امریکہ کو، ایران پر 4 روزہ حملوں میں تقریباً 2 بلین ڈالر مالیت کے فوجی سازوسامان کا نقصان ہو چُکا ہے۔
ترکیہ کی اناطولیہ خبر ایجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ کو ہفتے کے دن سے ایران پر جاری حملوں میں 2 بلین ڈالر مالیت کا عسکری نقصان ہو چُکا ہے۔اس نقصان میں سب سے بڑا حصّہ قطر کے العُبید فضائی اڈے پر نصب امریکی ساختہ AN/FPS-132 ابتدائی وارننگ ریڈار سسٹم کا ہے۔ 1.1 بلین ڈالر مالیت کے اس راڈار سسٹم کو ایران نے ہفتے کے دن میزائل حملے میں نشانہ بنایا تھا۔ قطر نے، ریڈار پر حملے کی اورحملے میں راڈار کو نقصان پہنچنے کی، تصدیق کی ہے۔
اتوار کے دن کویت فضائی دفاعی نظام کی فائرنگ میں حادثاتی طور پر3 عدد F-15E اسٹرائیک ایگل طیارے نشانہ بن گئے تھے۔ اگرچہ تینوں طیاروں کا 6 رُکنی عملہ زندہ بچ گیا تھا لیکن طیارے تباہ ہو گئے تھے۔ طیاروں کی مالیت اندازاً 282 ملین ڈالر ہے۔
ایران نے ہفتے کے دن شروع کئے گئے جوابی حملے میں بحرین کے دارالحکومت منامہ میں امریکی نیول فِفتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دو سٹیلائٹ کمیونیکیشن ٹرمینل اور متعدد بڑی عمارتیں تباہ ہو گئی تھیں۔
آزاد ذرائع کی انٹیلی جنس خبروں کے مطابق نشانہ بنائے گئے SATCOM ٹرمینل AN/GSC-52B ٹرمینل تھے جن کی لاگت، تعیناتی و تنصیباتی مالیت سمیت، تقریباً 20 ملین ڈالر بتائی گئی ہے۔
ایران نے ، متحدہ عرب امارات کے صنعتی شہر 'الرویس' میں نصب THAAD اینٹی بیلسٹک میزائل نظام کے AN/TPY-2 ریڈار کے ایک جزو کو تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔آزاد ذرائع کے سیٹلائٹ مناظر میں بھی حملہ ٹھیک ہدف پر لگتا دِکھائی دے رہا ہے۔ راڈار کے تباہ ہونے والے حصّے کی قیمت کا تخمینہ 500 ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔
اس پورے نقصان کو ملا کر دیکھا جائے تو ایران نے خطے میں امریکی فوجی اثاثوں کو تقریباً 1.902 بلین ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے۔
امریکی اڈوں پر حملے
ایران نے، ہفتے کے دن سے جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں اب تک مشرقِ وسطیٰ میں کم از کم 7 امریکی فوجی مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ ان عسکری مقامات میں بحرین میں امریکی فِفتھ فلیٹ کا ہیڈکوارٹر، کیمپ عریفجان، کویت میں علی السالم ایئر بیس اور کیمپ بیئرنگ، عراق میں اربیل بیس، متحدہ عرب امارات کی جبلِ علی بندرگاہ کہ جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحریہ کے زیرِ استعمال سب سے بڑا بندرگاہی مقام ہےاور قطر میں العُبید فضائی اڈا شامل ہیں۔
گذشتہ روز کے ایرانی حملے کے بعد کویت میں لی گئی تصاویر میں علی السالم ایئر بیس کی متعدد جگہوں پر چھتیں منہدم شدہ حالت میں دِکھائی دے رہی ہیں ۔ کیمپ عریفجان میں امریکی سروس عملے کے 6 ممبران ہلاک ہوگئے ہیں۔ کویت کے کیمپ بیئرنگ کے اندر اتاری گئی اور ایک تواتر سے شیئرکی گئی خود کُش ڈرون کی ویڈیو د میں ایک ڈرون اڈے کے اوپر سے اڑتا ہوا اور پھر تنصیب کے اندر ہی دھماکہ کر کے تباہ ہو تا دِکھائی دے رہا ہے۔
نیویارک ٹائمز کی تصدیق شدہ فوٹیج اور تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ ایران نے ہفتے اور اتوار کے دوران بار بار عراق کے اربیل انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر واقع ان فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جہاں امریکی افواج موجود ہیں۔ نشانہ بننے والے مقام سے دھواں اور شعلے اٹھتے دکھائی دیئے ہیں۔ اتوار کی صبح تک سیٹلائٹ تصاویر میں بیس کے ایک حصے میں چار عمارتوں کے نقصان اُٹھانے یا تباہ ہونے اور پیر کی صبح تک آگ لگی رہنے کے نشان نظر آئے ہیں۔
اسی دوران دبئی کی جبلِ علی بندرگاہ کی اتوار کے دن کی سیٹلائٹ تصاویر میں ، امریکی نیوی کے خاردار تاروں سے گھِرے تفریحی مقام کی حدود کے اندر واقع ایک بڑی عمارت کے قریب سے دھواں اٹھتا دکھایا گیا ہے۔ اگرچہ یہ سرکاری امریکی اڈہ نہیں ہے لیکن جبلِ علی بندرگاہ، امریکی نیوی کی طرف سے بکثرت استعمال کئے جانے والے بندرگاہی مقامات میں سے ایک ہے۔
فوجی اڈوں کے علاوہ سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی سفارتی مشن بھی ہدف بنے ہیں۔
سعودی عرب کے شہر ریاض میں امریکی سفارت خانے پر 2 ڈرون حملے ہوئے۔ سعودی وزارت دفاع نےسفارت خانے میں 'محدود پیمانے کی آگ اور معمولی مادی نقصان' کی اطلاع دی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق سفارت خانے کے احاطے میں واقع CIA اسٹیشن کو بھی ضرب لگی ہے۔
کویت سٹی میں بھی امریکی سفارت خانے پر ڈرون اور میزائل حملے کیے گئے ہیں۔سفارت خانے کے قریب سے دھواں اُٹھتا دیکھا گیا ہے تاہم نقصان کی تفصیلات کو رائے عامہ سے پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ سفارت خانے کو تا حکمِ ثانی بند کر دیا گیا اور غیر ضروری عملے اور خاندانوں کو نکال لیا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں بھی امریکی قونصل خانے پر ایرانی ڈرون حملہ ہوا ۔ ڈرون نے قونصل خانے کے پاس واقع پارکنگ ایریا کو نشانہ بنایا ہے۔ حملے کے بعد لگنے والی آگ پر جلد قابو پا لیا گیا ہے۔ قونصل خانے کے احاطے کو کچھ نقصان پہنچا ہے لیکن کوئی بڑی تباہی نہیں ہوئی۔









