پاکستان
3 منٹ پڑھنے
پاکستان کے وزیر خارجہ بنگہ دیش کے دورے پر، جو کہ برسوں بعد اس سطح کا دورہ ہے
دو مسلم-اکثریتی ممالک کے درمیان متعدد معاہدوں سمیت تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے جانے کی توقع کی جا رہی ہے۔
پاکستان کے وزیر خارجہ بنگہ دیش کے دورے پر، جو کہ برسوں بعد اس سطح کا دورہ ہے
پاکستان اور بنگلہ دیش نے حال ہی میں تعلقات معمول پر لانے کی جانب پیش رفت کی ہے۔ / AA
23 اگست 2025

پاکستان کے وزیر خارجہ دونوں ممالک کے تعلقات کو دوبارہ جانبر کرنے کے زیر مقصد ہفتے کے روز بنگلہ دیش پہنچے ہیں۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار 2012 کے بعد ڈھاکہ کا دورہ کرنے والے پاکستان کے سب سے سینئر عہدیدار ہیں، اور اسلام آباد نے اس دورے کو پاکستان-بنگلہ دیش تعلقات میں ایک 'اہم سنگ میل' قرار دیا ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا کہ اسحاق  ڈار بنگلہ دیش کے عبوری رہنما محمد یونس سے ملاقات کریں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بڑھتے تعلقات پر پڑوسی ملک بھارت  جس نےمئی میں پاکستان کے ساتھ چار روزہ جنگ لڑی تھی، پر گہری نظر رکھے گا ۔

اگست 2024 میں بنگلہ دیش میں ایک بڑے عوامی احتجاج کے بعد وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا، جس کے بعد وہ بھارت فرار ہو گئیں۔ اس کے بعد ڈھاکہ اور نئی دہلی کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہو گئے۔

امریکہ کے ایک تجزیہ کار مائیکل کوگلمین نے اس دورے سے پہلے کہا، 'بنگلہ دیش بھارت کے قریبی ترین شراکت داروں میں سے ایک رہا ہے، اور اب وہ بھارت کے سب سے بڑے حریف کے ساتھ تعلقات بڑھا رہا ہے۔'

پاکستان اور بنگلہ دیش نے گزشتہ سال سمندری تجارت کا آغاز کیا اور فروری میں حکومت سے حکومت کے درمیان تجارت کو وسعت دی۔

پاکستان کے وزیر تجارت جام کمال خان نے جمعرات کو ڈھاکہ میں مذاکرات کیے، جہاں انہوں نے تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کمیشنز قائم کرنے پر اتفاق کیا۔

جمعہ کے روز دونوں ممالک کے اعلیٰ فوجی کمانڈرز نے پاکستان میں ملاقات کی۔

1971کی جنگ کے بعد، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش نے پاکستان سے آزادی حاصل کی، بنگلہ دیش نے بھارت پر انحصار کیا، جو تقریباً 17 کروڑ آبادی والے اس ملک کا پڑوسی ہے۔

تاہم، بنگلہ دیش کی عبوری حکومت، جس کی قیادت نوبل انعام یافتہ محمد یونس کر رہے ہیں، اس بات پر ناراض ہے کہ بھارت نے حسینہ کو پناہ دی، جہاں وہ اب بھی موجود ہیں اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر اپنے مقدمے میں شرکت سے انکار کر رہی ہیں۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے تھامس کین نے کہا، 'حسینہ کا تختہ الٹنا بھارت کے لیے ایک اسٹریٹجک دھچکا تھا، اور بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان بہتر تعلقات اس کا نتیجہ ہیں۔'

ڈھاکہ نے اس ماہ بھارت پر حسینہ کی اب کالعدم عوامی لیگ پارٹی کی حمایت کرنے کا الزام لگایا، جسے نئی دہلی نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ 'اپنی سرزمین سے دوسرے ممالک کے خلاف سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دیتا۔'

 

 

دریافت کیجیے
ایرانی رہنما: ایران دشمن کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا، ہم ہمسایہ ممالک سے معذرت خواہ ہیں
یوکرین کی ایک رہائشی عمارت پر روسی حملے میں متعدد افراد ہلاک
ایردوان اور میلونی نے مشرق وسطیٰ کے بڑھتے ہوئے بحران کے درمیان علاقائی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا
اقوام متحدہ کا مشرق وسطی میں پھیلتی ہوئی جنگ کے باعث 'سنگین انسانی ہنگامی صورتحال' کا اعلان
امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ کے پہلے 36 گھنٹوں میں 3,000 سے زیادہ فضائی حملے کیے: رپورٹ
چین: مشرقِ وسطیٰ میں احتیاط سے کام لیا جائے
یورپی یونین: ترک مصنوعات پر 'میڈ ان ای یو' لیبل چسپاں ہو گا
امریکہ: ہم بھارت کو چین کی طرح اپنا رقیب نہیں بننے دیں گے
امریکی تحقیقات میں ایرانی اسکول پر حملے میں امریکی کردار کی تائید ہوتی نظر آتی ہے — رپورٹ
نیپال میں 2025 کی بغاوت کے بعد پہلے پارلیمانی انتخابات
سعودی عرب نے 3 بیلسٹک میزائلوں کو ناکارہ کر دیا
ایران میں برّی کاروائی کا سوچنا فی الحال وقت کا زیاں ہو گا: ٹرمپ
اسرائیل: ہم نے، بیروت کے جنوبی مضافات پر، نئے فضائی حملے کئے ہیں
اسپین: ٹرمپ سے اپیلیں کرتے رہنا بالکل بے فائدہ ہے
ترک قومی خفیہ سروس کا شام میں کلیدی داعش آپریشن