دنیا
2 منٹ پڑھنے
عراق نے اپنی کرنسی کی قدر کم کردی
نئی شرحِ مبادلہ کو وزراء کونسل نے ’’متعلقہ مالی، اقتصادی اور مالیاتی تقاضوں‘‘ کو پورا کرنے کے لیے منظور کیا ہے: عراق مرکزی بینک
عراق نے اپنی کرنسی کی قدر کم کردی
(فائل) بغداد میں کرنسی ایکسچینج کی ایک دکان کے اندر ایک گاہک کرنسی نوٹوں کا تبادلہ کر رہا ہے۔ / Reuters

عراق نے اپنی کرنسی کی قدر گِرا کے امریکی ڈالر کے مقابلے میں سرکاری شرحِ مبادلہ کو تقریباً 1,300 دینار سے تبدیل کرکے 1,500 دینار کر دیا ہے۔

عراق کے مرکزی بینک نےآج بروز  بدھ جاری کردہ  بیان میں کہا  ہےکہ نئی شرحِ مبادلہ کو وزراء کونسل نے گزشتہ رات منعقدہ اجلاس میں’’متعلقہ مالی، اقتصادی اور مالیاتی تقاضوں‘‘ کو پورا کرنے کے لیے منظور کیا ہے۔

گزشتہ سرکاری شرحِ مبادلہ 2023 میں مقرر کی گئی تھی۔ تاہم، کرنسی ایکسچینج دفاتر میں نافذ مارکیٹ ریٹ مسلسل سرکاری شرح سے مختلف رہا اور گزشتہ چند ماہ کے دوران دونوں ریٹوں کے درمیان فرق مزید بڑھتا گیا تھا۔

اس بڑھتے ہوئے فرق کی ایک وجہ امریکہ۔ ایران  جنگ بھی ہے، جو وقتاً فوقتاً عراق تک بھی پھیلتی رہی ہے۔ علاوہ ازیں آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل کے نظام میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے بھی صورتحال کو متاثر کیا ہے۔

عراق بڑی حد تک تیل کی برآمدات پر انحصار کرتا ہے اور جنگ سے قبل اپنے تیل کا بڑا حصہ اسی آبنائے کے راستے منتقل کرتا تھا۔ تنازعات شروع ہونے کے بعد سے ملک نے برآمدات کے لیے تیل کو براستہ شام اور زمینی  راستے سے منتقل کرنا شروع کر دیا ہےجو زیادہ مہنگا اور کم مؤثر ہے۔

کرنسی کی قدر میں کمی کا اعلان ہونے سے قبل غیر سرکاری شرحِ مبادلہ ایک ڈالر کے مقابلے میں 1,600 دینار سے تجاوز کر چکی تھی۔ اعلان کے بعد یہ شرح مزید بڑھ کر 1,700 دینار سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔

نئے ضابطے کے تحت وزارتِ خزانہ ایک ڈالر 1,500 دینار کی شرح سے فروخت کرے گی، جبکہ بینکوں کے ذریعے ڈالر خریدنے والے صارفین کو ایک ڈالر کے لیے 1,520 دینار ادا کرنا ہوں گے۔

دریافت کیجیے
امریکہ: وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کے عائد کردہ جرمانوں کا نفاذ روک دیا
اسرائیل خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے: امریکی خفیہ رپورٹ
ایران: "امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں"
غزہ میں جنگ بندی مستقل طور سے بحال کروائی جائے: گوتیرس
اتحادی افواج کا یمن میں  آپریشن، حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے
"مکہ معاہدہ" سیکریٹری جنرل نعمان محمود ہونگے
ماسکو پر 650 ڈرونز سے حملہ،  روس کے خلاف گزشتہ دو برسوں میں بڑا ترین دوسرا حملہ تھا
ترکیہ کا ردعمل: اسرائیل، شام میں کاروائیاں کرنا بند کرے
فرانس:طلباء کی احتجاجی تحریک جاری، 500 ہائی اسکول بند ہو گئے
رونالڈو اگر چاہیں تو پرتگال ٹیم میں واپس آ سکتے ہیں:ہیڈ کوچ
روس میں لیبارٹری ملازمہ کی مشکوک موت سے وبا کا خدشہ پیدا
دہشتگردی کا خطرہ،امریکہ نے B-1 طیارے برطانیہ سے ہٹا دیئے
قاتل اسرائیل، 2023 سے اب تک، مقبوضہ مغربی کنارے پر تقریباً 63 ہزار حملے کر چکا ہے
ترکیہ: 21 ممالک نے انطالیہ اعلامیہ منظور کر دیا
حماس کے رہنما کے قتل کی ناکام کوشش  عیسائی ماں اور بیٹی ہلاک