دنیا
3 منٹ پڑھنے
حوثیوں کا دعوی: سعودی ہوائی اڈوں اور فوجی بیسوں پر ڈرون اور میزائل حملے کئے گئے ہیں۔
ہم نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا کر متعدد  ڈرون اور بیلسٹک میزائل  حملے کیے ہیں: یحییٰ سریع
حوثیوں کا دعوی: سعودی ہوائی اڈوں اور فوجی بیسوں پر ڈرون اور میزائل حملے کئے گئے ہیں۔
فائل: ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایندھن کے ذخیرے سے سیاہ دھوئیں کے بادل بلند ہو رہے ہیں۔ / Reuters

یمن کے حوثیوں نے آج بروز بدھ علی الصبح جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ"ہم نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا کر متعدد  ڈرون اور بیلسٹک میزائل  حملے کیے ہیں"۔

حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سوشل میڈیا 'ایکس' سے جاری کردہ بیان میں کہا  ہےکہ ان کی افواج نے متعدد ڈرونوں کے ساتھ ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔ حملہ ’’ٹھیک  نشانے‘‘ پر کیا گیا  اور اس کے نتیجے میں ہوائی اڈے پر فضائی ٹریفک متاثر ہوئی ہے"۔

سریع نے مزید کہا ہے کہ حوثی فوج نے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونوں کے ذریعے ابہا بین الاقوامی ہوائی اڈے اور خمیس مشیط ایئر بیس کو نشانہ بنانے کے لیے دو کارروائیاں کیں۔ ان حملوں سے ہوائی اڈے پر فضائی ٹریفک متاثر ہوئی اور فوجی اڈے کو نقصان پہنچا ہے۔

سریع نے ایک الگ بیان میں کہا  ہےکہ حوثیوں نے جیزان میں دغرِیر، عسیر میں عکیفہ اور دوبارہ جیزان میں الموسِم کے فوجی کیمپوں کو متعدد بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونوں  کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔

دوسری جانب سعودی زیرِ قیادت  'اتحاد 'نے بدھ کے روزجاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے ریاض کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل فضا میں ہی  تباہ کر دیا گیا ہے۔

اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے ایکس پلیٹ فارم سے جاری کردہ  بیان میں کہا ہے کہ"دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے داغے گئے میزائل کو ریاض کے شمال میں روک لیا گیا ہے"۔

المالکی نے مزید کہا  ہےکہ اتحادی افواج نے اپنے انٹیلی جنس نظام کے ذریعے یمن کے دارالحکومت صنعاء کی فضاوں میں میزائل لانچنگ پلیٹ فارم کا سراغ لگا کر اس کی نگرانی شروع کر دی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ’’ہم اتحادی افواج کے انٹیلی جنس نظام کے ذریعے صنعاء کے آسمان میں لانچنگ پلیٹ فارم کا سراغ لگا رہے ہیں اور اسے تباہ کر دیں گے۔‘‘

واضح رہے کہ حوثی گروپ نے جولائی میں ریاض کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد سے، یمن میں خانہ جنگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی اور  ساتھ ہی حوثیوں کی  یمنی حکومتی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔

یمن، 2014 میں حوثیوں کے دارالحکومت صنعاء اور ملک کے مختلف علاقوں پر قبضہ کرنے کے بعد سے، تنازعات کی لپیٹ میں ہے۔

اس صورتِ حال کے نتیجے میں سعودی زیرِ قیادت  قائم ہونے والے عرب اتحاد نے یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کے لیے 2015 میں ملک میں فوجی مداخلت کی تھی۔

دریافت کیجیے
امریکہ: وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کے عائد کردہ جرمانوں کا نفاذ روک دیا
اسرائیل خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے: امریکی خفیہ رپورٹ
ایران: "امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں"
غزہ میں جنگ بندی مستقل طور سے بحال کروائی جائے: گوتیرس
اتحادی افواج کا یمن میں  آپریشن، حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے
"مکہ معاہدہ" سیکریٹری جنرل نعمان محمود ہونگے
ماسکو پر 650 ڈرونز سے حملہ،  روس کے خلاف گزشتہ دو برسوں میں بڑا ترین دوسرا حملہ تھا
ترکیہ کا ردعمل: اسرائیل، شام میں کاروائیاں کرنا بند کرے
فرانس:طلباء کی احتجاجی تحریک جاری، 500 ہائی اسکول بند ہو گئے
رونالڈو اگر چاہیں تو پرتگال ٹیم میں واپس آ سکتے ہیں:ہیڈ کوچ
روس میں لیبارٹری ملازمہ کی مشکوک موت سے وبا کا خدشہ پیدا
دہشتگردی کا خطرہ،امریکہ نے B-1 طیارے برطانیہ سے ہٹا دیئے
قاتل اسرائیل، 2023 سے اب تک، مقبوضہ مغربی کنارے پر تقریباً 63 ہزار حملے کر چکا ہے
ترکیہ: 21 ممالک نے انطالیہ اعلامیہ منظور کر دیا
حماس کے رہنما کے قتل کی ناکام کوشش  عیسائی ماں اور بیٹی ہلاک