یورپی یونین کی سربراہ برائے خارجہ پالیسی 'کایا کالاس' نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے، گرین لینڈ کے معاملے میں آٹھ ملکوں پر محصولات عائد کرنے کے، منصوبے پر تنقید کی اور کہا ہےکہ اتحادیوں کے درمیان اختلافات سے روس اور چین فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
کایا کالاس نے ہفتے کو ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "چین اور روس شاید بہت خوش ہوں گے۔اگر گرین لینڈ کی سکیورٹی کو خطرہ ہے تو اتحادی ممالک نیٹو کے اندر اسے حل کر سکتے ہیں۔ محصولات، یورپ اور امریکہ کو غریب تر بنا سکتے ہیں اور ہماری مشترکہ خوشحالی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں"۔
کالاس نے مزید کہا ہے کہ "ہم اپنے تنازعے کو ہماری توجہ کو ، روس۔ یوکرین جنگ کے خاتمے میں مدد پر مبنی، بنیادی کام سے ہٹانے کی اجازت نہیں دے سکتے "۔
یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوستا اور کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیئن نے کہا ہے کہ نئے محصولات یورپ اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو کمزور کریں گے اور "خطرناک تنّزلی دور" کا خطرہ پیدا کریں گے۔
یہ ردِ عمل ، ٹرمپ کےجاری کردہ اور واشنگٹن کےیکم فروری سے آٹھ یورپی ممالک کے مال پر نئے محصولات عائد کرنے اور جون میں ان محصولات کی شرحوں میں تیزی سے اضافے کے الفاظ پر مبنی بیان کے بعد سامنے آیا ہے۔ ٹرمپ نے ان محصولات کی وجہ گرین لینڈ سے منسلک "قومی سلامتی"کے خدشات بتائی تھی۔
اپنے باپ کو غصّہ نہ دِلاو
دریں اثنا، روس کے صدارتی ایلچی اور روس کے براہ راست سرمایہ کاری فنڈ کے سربراہ کریل دمتریئف نے، گرین لینڈ تنازعے کے باعث آٹھ یورپی ممالک پر نئے محصولات عائد کرنے کے حوالے سے یورپ کو خبردار کیا اور کہا ہے کہ اسے "اپنے باپ" کو اشتعال میں نہیں لانا چاہیے ۔
دمتریئف نے ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "ٹرمپ نے، گرین لینڈ میں فوج بھیجنے کو وجہ دِکھا کر، برطانیہ، ڈنمارک، فرانس، جرمنی، فن لینڈ، نیدرلینڈز، اور ناروے پر 10% محصولات عائد کر دیے ہیں۔ یہ محصولات ، گرین لینڈ بھیجے گئے فی کس فوجی کےلئے 1% کے برابر بنتے ہیں"۔
واضح رہے کہ گرین لینڈ، جو ڈنمارک کے اندر ایک خودمختار علاقہ ہے، اپنے اسٹرٹیجک محل وقوع اور وسیع معدنی وسائل اور روسی اور چینی سرگرمیوں سے متعلق خدشات کے باعث امریکی توجہ کا مرکز بن گیا ہے ۔
ٹرمپ نے بار ہا کہا ہے کہ امریکہ کو قومی سلامتی کے لیے اور روس اور چین کو اس علاقے پر قبضے سے روکنے کے لیے گرین لینڈ حاصل کرنا چاہیے۔
ڈنمارک اور گرین لینڈ نے علاقے کو بیچنے کی تجاویز مسترد کر دیں اور جزیرے پر ڈنمارک کی خودمختاری کی دوبارہ تصدیق کی ہے۔











