ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان نے ترکیہ میں امریکی سفیر اور خصوصی ایلچی برائے شام ٹام باراک سے ملاقات کی ۔
ترک وزارت خارجہ نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر ایک خبر شیئر کی ہے جس میں مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔
باراک نے اسی پوسٹ کا حوالہ دیا اور کہا کہ آج وزیر خارجہ فیدان کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔
باراک نے ایکس پر کہا تھا کہ امریکہ نے اتوار کو شامی حکومت اور YPG کے درمیان نئے جنگ بندی اور انضمام کے معاہدے کا خیرمقدم کیا تھا اور یہ معاہدہ اور جنگ بندی ایک اہم موڑ کی نمائندگی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شامی صدر احمد الشراع نے تصدیق کی ہے کہ کرد آبادی شام کا لازمی حصہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جامع انضمام معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے کا مشکل کام اب شروع ہو رہا ہے اور امریکہ ہر مرحلے پر اس عمل کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
الشراع نے اتوار کو شامی حکومت اور وائی پی جی کے درمیان جامع جنگ بندی اور مکمل انضمام کے معاہدے کا اعلان کیا، جس میں ملک کے شمال مشرق میں ریاستی اختیار بحال کرنے کے لیے وسیع اقدامات کی وضاحت کی گئی ہے ۔
شامی عرب نیوز ایجنسی (سانا) کی شائع کردہ شرائط کے مطابق، معاہدہ تمام محاذوں اور حکومتی فورسز اور وائی پی جی کے درمیان رابطہ خطوط پر فوری اور جامع جنگ بندی کی شق فراہم کرتا ہے۔
یہ معاہدہ اس وقت نافذ العمل ہوگا جب YPG سے منسلک تمام فوجی دستوں کو دریائے فرات کے مشرقی علاقوں میں واپس بلایا جائے گا۔














