جب پاکستان نے ٹی20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف کھیلنے کا فیصلہ کیا تو کولمبو اور پورے جنوبی ایشیا میں جوش عروج پر پہنچ گیا ہے، جس نے کرکٹ کے سب سے منافع بخش مقابلے کو جانبر کر دیا۔
اتوار شام کے میچ کی تصدیق پیر کی دیر شام کو ہونے کے باوجود دنیا کے کرکٹ کے سب سے مانگ والے ٹکٹ حاصل کرنا مشکل رہا۔
کولمبو اسٹیڈیم، جس کی گنجائش 35,000 ہے کے ٹکٹ مکمل طور پر فروخت ہو گئے، ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ بلیک مارکیٹ میں ٹکٹیں اصل قیمت کے کم از کم چار گنا تک بک رہی ہیں۔
متعدد بکنگ سائٹس کے مطابق کولمبو جانے والی پروازوں اور ہوٹل بکنگز کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں؛ ہوٹل کے کمرے کا یومیہ کرایہ عام طور پر تقریباً 100تا 150 ڈالر ہونے سے بڑھ کر بعض مقامات پر 660 ڈالر تک جا پہنچا ہے۔
چنئی سے پروازیں، جو تقریباً ڈیڑھ گھنٹے دوری پر ہے، تین گنا سے زائد ہو کر تقریباً 623 –ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ دہلی سے پروازیں 50 فیصد سے زیادہ بڑھ کر لگ بھگ 666 ڈالر تک جا پہنچیں۔
ٹور آپریٹرز یونین کے صدر کا کہنا ہے کہ ہوٹلز بک ہو چکے ہیں۔ "زیادہ تر شائقین آل انکلوسِو پیکجز کے ساتھ آ رہے ہیں جو ٹکٹ، ہوٹل اور پروازوں کی قیمتوں کے لحاظ سے 1,500تا2,000 ڈالر حتی اس سے بھی زیادہ ہیں۔"
فروری کے پہلے 10 دنوں میں تقریباً 100,000 زائرین میں سے لگ بھگ 20 فیصد لوگ بھارت-پاکستان سے کرکٹ میچ دیکھنے آئے ہیں۔
کروڑوں کی تعداد میں لوگ یہ میچ بھارت، پاکستان اور دیگر جگہوں پر ٹی وی پر دیکھیں گے، جس نے ٹورنامنٹ کو تقویت بخشی ہے۔
مسئلہ کشمیر
اس بلند داؤ والے مقابلے میں ہر گیند اور شاٹ پر تالیاں یا نعرہ بازی کی توقع کی جا رہی ہے، کیونکہ جوہری صلاحیت کے حامل جنوبی ایشیائی پڑوسیوں کی رقابت 1947 میں برطانوی ہندوستان کی تقسیم، بعد ازاں ہونے والی جنگوں (1947، 1965، 1971، اور 1999) اور کشمیر کے جاری تنازعے میں جڑی ہوئی ہے۔
گروپ اے میں دونوں ٹیمیں اپنے دو، دو میچ جیت چکی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ جیتنے والی ٹیم کی عموماً سپر ایٹس میں جگہ یقینی بن جائیگی۔
یہ دونوں کڑے حریف آج کل صرف عالمی یا علاقائی ٹورنامنٹس میں اور صرف غیر جانبدار میدانوں میں آمنے سامنے آتے ہیں۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان آخری ٹیسٹ میچ ہوئے 18 سال سے زیادہ ہو چکے ہیں، اور دوطرفہ سیریز کھیلنے کے لیے سرحد عبور کیے ہوئے 13 سال گزر چکے ہیں۔
گزشتہ ستمبر دبئی میں ہونے والے ٹی20 ایشین کپ میں یہ دونوں حریف ملک تین مرتبہ مدمقابل آئے، جن میں بشمول فائنل کے ہر بار بھارت فاتح رہا ۔
اتوار کے مقابلے کے لیے ٹی وی ناظرین کی تعداد کے ریکارڈ ٹوٹنے کی پیشگوئی کی جا رہی ہے۔
ہندوستان-پاکستان میچوں کے لیے اکثر اوقات ایک ارب سے زائد ناظرین کی بے بنیاد اندازے بازی کی جاتی ہے۔
تاہم، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) کے تصدیق شدہ اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ دیکھا جانے والا میچ 2011 کا ون ڈےورلڈ کپ کا فائنل تھا جو ممبئی میں بھارت اور سری لنکا کے درمیان ہوا، جسے 558 ملین منفرد ناظرین نے دیکھا۔
