ترکیہ: ہم اسرائیل کی مخالفت کے باوجود غزہ میں اپنے فوجیوں کی تعیناتی کے لیے تیار ہیں
غّزہ جنگ
4 منٹ پڑھنے
ترکیہ: ہم اسرائیل کی مخالفت کے باوجود غزہ میں اپنے فوجیوں کی تعیناتی کے لیے تیار ہیںجمعہ کی شام ترک  نجی ٹی وی چینل NTV سے بات کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ کہا کہ اسرائیل غزہ میں ترکیہ کی شمولیت سے متعلق 'ہر چیز' کی مخالفت کر رہا ہے، مگر انہوں نے اصرار کیا کہ انقرہ کی کوششیں جاری رہیں گی۔
ہاکان فیدان کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ میں ترکیہ کی شمولیت سے متعلق "ہر چیز" کے خلاف ہے، لیکن انہوں نے زور دیا ہے کہ انقرہ کی کوششیں جاری رہیں گی۔ / Reuters
24 جنوری 2026

وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا  ہے کہ اگر حالات اجازت دیں  توترکیہ غزہ کو فوج بھیجنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انقرہ براہِ راست کردار ادا کرنے کا عزم رکھتا ہے حالانکہ اسرائیل مخالفت کر رہا ہے، اور ساتھ ہی وہ جنگ کے بعد حکمرانی، انسانی امداد اور وسیع علاقائی سفارت کاری کے منصوبے بھی بیان کیے۔

جمعہ کی شام ترک  نجی ٹی وی چینل NTV سے بات کرتے ہوئے فیدان نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں ترکیہ کی شمولیت سے متعلق 'ہر چیز' کی مخالفت کر رہا ہے، مگر انہوں نے اصرار کیا کہ انقرہ کی کوششیں جاری رہیں گی۔

'اگر حالات موزوں بنے  تو ہمارے پاس فوجی تعاون فراہم کرنے کی خواہش موجود ہے' ۔

فیدان نے غزہ کو ترکیہ کی سب سے فوری ترجیح قرار دیا اور کہا کہ علاقے میں حکمرانی اور انتظام کی نگرانی کے لیے ایک نئے 'بورڈ آف پیس' ڈھانچے کی تیاری جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ مختلف کمیٹیاں غزہ کی قومی خواہش کی نمائندگی اور روزمرہ انتظامات سنبھالنے کی ذمہ دار ہوں گی۔

غزہ کی مدد کے لیے ترکیہ کی کوششیں

انہوں نے کہا کہ انسانی امدادی کام بغیر رکاوٹ جاری ہیں اور رفح بارڈر کراسنگ اگلے ہفتے کے آغاز پر دوبارہ کھل سکتی ہے۔

بے گھر فلسطینی خیموں میں سخت سردی کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے ترکیہ کنٹینر ہاؤسنگ پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ترک ریڈ کریسنٹ امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

وزیر فیدان نے یہ سوال کہ کیا حماس ہتھیار ڈال دے گی؟ کے جواب میں کہا کہ یہ معاملہ کسی بھی وسیع تر روڈ میپ کا حصہ ہونا چاہیے اور زور دیا کہ انقرہ کی اولین ترجیح یہ یقینی بنانا ہے کہ غزہ کی آبادی اپنی زمین پر برقرار رہے۔

کیا اسرائیل ایران پر حملہ کرے گا؟

فیدان نے کہا کہ ایسے اشارے ہیں کہ اسرائیل ابھی بھی ایران پر حملہ کرنے کا موقع تلاش کر رہا ہے، انہوں نےخبردار کیا کہ ایسا اقدام خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'میں امید کرتا ہوں کہ وہ مختلف راستہ اختیار کریں گے، مگر حقیقت یہ ہے کہ خصوصاً اسرائیل ایران پر ضرب لگانے کا موقع تلاش کر رہا ہے۔

شام میں لڑائی

شام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے  فیدان نے کہا کہ YPG اور دمشق کے درمیان چار روزہ جنگ بندی نازک حالت میں ہے اور اسے بڑھانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، خاص طور پر جب داعش کے قیدی شام سے عراق منتقل کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترکیہ اس جنگ  کو روکنے کے لیے فعال سفارتی کوششوں  میں مصروف  ہے اور امید ہے کہ ایک معنی خیز مکالمے کا عمل سامنے آئے گا۔

