مصنوعی ذہانت کو چند ارب پتیوں کی ملکیت نہیں بننا چاہیئے:گوٹیرس
اقوام متحدہ کے سربراہ نے ٹیک ٹائیکونز سے اپیل کی ہے کہ وہ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ٹیکنالوجی تک سب کے لیے کھلی رسائی یقینی بنانے کے لیے 3 ارب ڈالر کے عالمی فنڈ کی حمایت کریں۔
مصنوعی ذہانت کو چند ارب پتیوں کی ملکیت نہیں بننا چاہیئے:گوٹیرس
بھارت / Reuters
15 گھنٹے قبل

اقوامِ متحدہ کے سربراہ انتونیو گوٹیریس نے تکنیکی رہنماؤں کو مصنوعی ذہانت کے خطرات کے حوالے سے خبردار کیا، اور کہا کہ اس کا مستقبل "چند ارب پتیوں کی من مانیوں" کے سپرد نہیں ہونا چاہیے۔

جمعرات کو بھارت میں ایک عالمی AI سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے ٹیکنالوجی کے ارب پتیوں سے اپیل کی کہ وہ تیزی سے آگے بڑھتی ہوئی اس ٹیکنالوجی تک سب کے لیے دستیاب رسائی کو یقینی بنانے کے لیے 3 ارب ڈالر کے عالمی فنڈ کی حمایت کریں۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سب کی ملکیت ہونی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا، "AI کا مستقبل چند ممالک کے ہاتھوں طے نہیں ہو سکتا  یا چند ارب پتیوں کی من مانیوں کے حوالے نہیں چھوڑا جا سکتا، اور خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو دنیا میں عدم مساوات گہری ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صحیح انداز میں کیا جائے تو AI طبی جدیدت میں تیزی لا سکتی ہے، تعلیمی مواقع بڑھا سکتی ہے، غذائی سلامتی کو مضبوط کر سکتی ہے، موسمیاتی اقدامات اور آفات کی تیاری کو بہتر بنا سکتی ہے اور ضروری عوامی خدمات تک رسائی بہتر کر سکتی ہے  لیکن یہ عدم مساوات کو گہرا بھی کر سکتی ہے، تعصب کو بڑھا سکتی ہے اور نقصان پہنچا سکتی ہے۔

اقوامِ متحدہ نے انقلابی نوعیت کی اس ٹیکنالوجی کے بارے میں ممالک کی رہنمائی کے لیے ایک سائنسی مشاورتی ادارہ قائم کیا ہے۔

گوٹیریس نے خبردار کیا کہ لوگوں کو استحصال سے بچایا جانا چاہیے اور کہا کہ کسی بھی بچے کو غیر منظم AI کے تجربے کے لیے بطور آزمائشی مضمون استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے نگرانی اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی رہنما ضوابط کے نفاذ اور بنیادی صلاحیتیں تیار کرنے کے لیے عالمی فنڈ برائے AI" کے قیام کا مطالبہ کیا۔

دوسری  جانب، فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے کہا کہ وہ تیزی سے بدلتی ہوئی اس ٹیکنالوجی کی محفوظ نگرانی کو یقینی بنانے کے  عزم کے حامل ہیں۔

یورپی یونین نے عالمی ضوابط کے لیے راہنمائی کی ہے اور اس کا "مصنوعی ذہانت کا قانون" 2024 میں منظور ہوا تھا اور یہ مرحلہ وار نافذ ہو رہا ہے۔

میکرون نے کہا کہ ہم کھیل کے قواعد کو تشکیل دیتے رہنے کے لیے پرعزم ہیں ۔

 انہوں نے کہا کہ یورپ محض ضوابط پر اندھا اعتبار نہیں کر رہا ، یورپ اختراع اور سرمایہ کاری کے ساتھ ایک محفوظ  خطہ  بھی ہے۔

نئی دہلی میں AI امپیکٹ اجلاس  سے خطاب کرتے ہوئے میکرون نے کہا کہ فرانس "AI سائنسدانوں اور انجینئروں کی تیاری کی تعداد دگنی کر رہا ہے اور اس شعبے میں نئی اسٹارٹ اپ کمپنیوں نے لاکھوں روزگار پیدا کیے ہیں۔

گزشتہ ماہ، فرانسیسی قانون سازوں نے ایک بل منظور کیا جو 15 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرے گا،یہ اب سینیٹ کی منظور ی کا منتظر ہے ، اس سے پہلے دسمبر میں آسٹریلیا کی طرف سے اسی نوعیت کی پابندی نافذ کی گئی تھی۔

بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سب کے لیے کھلی ہونی چاہیے۔

ہندی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے مودی نے کہاکAI کو جمہوری بنایا جانا چاہیے تاکہ انسان صرف AI کے لیے ایک ڈیٹا پوائنٹ نہ بن جائیں یا AI کے لیے خام مال نہ رہیں۔"

انہوں نے کہا کہ ہمیں AI کو جمہوری بنانا ہوگا، یہ خصوصاً گلوبل ساؤتھ یعنی عالمی جنوبی ممالک کے لیے شمولیت اور بااختیار بنانے کا ذریعہ بنے، ۔"

AI امپیکٹ  اجلاس  اس شعبے پر مرکوز چوتھا سالانہ بین الاقوامی اجلاس ہے۔

 

دریافت کیجیے