اس ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں بھارت کی پاکستان کے خلاف فتح دوسرے نمبر پر ہے، جسے 495 ملین ناظرین نے دیکھا۔
یہ میچ اشتہارات، نشریاتی حقوق، اسپانسرشپ اور سیاحت سے کئی ملین ڈالر کی آمدنی پیدا کرے گا۔
تاہم، عالمی کرکٹ کا سب سے بڑا اور سب سے منافع بخش مقابلہ صرف ایک ہنگامی و متحرک ویک اینڈ مذاکرات کے بعد بحال ہوا۔
بنگلہ دیش اور سری لنکا کی حکومتوں نے پیر کو اسلام آباد میں اپنے ہم منصب کو خط لکھ کر اپیل کی کہ وہ اپنا موقف بدلیں اور میچ کے انعقاد کی اجازت دیں۔ انہیں آدھی رات سے ٹھیک پہلے اپنی خواہش پوری ہوتی ہوئی ملی۔
پاکستان حکومت نے کہا کہ "کثیرالجہتی مذاکرات اور دوستانہ ممالک کی درخواست کے بعد، حکومتِ پاکستان پاکستان نیشنل کرکٹ ٹیم کو ہدایت دیتی ہے کہ وہ 15 فروری کو میدان میں اترے"۔ کہا گیا کہ یہ فیصلہ "کرکٹ کے جذبے کے تحفظ" کے مقصد کے تحت لیا گیا ہے۔
"کوئی مصافحہ نہیں" پالیسی
20 ٹیموں کے اس ٹورنامنٹ پر تلخ سیاسی خلفشار کا سایہ رہا۔
بنگلہ دیش، جنہوں نے سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت میں کھیلنے سے انکار کیا، کی جگہ اسکاٹ لینڈ نے لے لی۔
احتجاج کے طور پر حکومتِ پاکستان نے ٹورنامنٹ کے آغاز کے پیشِ نظر ٹیم کو بھارت کے خلاف کھیلنے سے روک دیا، تاہم آٹھ دن بعد یہ پیچھے ہٹ گئی۔
دو طرفہ دیرینہ رقابت غیر کھیل کے ماحول میں بھی دکھائی دیتی ہے، خاص طور پر 2025 سے نافذ بھارت کی "کوئی مصافحہ نہیں" پالیسی۔
14 ستمبر 2025 کو بھارتی کپتان سوریہ کمار یادو نے ٹاس سے قبل روایتی مصافحے سے انکار کر دیا، اور بھارت کی سات وکٹ کی فتح کے بعد پوری بھارتی ٹیم میچ کے بعد مصافحے کے بغیر میدان سے چلی گئی، پاکستانی کھلاڑی میدان میں انتظار کرتے رہے۔
یادو نے بعد میں اس فیصلے کو بھارتی حکومت اور بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (BCCI) کے ساتھ ہم آہنگی میں ایک جان بوجھ کر اپنایا گیا موقف قرار دیا، جو ICC پر کافی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔
پاکستان نے مایوسی کا اظہار کیا؛ کوچ مائیک ہیسن نے اس سلوک کو "مایوس کن" اور کھیل کے جذبے اور مقصد کے منافی قرار دیا، جبکہ کپتان سلمان علی آغا نے ایک میچ میں احتجاجاً میچ کے بعد ہونے والی تقریب میں شرکت نہیں کی۔
یہ واقعہ بعد کے ایشیا کپ میچوں میں بھی دہرایا گیا، مثلاً 21 ستمبر 2025 کو، جس سے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے۔
بھارت کا پاکستان کا آخری کرکٹ دورہ 2008 میں ایشیا کپ کے لیے تھا۔ اس کے بعد بھارتی ٹیم نے کسی بھی کرکٹ مقابلے کے لیے پاکستان کا دورہ نہیں کیا، چاہے وہ دوطرفہ سیریز یا کثیر فریقی ٹورنامنٹ ہو۔
نتیجتاً، بھارت-پاکستان کرکٹ ملاقاتیں بڑے ICC یا ایشیائی کرکٹ ایونٹس میں غیر جانبدار مقامات تک محدود رہی ہیں۔
اسی دوران، لاہور کے رہائشی میاں سلطان سری لنکا کے اپنے سفر اور میچ دیکھنے کے لیے پُرجوش ہیں۔
سلطان نے کہا کہ "میرے خیال میں یہ ایک شاندار موقع ہوگا،" انہوں نے میچ دیکھنے کے لیے وی آئی پی سیٹ کے لیے اپنے دوست جو کہ نیو زی لینڈ سے آیا ہے کے ہمراہ 800 ڈالر خرچ کیے۔
"میں واقعی اس میچ کے لیے بہت پرجوش ہوں۔"
سلطان نے مزید کہا کہ انہیں یقین ہے کہ پاکستان "یقینی طور پر" اتوار کے روز برتری قائم کر سکتا ہے۔







