حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کو بنگلہ دیش میں ریکٹر اسکیل پر 5.7 کی شدت کا زلزلہ آنے سے کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے، جن میں دارالحکومت ڈھاکہ میں تین شامل ہیں، اور تقریباً سو افراد زخمی ہوئے۔
ملک کے عبوری سربراہ محمد یونس کے دفتر کے بیان کے مطابق، کم از کم پانچ افراد، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے، ہلاک ہوئے اور ملک کے مختلف حصوں میں تقریباً 100 افراد زخمی ہوئے، جن میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبہ اور مرکزی اضلاع گازی پور اور نرسنگدی کے فیکٹری کارکن شامل ہیں۔
مقامی پولیس افسر اشیش بوسے نے بتایا ہے کہ ڈھاکہ کے بنگشال محلے میں ایک پانچ منزلہ عمارت کی ریلنگ گرنے سے تین افراد ہلاک ہوئے۔
محکمہ موسمیات بنگلہ دیش نے اطلاع دی ہے کہ یہ زلزلہ صبح کے وقت آیا اور اس کا مرکز نرسنگدی ضلع میں تھا، جو دارالحکومت ڈھاکہ سے تقریباً 50 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔
زلزلہ چند ہی سیکنڈز تک محسوس کیا گیا۔
اس کے باوجود ڈھاکہ کے رہائشی زمین ہلنے کے دوران عمارتوں اور گھروں سے باہر بھاگ آئے اور محفوظ مقام کی تلاش کرنے لگے کی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ زلزلے نے ملک کے مختلف اضلاع میں انسانی جانی نقصان کے علاوہ گھروں کے منہدم ہونے اور دیگر حادثات کا سبب بننے کے علاوہ مختلف علاقوں میں نقصانات کیے ہیں۔
ملکی سربراہ یونس نے اس خبر پر گہرے صدمہ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور نقصان کی حد کا اندازہ کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مقامی فائر ڈیپارٹمنٹ نے ڈھاکہ کے اندر اور باہر کم از کم سات عمارتوں کے متاثر یا نقصان زدہ ہونے کی اطلاعات دیں اور کم از کم ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔
زلزلہ ہمسایہ ملک بھارت کے بعض حصوں میں بھی محسوس کیا گیا۔