فیدان نے کہا کہ YPG کے کنٹرول میں حالیہ کمزوری حیران کن نہیں تھی، اور دعوی کیا  کہ ترکیہ طویل عرصے سے عرب اکثریتی علاقوں میں YPG کے زیرِ قبضہ علاقوں کی  حرکات و سکنات، قبائلی ڈھانچے اور مقامی بغاوتوں کے خطرات کا اندازہ لگاتا رہا ہے۔

انہوں نے انقرہ کے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ YPG مکمل طور پر شمالی عراق میں مقیم پی کے کے قیادت کے ماتحت ہے اور غیر شامی PKK دہشت گردوں کو شام چھوڑنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ شنجار میں PKK کی موجودگی 'قابلِ برقرار نہیں' ہے اور خبردار کیا کہ تنظیم کو زوال پذیری  سے بچنے کے لیے خود کو تبدیل کرنا ہوگا۔

فیدان نے YPG کو خبردار کیا کہ وہ انقرہ کے پیغامات کو نظر انداز نہ کرے اور خود کو بیرونی طاقتوں کے ایجنڈوں میں پھنسنے کی اجازت نہ دے۔

عالمی طاقت کی سیاست میں 'خطرناک دور'

وزیر خارجہ نے خبردار کیا  خطے کے باہر، جہاں بڑی طاقتیں غیر یقینی پیدا کر رہی ہیں اور قواعد پر مبنی نظام کو کمزور کر رہی ہیں ، عالمی طاقتوں کی سیاست ایک خطرناک دور میں داخل ہو رہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اس کے باعث 'مڈل پاورز' کے درمیان تعاون مزید اہم ہو گیا ہے، انہوں نے  ترک  کے طویل المدت انتباہات کا اعادہ کیا اور کہا عالمی نظامی انحطاط کے آثار نظر آ رہے ہیں۔

فیدان نے کہا کہ ترکیہ قطب پذیری میں گراوٹ لانے کے لیے وسیع علاقائی اتحاد بنانے کو ترجیح دیتا ہے، چاہے یہ ابتدا میں ایک چھوٹے کور گروپ کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ حاصل کرنے کی ضد پر تبصرہ کرتے ہوئے، فیدان نے کہا کہ ایسے علاقائی نقصان سے اتحادوں کے خاتمے کا اشارہ ملے گا، انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کی اسٹریٹجک خواہشات کوئی راز نہیں ، تا ہم انہوں  اس کے مغربی اتحاد کی یکجہتی پر ممکنہ نتائج کے بارے میں خبردار کیا۔

 

دریافت کیجیے
جنوبی کوریائی دفاعی فرم کا ناروے کو راکٹ فروخت کرنے کا معاہدہ
امریکہ: بھارت، ایران کی بجائے ونیزویلا سے تیل خریدے گا
ترکیہ: جمہوریہ کانگو کے ساتھ اظہارِ تعزیت
بھارت کے وزیر اعظم دورہ اسرائیل کے دوران ناچے اور گانا گایا
ایران: مذاکرات کے لیے ایک 'منظم فریم ورک' 'تشکیل پا رہا  اور آگے بڑھ رہا ہے
ترکیہ: اسرائیلی کاروائیاں بین الاقوامی کوششوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں
انڈونیشیا میں لرزشِ اراضی کے واقعات میں اموات کی تعداد کم از کم 64 ہو گئی
اسرائیل نے غزہ میں فائر بندی کے باوجود کم از کم 12 فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا
شام کے ایس ڈی ایف کے ساتھ انضمام کے معاہدہ پیر سے نافذ ہو جائے گا
امریکی محکمہ انصاف کی طرف سے ایپسٹین کیس سے متعلق 3 ملین نئے صفحات کا اجراء
روس نے ٹرمپ کی درخواست پر یوکرینی دارالحکومت کیف پر حملوں کو روک دیا
اسرائیل نے غزہ میں 70,000 سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکت کا اعتراف کر لیا
امریکہ نے ایران کے خلاف مشرق وسطی میں ایک اور جنگی جہاز تعینات کیا ہے — رپورٹ
چین نے 11 مجرموں کو سزائے موت دے دی
ایران: ٹرمپ جنگ شروع کر سکتے ہیں اسے قابو میں نہیں رکھ سکتے