بھارتی پولیس نے ملک کی مرکزی حزبِ اختلاف سیاسی جماعت' کانگریس پارٹی' کے رہنما راہول گاندھی کو حراست میں لے لیا ہے۔
راہول گاندھی کو ، قومی انتخابی فہرستوں سے لاکھوں افراد کے نام حذف کیے جانے کے خلاف اور الیکشن کمیشن کے سربراہ سے استعفے کے مطالبے کے ساتھ منعقدہ، احتجاجی مارچ کے دوران حراست میں لیا گیا ہے ۔
پولیس نے احتجاجی مارچ میں مداخلت کی اور گاندھی اور ان کے ہمراہ موجود ارکانِ پارلیمنٹ کو پارلیمنٹ سے بھارتی الیکشن کمیشن کے مرکزی دفتر کی جانب جانے سے روک دیا۔
پولیس نے گاندھی کو اس وقت حراست میں لے لیا جب وہ قومی پرچم لہراتے ہوئے پولیس کی کھڑی کردہ رکاوٹ پر چڑھ گئے۔ تاہم، کچھ ہی دیر بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔
اس کے بعد گاندھی اور ان کی رکنِ پارلیمنٹ بہن پریانکا گاندھی واڈرا سرکاری نشریاتی ادارے کے ملحقہ دفاتر میں داخل ہو گئے اور خود کو اندر بند کر لیا۔
گاندھی نے عمارت کے آہنی دروازوں کے پیچھے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "نریندر مودی نے ووٹ چوری کرکے ملک کو ہتھیا لیا ہے۔ ہمارے ملک کے ساتھ جو کچھ کیا گیا ہے اس کا نام غداری ہے۔ کوئی بھی اس سے بچ نہیں سکے گا"۔
بڑھتی ہوئی قانونی جانچ پڑتال
یہ احتجاج ،گزشتہ ماہ روزنامہ ' دی انڈین ایکسپریس" کی شائع کردہ اور الیکشن کمیشن کے تین میں سے دو ارکان کے ووٹر فہرستوں کی نظرثانی سے متعلق اہم فیصلوں پر باضابطہ طور پر کم از کم 14 مرتبہ اعتراض کے بارے میں، ایک اہم تحقیق پر مبنی خبر کے بعد کیا گیا ہے ۔
رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ حکام نے 2025 میں شروع ہونے والی صفائی کی کارروائی کے بعد سے تقریباً 130 ملین شہریوں کے نام ووٹر فہرستوں سے خارج کر دیے ہیں۔
حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں بالخصوص مسلمانوں سمیت پسماندہ اور اقلیتی برادریوں کو غیر متناسب طور پر ووٹ کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کمیشن پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی 'بی جے پی'کے احکامات پر عمل کر رہا ہے۔
الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کا مقصد صرف جعلی اندراجات کو ختم کرنا اور ’’غیر ملکی غیر قانونی تارکینِ وطن‘‘ کو فہرستوں سے خارج کرنا ہے۔ تاہم، کمیشن کے سربراہ گیانیش کمار نے عوامی سطح پر اس معاملے پر بیان دینے سے گریز کیا ہے۔
دوسری جانب، بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے حکومت اور انتخابی ادارے کو آئندہ ہفتے متوقع سماعتوں سے قبل انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے فیصلوں کی باضابطہ وجوہات پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے بعد نوجوانوں کی تحریکوں اور بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں نے ہفتے کے روز بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔



















