غّزہ جنگ
3 منٹ پڑھنے
استنبول اور یورپ بھر میں عالمی صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کے خلاف احتجاج
استنبول میں سینکڑوں افراد  نے امریکی قونصل خانے کے باہر جمع ہو کر غزہ کی جانب عازمِ سفر "گلوبل صمود فلوٹیلا" پر اسرائیلی حملے کے خلاف احتجاج کیا
استنبول اور یورپ بھر میں عالمی صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کے خلاف احتجاج
Protest to condemn the interception of the vessels of the Global Sumud Flotilla, in Rome / Reuters

ترکیہ کے شہر استنبول میں سینکڑوں افراد  نے امریکی قونصل خانے کے باہر جمع ہو کر غزہ کی جانب عازمِ سفر "گلوبل صمود فلوٹیلا" پر اسرائیلی حملے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

ٹی آر ٹی ورلڈ کی موقع سے جاری کردہ  خبر کے مطابق مظاہرین نے نعرے لگائے، غزہ کے فلسطینیوں کے لیے دعا کی اور بین الاقوامی برادری سے  اس واقعے کو نسل کشی قرار دے کر اس کے خلاف آواز اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی طرح کے احتجاجی مظاہرے یورپ کے مختلف شہروں میں بھی دیکھے گئے ہیں۔

روم میں، طلباء اور مقامی یونین  اراکین سمیت، سینکڑوں مظاہرین  'پیازا دی چنکوچینٹو 'میں ٹرمنی اسٹیشن کے سامنے جمع ہوئے۔ مظاہرین نے ٹریفک بلاک کر دی اور 'فلوٹیلا اور فلسطین کے لیے سب کچھ روک دو" کے نعرے لگائے۔

 پولیس نے میٹرو اسٹیشن بند کر دیئے اور ٹرمنی اسٹیشن تک پہنچنے کے راستے بھی بند کر دیئے۔ احتجاجی مظاہرے کے  منتظمین نے کہا ہے کہ تقریباً 1,000 مظاہرین پیازا باربرینی کی طرف مارچ  کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اطالوی مزدور یونینوں،' یونین سینڈاکالے دی باسے (USB)' اور 'کنفیڈریشن جنرل اطالیانا دیل لاوورو (CGIL)'، نے اس واقعے کے ردعمل میں 3 اکتوبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

بارسلونا میں، سینکڑوں افراد نے غزہ کے فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور  اسرائیلی قونصل خانے کے باہر جمع ہو کر  صمود فلوٹیلا میں مداخلت کی مذمت کی ہے۔

اسی طرح کے مظاہرے برلن میں بھی ہوئے، جہاں درجنوں افراد سینٹرل اسٹیشن پر جمع ہوئے۔ برسلز میں مظاہرین نے پلیس دی بورس سے بیلجیئم کی وزارت خارجہ تک مارچ کی۔ لندن میں بھی سرگرم کارکنوں نے جمعرات کو احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

فلوٹیلا پر حملہ

گلوبل صمود فلوٹیلا کے منتظمین نے کہا  ہےکہ اسرائیلی بحری فوج نے مواصلاتی رابطے منقطع کرنے کے بعد بین الاقوامی پانیوں میں قافلے کو روک دیا۔ غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لیے قائم کی گئی ' بین الاقوامی کمیٹی (ICBSG) 'نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے الما اور سیریئس جہازوں پر چڑھائی کی ہے۔

سرگرم کارکنوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیو مناظر  پوسٹ کئے ہیں  جن میں اسرائیلی کشتیاں قافلے کے قریب آتی اور جہازوں کو راستہ بدلنے کا حکم دیتی دکھائی دے رہی ہیں۔

یہ قافلہ، جو انسانی امداد اور طبی سامان لے کر جا رہا تھا، اگست کے آخر میں روانہ ہوا اور معمول کے حالات میں اِسے جمعرات کی صبح غزہ کے ساحل تک پہنچنا تھا۔

کئی سالوں میں غزہ کے لیے اتنا بڑا امدادی قافلہ بھیجنے کی یہ پہلی کوشش تھی، جس میں 50 کے قریب جہاز اور 45 سے زائد ممالک کے 532 شہری شامل تھے۔

یاد رہے کہ غزہ کے 24 لاکھ فلسطینی تقریباً 18 سال سے اسرائیلی محاصرے میں ہیں۔

https://www.trtworld.com/article/742bab0cf066

دریافت کیجیے
ایران: "امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں"
غزہ میں جنگ بندی مستقل طور سے بحال کروائی جائے: گوتیرس
اتحادی افواج کا یمن میں  آپریشن، حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے
"مکہ معاہدہ" سیکریٹری جنرل نعمان محمود ہونگے
ماسکو پر 650 ڈرونز سے حملہ،  روس کے خلاف گزشتہ دو برسوں میں بڑا ترین دوسرا حملہ تھا
ترکیہ کا ردعمل: اسرائیل، شام میں کاروائیاں کرنا بند کرے
فرانس:طلباء کی احتجاجی تحریک جاری، 500 ہائی اسکول بند ہو گئے
رونالڈو اگر چاہیں تو پرتگال ٹیم میں واپس آ سکتے ہیں:ہیڈ کوچ
روس میں لیبارٹری ملازمہ کی مشکوک موت سے وبا کا خدشہ پیدا
دہشتگردی کا خطرہ،امریکہ نے B-1 طیارے برطانیہ سے ہٹا دیئے
قاتل اسرائیل، 2023 سے اب تک، مقبوضہ مغربی کنارے پر تقریباً 63 ہزار حملے کر چکا ہے
ترکیہ: 21 ممالک نے انطالیہ اعلامیہ منظور کر دیا
حماس کے رہنما کے قتل کی ناکام کوشش  عیسائی ماں اور بیٹی ہلاک
غیر ملکی شہری اور سفارت کار کیف چھوڑ دیں:روس
ٹرمپ:ایران جوہری ہتھیار کے منصوبے سے تقریباً دستبردار ہو چکا ہے