عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش میں حال ہی میں تصدیق شدہ تین نپاہ وائرس کے کیسز کے بعد اس مہلک وائرس کے پھیلنے کا خطرہ کم ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، نپاہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، اس کی کوئی ویکسین نہیں ہے جبکہ اموات کی شرح 40 سے 75 فیصد کے درمیان ہے۔
گزشتہ چند ہفتوں میں نپاہ کے تین کیسز بھارت میں دو اور ایک بنگلہ دیش میں خبروں کی زینت بنے اور وسیع پیمانے پر وبا کے بارے میں تشویش پیدا کی۔
عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گھیبریئس نے جنیوا میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ عالمی ادارۂ صحت نے نپاہ وائرس کے علاقائی اور عالمی پھیلاؤ کے خطرے کا جائزہ لیا اور اسے کم قرار دیا۔
بھارتی ریاست مغربی بنگال میں پچھلے ماہ نپاہ کے دو کیسز کی تصدیق ہوئی تھی، جب کہ پچھلے ہفتے بنگلہ دیش میں ایک مریض نپاہ وائرس کے باعث چل بسا۔
نپاہ کو پہلی بار 1998 میں سامنے آئی تھی جب یہ ملائیشیا میں سور پالنے والے کسانوں کے درمیان پھیلی تھی۔
بھارت میں نپاہ کا پہلا واقعہ 2001 میں مغربی بنگال میں رپورٹ ہوا تھا۔
2018 میں کیرالہ میں کم از کم 17 افراد نپاہ سے ہلاک ہوئے تھے، اور 2023 میں اسی جنوبی بھارتی ریاست میں وائرس سے دو افراد کی موت ہوئی۔
علامات میں شدید بخار، متلی اور تنفسی انفیکشن شامل ہیں، لیکن سنگین کیسز میں دورے اور دماغی سوزش ہو سکتی ہے جو کوما کا باعث بن سکتی ہے۔










