سمیت کم از کم 15 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
فلسطین کے صحت کے حکام نے کہا ہےکہ اسرائیل نے مختلف حصوں میں بے گھر افراد کے خیموں، گھروں اور ایک اسکول کو نشانہ بنایا ہے۔
غزہ کے محکمہ صحت نے کہا ہےکہ اسرائیل 10 اکتوبر کو نافذ ہونے والی فائر بندی کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان خلاف ورزیوں کے دوران 425 فلسطینیوں کو قتل اور 1,206 کو زخمی کر چُکا ہے۔














