غّزہ جنگ
3 منٹ پڑھنے
حماس نے، اسرائیل کے قطر پر حملے کو ٹرمپ کے جنگ بندی منصوبے پر 'براہ راست حملہ' قرار دے دیا
وفد پر قاتلانہ حملہ صدر ٹرمپ کی تجویز پر براہ راست حملہ ہے۔ اگر اسرائیلی اس تجویز کو قبول کرتے ہیں تو انہیں حماس کے جواب کو سننا چاہیے،
حماس نے، اسرائیل کے قطر پر حملے کو ٹرمپ کے جنگ بندی منصوبے پر 'براہ راست حملہ' قرار  دے دیا
اسامہ حمدان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو حماس کے جواب کو سننا چاہیے، "دوحا اور ملاقات کی جگہ پر بمباری نہیں کرنی چاہیے۔" [فائل] / Reuters

سینئر حماس رہنما اسامہ حمدان نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی مزاحمتی گروپ کے قطر میں امن مذاکرات کاروں کو قتل کرنے کی کوشش امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ کے لیے جنگ بندی کی تجویز پر ایک "براہ راست حملہ" ہے۔

حمدان نے ایک ٹیلی ویژن بیان میں کہا، "وفد پر قاتلانہ حملہ صدر ٹرمپ کی تجویز پر براہ راست حملہ ہے۔ اگر اسرائیلی اس تجویز کو قبول کرتے ہیں تو انہیں حماس کے جواب کو سننا چاہیے، نہ کہ دوحہ اور ملاقات کی جگہ پر بمباری کرنی چاہیے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کی جانب سے 18 اگست کی ثالثوں کی تجویز پر ردعمل دینے سے انکار "مذاکراتی عمل کے خلاف ایک واضح بغاوت اور غزہ پر جارحیت کو روکنے اور قیدیوں کی رہائی کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کے امکان کے خلاف تھا۔"

حمدان نے کہا کہ حماس "قطر اور مصر کی کوششوں اور رابطوں کے نتائج کا انتظار کر رہی ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا امریکہ اسرائیل پر حتمی جنگ بندی کی طرف دباؤ ڈالنے کا حقیقی ارادہ رکھتا ہے۔"

انہوں نے زور دیا کہ مصر اور قطر کی قیادت میں ثالثی کئی بار پیش رفت کے قریب پہنچی، "لیکن قابض حکومت نے یا تو قتل و غارت یا غزہ میں نئی جارحیت کے ذریعے انہیں ناکام بنایا، جس میں تازہ ترین  دوحہ حملہ تھا۔"

انہوں نے کہا، "اس کے باوجود، قطر اور مصر نے قابض حکومت کےہٹ دھرمیوں کے برخلاف  اعلیٰ صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے، کیونکہ ضرورت اس  امر  کی ہے کہ جارحیت کو روکا جائے اور اس سرکش وجود (اسرائیل) کا خاتمہ کیا جائے جو خطے کی سلامتی کو غیر مستحکم کرتا ہے۔"

اسرائیل نے منگل کے روز دوحہ میں ایک رہائشی کمپاؤنڈ پر بمباری کی، جس میں پانچ حماس کے ارکان اور ایک قطری سیکیورٹی افسر ہلاک ہو گئے تھے۔

قطر نے اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "ریاستی دہشت گردی" قرار دیا اور اپنے ردعمل کے حق کی تصدیق کی۔

یہ حملہ اس وقت ہوا جب قطر، مصر اور امریکہ کے ساتھ مل کر جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے لیے بالواسطہ مذاکرات میں ثالثی کر رہا تھا۔

غزہ میں نسل کشی

اسرائیل اکتوبر 2023 سے غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے۔ فلسطینیوں نے 64,756 سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکتیں ریکارڈ کی ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق تقریباً 11,000 فلسطینیوں کے تباہ شدہ گھروں کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل ہلاکتوں کی تعداد غزہ کے حکام کی رپورٹ کردہ تعداد سے کہیں زیادہ ہے، اور اندازہ ہے کہ یہ تقریباً 200,000 ہو سکتی ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے 48 شہری غزہ میں موجود ہیں، جن میں سے 20 کے زندہ ہونے کا یقین ہے۔

11,000 سے زائد فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں، جہاں حقوق کے گروپ تشدد، بھوک، طبی غفلت اور حراست میں متعدد اموات کی نشاندہی کرتے ہیں۔

حماس نے کہا ہے کہ وہ تمام اسرائیلی قیدیوں کو "ایک ہی  مرحلے میں " رہا کرنے کے لیے تیار ہے اگر اسرائیل نسل کشی ختم کرے، اپنی افواج کو غزہ سے واپس بلائے اور تمام فلسطینی قیدیوں کو آزاد کرے۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت کو مطلوب  نسل کش  نیتن یاہو غزہ پر قبضہ برقرار رکھنے کی ضد پر اٹل ہے۔

 

دریافت کیجیے
غزہ میں قاتل اسرائیل کے حملوں میں مزید 5 فلسطینی شہید
ترکیہ اور 7 دیگر ممالک کی طرف سے اسرائیل کے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی منصوبوں کی مذمت
اسرائیل: 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو غزّہ سے نکال دیا جائے
اسرائیلی فوجیوں نے نمازیوں پر آنسو گیس چھوڑ دی
حماس: اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت مختلف شکلوں میں جاری رکھی گئی جنگ ہے
اسرائیلی ربی کا مطالبہ: فلسطینی مغربی کنارے سے نکل جائیں
نتن یاہو کی آخری مزاحمت: مقدمات، جنگ اور بقاء کی جدوجہد
اسرائیل کے غزہ پر حملوں میں تباہ شدہ مکانات کے ملبے تلے سے 233 فلسطینی شہریوں کی لاشیں بازیاب
غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں میں 63 فیصد اضافہ
اسرائیلی فوج نے تین سالہ جنگ میں 30 سال کے استعمال کے لائق گولیاں استعمال کی ہیں
اسرائیلی فوجی حکام نیتن یاہو انتخابات میں تاخیر کرنے کے لیے تشدد میں اضافے کی کوشش کر سکتے ہیں: رپورٹ
فلسطین: عالمی کمپنیاں اسرائیل کے 'ای 1' منصوبے میں شرکت سے گریز کریں
اسرائیل نے تقریباً 650 مکانات پر مشتمل ایک اور غیر قانونی آبادکاری منصوبے پر کام شروع دیا
نتن یاہو غزہ میں جنگ بندی یا ٹرمپ کے منصوبے کے تحت انخلاء کو مسترد کرتے ہیں: رپورٹ
اسرائیلی فوج اور غیر قانونی آباد کاروں نے مغربی کنارے میں جولائی میں 2,256 حملے کیے
اسرائیل نے غزہ بھر میں 2 بچوں سمیت کم از کم آٹھ فلسطینی قتل کر دیئے
مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد اور الحاق  کی'صورتحال' بتدریج ابتر ہو رہی ہے، اقوام متحدہ
غزہ میں ایک مسجد کو نشانہ بنا کر شہید کرنے کا اسرائیل کا اعتراف
یورپی یونین کا نیتن یاہو کے خلاف آئی سی سی وارنٹ کے نفاذ کا مطالبہ
اسرائیلی تازہ حملوں میں غزہ میں مزید تین فلسطینی شہید