دنیا
3 منٹ پڑھنے
ایران پر امریکی حملہ آگ سے کھیلنا ہوگا:روس
روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ ایران پر کوئی نیا حملہ کرےگا تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے
ایران پر امریکی حملہ آگ سے کھیلنا ہوگا:روس
لاوروف / Reuters

روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ ایران پر کوئی نیا حملہ کرےگا تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔

 انہوں نے زور دیا کہ تہران کے جوہری پروگرام کو پرامن رکھا جائے جس کے لیے سفارت کاری کو فروغ دیا جائے۔

العربیہ چینل کے ساتھ ایک انٹرویو میں لاوروف نے کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی میں ایران کی جوہری تنصیبات پر سابقہ حملوں نے پہلے ہی سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔

“انہوں نے کہا کہ نتائج اچھے نہیں ہیں  اور  ہر کوئی سمجھتا ہے کہ یہ آگ کے ساتھ کھیلنا  ہوگا۔

یہ بیانات اس کے ایک دن بعد سامنے آئے جب امریکہ اور ایران کے مذاکرات کاروں نے جنیوا میں بالواسطہ بات چیت کی، جس کا مقصد تہران اور واشنگٹن کے درمیان تازہ کشیدگی کو کم کرنا تھا۔

لاوروف نے کہا کہ خطے کے فریقین  خاص طور پر عرب ریاستیں اور خلیجی ممالک  اشارہ دے رہے ہیں کہ وہ کشیدگی میں اضافے کے خواہاں نہیں،  انہوں نے انتباہ کیا کہ دوبارہ تصادم حالیہ سفارتی پیش رفت کو  ناکام بنا سکتا ہے۔

ایک سینئر امریکی اہلکار کے مطابق، توقع کی جا رہی ہے کہ تہران ایک تحریری تجویز پیش کرے گا جس میں وضاحت کی جائے گی کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ تنازعے کو کیسے حل کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔

اسی دوران، امریکی قومی سلامتی کے حکام خطے میں فوجی تیاریاں دیکھ رہے ہیں، اور توقع ہے کہ افواج وسط مارچ تک مکمل طور پر تعینات ہو جائیں گی۔

واشنگٹن کا موقف ہے کہ ایران کو اپنا جوہری پروگرام ترک کرنا چاہیے جبکہ تہران اس بات کی تردید کرتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار چاہتا ہے اور کہتا ہے کہ اسے جوہری توانائی حاصل کرنے کا حق ہے۔

لاوروف نے کہا کہ ماسکو ایران  کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ تہران جوہری  عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کے دائرہ کار میں تنازعے کو حل کرنا چاہتا ہے، کسی بھی معاہدے میں ایران کے قانونی حقوق کا احترام ہونا چاہیے  مگر  اس کی افزودگی کی سرگرمیاں پرامن رہیں۔

شام کے بارے میں لاوروف نے کہا کہ روس اس وقت نئی شامی قیادت کے ساتھ اپنے کلیدی فوجی اڈوں کو برقرار رکھنے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے،جہاں تک ہمارے فوجی مراکز کا معاملہ ہے بات چیت جاری ہے، میں ایک بار پھر دہرانا چاہتا ہوں  کہ  شامی چاہتے ہیں کہ ہماری موجودگی برقرار رہے۔

لاوروف نے کہا کہ باہمی احترام اور باہمی فائدے کے اصول وہ بنیاد ہیں جن پر روس اور شام کے تعلقات قائم ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ شامی صدر احمد الشراء نے چار ماہ سے بھی کم عرصے میں دو مرتبہ روس کا دورہ کیا اور شامی وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی نے ایک سال کے اندر متعدد مرتبہ روسی حکام سے ملاقاتیں کیں جو اس بات کا اشارہ ہیں کہ دونوں جانب ان تعلقات کو اہمیت دی جاتی ہے۔

لاوروف کا کہنا تھا کہ ماسکو کی شام میں موجودگی، خاص طور پر خمییم اور طرطوس میں دیگر فریقین کے مقابلے میں استحکام بخش توازن کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔

روس نے طویل عرصے تک سابق شامی رجیم کے رہنما بشار الاسد کو مالی اور عسکری پشت پناہی فراہم کی جو تقریباً پندرہ سالہ خانہ جنگی کے بعد اقتدار سے بر طرف ہو گئے ۔

 واضح رہے کہ اسد دسمبر 2024 میں روس فرار ہو گئے تھے ۔

 

 

دریافت کیجیے
پاک-ترک سعودی دفاعی معاہدہ،بل ترک پارلیمان میں پیش کردیاگیا
ہم روس کے ساتھ مذکرات کےلیے تیار ہیں:زیلسنکی
صدر ایردوان کا شام  اور ترکیہ کی خفیہ سروس کے کارکنان کے لیے تہنیتی پیغام
ایلون مسک نے اسپیس ایکس اور ٹیسلا کو یکجا کرنے کی حمایت کر دی
امریکی تجاویز اچھی ہیں مگر سیاسی رعائیتیں ملنا مشکل ہو گا:روس
اسرائیل نے غزہ میں 2 بچوں سمیت 7فلسطینی قتل کر دیئے
ترکیہ: بائیکار  نے چھٹا سیٹلائٹ خلاء میں بھیج دیا۔
فرانس میں مظاہروں کے دوران واقعات میں 2 افراد ہلاک
سرگن یالچین قومی فٹبال ٹیم کے کوچ بن گئے
ترکیہ -لیبیا معاہدہ،ترک دفتر خارجہ کا خیر مقدم
ایران: "ہمارے ملک سے افزودہ یورینیم کا ایک گرام تک باہر نہیں بھیجا جائے گا"
مسک نے یوکرینی فوج کے زیرِ استعمال اسٹارلنک سروس کی رفتار محدود کر دی
امریکہ: ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور میں 3 لاکھ ویزے منسوخ کئے ہیں۔
ترک وزیر دفاع قطر روانہ، دفاعی صنعتی معاہدے پر دستخط کریں گے
ایرانی پاسدارانِ انقلاب:" آبنائے ہرمز میں ایک امریکی MQ-9 ڈرون کو گرا دیا گیا ہے"