تہران انتظامیہ کے مظاہرین کے خلاف مہلک کریک ڈاؤن کے بعد ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کو اب تک کی براہِ راست ترین وارننگ دی ہے اور کہا ہے کہ "اگر ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو ہم اپنی پوری قوت کے ساتھ جوابی کارروائی کریں گے"۔
ایران میں مظاہرین کی اموات کے باعث عراقچی کا ڈاؤس اقتصادی فورم دعوت نامہ منسوخ کر دیا گیا تھا۔ مذکورہ بیان بھی انہوں نے ایک امریکی ایئر کرافٹ کیریئر بحری بیڑے کےایشیاء سے مشرقِ وسطیٰ کی طرف عازمِ سفر ہونے کے دوران جاری کیا ہے۔
امریکی لڑاکا طیارے اور دیگر عسکری ساز و سامان کی مشرقِ وسطیٰ کی طرف منتقلی کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔یہ عسکری نقل و حرکت ، کیریبین میں بڑے پیمانے پر امریکی فوجیوں کی تعیناتی اور وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے اغوا کے بعد دیکھنے میں آ رہی ہے۔
عراقچی نے یہ وارننگ، روزنامہ 'وال اسٹریٹ جنرل' کے لئے محّررہ ایک کالم میں دی ہے۔
کالم میں وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا ہےکہ 'ملک میں پُر تشدد بد امنی 72 گھنٹوں سے کم عرصے تک جاری رہی"۔ انہوں نے مسلح مظاہرین کومظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد کا ذمہ دارٹھہرایا ہے۔ اگرچہ انٹرنیٹ منقطع ہونے کے باوجود عالمی میڈیا تک پہنچنے والے ویڈیو مناظر میں ایرانی پولیس بار بار غیر مسّلح مظاہرین کو نشانہ بناتی دِکھائی دے رہی ہے لیکن عراقچی نے اپنے کالم میں اس موضوع پر کوئی بات نہیں کی۔
عراقچی نے لکھا ہے کہ "جون 2025 میں ایران جس اعتدال کا مظاہرہ کرتا رہا ہےاب اس کے بالکل برعکس ردعمل پیش کرے گا۔ اگر ہماری طاقتور مسلح افواج کو دوبارہ حملے کا سامنا ہوا تو ہمیں اپنی ساری قوت کے ساتھ جوابی کارروائی کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوگی"۔
جون میں اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی بارہ روزہ جنگ کےحوالے سے عراقچی نے کہا ہے کہ "یہ کوئی دھمکی نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے جسے میں نے بغیر کسی لگی لپٹی کے آگے پہنچانے کی کوشش کی ہےکیونکہ بحیثیت ایک سفارت کار اور ایک سابق فوجی کے، میں جنگ سے نفرت کرتا ہوں"۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ "ایک مکمل ٹکراؤ بلاشبہ خونریز ہوگا اور اِس وقت اسرائیل اور اس کے حواری جس زمانی دورانیے کا بتا کر امریکہ کو پھُسلانے کی کوشش کر رہے ہیں اس سے کہیں زیادہ طویل عرصے تک جاری رہے گا۔ یہ ٹکراو یقینی طور پر وسیع تر خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور دنیا بھر کے عام لوگوں کو متاثر کرے گا"۔
واضح رہے کہ امریکہ کی طرف سے کسی ممکنہ حملے کی پیش بندی کے لئے گذشتہ ہفتے ایران نے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں۔ مشرقی وسطی کے ممالک کے اور خاص طور پر خلیجی ممالک کے سفارت کاروں نے ٹرمپ سے حملہ نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔
حالیہ دنوں میں بھی جہاز ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق یو ایس ایس ابراہم لنکن جنوبی بحیرہ چین اور بحرِ ہند کو ملانے والی اہم آبی گزرگاہ 'ملاکا درّے' سے گزر چکا ہے۔
امریکہ بحریہ سے ایک اہلکار نے نام کو پوشیدہ رکھتے ہوئے کہا ہے کہ ایئر کرافٹ کیریئر اور اس کے ہمراہ چلتے تین ڈسٹرائر جہاز مغرب کی طرف جا رہے ہیں۔
اگرچہ نیول اور دیگر دفاعی حکام نے اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا تاہم بحرِ ہند میں بحری بیڑے کی موجودہ سمت اور مقام اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ خطے میں داخلے سے محض چند دنوں کے فاصلے پر ہے۔













