دنیا
2 منٹ پڑھنے
کونگو میں جھڑپیں،کم از کم 50 شہری ہلاک
ایک رپورٹ کے مطابق، جمہوریہ  کونگو کے شمالی کیوو صوبے میں حکومت  نواز  قوتوں  اور مسلح باغیوں کے درمیان جنوری میں ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم 50 شہری ہلاک ہو گئے ہیں
کونگو میں جھڑپیں،کم از کم 50 شہری ہلاک
کونگو / Reuters
16 گھنٹے قبل

اقوام متحدہ کے دفتر برائے  ہم آہنگی  انسانی امور  کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، جمہوریہ  کونگو کے شمالی کیوو صوبے میں حکومت  نواز  قوتوں  اور مسلح باغیوں کے درمیان جنوری میں ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم 50 شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔

OCHA نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ لڑائی 12 جنوری اور 16 جنوری کے درمیان رُتشورو علاقے کے درجن بھر سے زائد دیہاتوں  میں  ہوئی اور اس نے بکومبو، کیهونڈو، موتانڈا، بامبو اور تونگو گروپوں کو متاثر کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعدد افراد زخمی ہوئے اور بہت سے لوگوں کو اپنے گھر چھوڑ کر ملحقہ علاقے میں حفاظت کی خاطر نقل مکانی کرنا پڑی۔

یہ جھڑپیں AFC/M23 باغیوں اور حکومت نواز  ملیشیا وازلینڈو کے مابین ہوئیں۔

اسی رپورٹ کے مطابق جنوری کے اوائل میں ایک الگ واقعے میں ماسِسی مرکز میں باغی پوزیشنوں پر فوجی فضائی حملے کے بعد 11 افراد ہلاک اور تقریباً 40 زخمی ہوئے۔

الائنس فلوے کانگو (AFC/M23)، جو مشرقی کانگو میں ایک باغی اتحاد ہے اور اس میں M23 جنگجو شامل ہیں، اس خطے کے تنازع کا مرکز رہا ہے۔

اقوام متحدہ اور مغربی ممالک کے مطابق اس گروپ کو ہمسایہ ملک روانڈا کی حمایت حاصل ہے، اور یہ مشرقی کانگو میں قابلِ ذکر علاقے کنٹرول کرتا ہے، جن میں صوبائی دارالحکومت گومہ اور بوکاوو شامل ہیں جو 2025 کے آغاز میں قبضے میں لے لیے گئے تھے۔

گزشتہ ہفتے کونگو کی صدارت نے اعلان کیا کہ اس نے انگولا کی طرف سے حکومت اور AFC/M23 کے درمیان تجویز کردہ جنگ بندی قبول کر لی ہے، جو 18 فروری سے نافذ العمل ہو گی۔

تاہم  گزشتہ  روز یہ واضح نہیں تھا کہ آیا دونوں فریق اس معاہدے کی پابندی کر رہے ہیں یا نہیں۔

تازہ ترین تشدد شمالی کیوو میں جاری عدم استحکام کو اجاگر کرتا ہےجبکہ  اس معدنی وسائل سے بھرپور خطے میں لڑائی روکنے کی خاطر سفارتی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

 

دریافت کیجیے