روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ ایران پر کوئی نیا حملہ کرےگا تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ تہران کے جوہری پروگرام کو پرامن رکھا جائے جس کے لیے سفارت کاری کو فروغ دیا جائے۔
العربیہ چینل کے ساتھ ایک انٹرویو میں لاوروف نے کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی میں ایران کی جوہری تنصیبات پر سابقہ حملوں نے پہلے ہی سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔
“انہوں نے کہا کہ نتائج اچھے نہیں ہیں اور ہر کوئی سمجھتا ہے کہ یہ آگ کے ساتھ کھیلنا ہوگا۔
یہ بیانات اس کے ایک دن بعد سامنے آئے جب امریکہ اور ایران کے مذاکرات کاروں نے جنیوا میں بالواسطہ بات چیت کی، جس کا مقصد تہران اور واشنگٹن کے درمیان تازہ کشیدگی کو کم کرنا تھا۔
لاوروف نے کہا کہ خطے کے فریقین خاص طور پر عرب ریاستیں اور خلیجی ممالک اشارہ دے رہے ہیں کہ وہ کشیدگی میں اضافے کے خواہاں نہیں، انہوں نے انتباہ کیا کہ دوبارہ تصادم حالیہ سفارتی پیش رفت کو ناکام بنا سکتا ہے۔
ایک سینئر امریکی اہلکار کے مطابق، توقع کی جا رہی ہے کہ تہران ایک تحریری تجویز پیش کرے گا جس میں وضاحت کی جائے گی کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ تنازعے کو کیسے حل کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔
اسی دوران، امریکی قومی سلامتی کے حکام خطے میں فوجی تیاریاں دیکھ رہے ہیں، اور توقع ہے کہ افواج وسط مارچ تک مکمل طور پر تعینات ہو جائیں گی۔
واشنگٹن کا موقف ہے کہ ایران کو اپنا جوہری پروگرام ترک کرنا چاہیے جبکہ تہران اس بات کی تردید کرتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار چاہتا ہے اور کہتا ہے کہ اسے جوہری توانائی حاصل کرنے کا حق ہے۔
لاوروف نے کہا کہ ماسکو ایران کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ تہران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کے دائرہ کار میں تنازعے کو حل کرنا چاہتا ہے، کسی بھی معاہدے میں ایران کے قانونی حقوق کا احترام ہونا چاہیے مگر اس کی افزودگی کی سرگرمیاں پرامن رہیں۔
شام کے بارے میں لاوروف نے کہا کہ روس اس وقت نئی شامی قیادت کے ساتھ اپنے کلیدی فوجی اڈوں کو برقرار رکھنے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے،جہاں تک ہمارے فوجی مراکز کا معاملہ ہے بات چیت جاری ہے، میں ایک بار پھر دہرانا چاہتا ہوں کہ شامی چاہتے ہیں کہ ہماری موجودگی برقرار رہے۔
لاوروف نے کہا کہ باہمی احترام اور باہمی فائدے کے اصول وہ بنیاد ہیں جن پر روس اور شام کے تعلقات قائم ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ شامی صدر احمد الشراء نے چار ماہ سے بھی کم عرصے میں دو مرتبہ روس کا دورہ کیا اور شامی وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی نے ایک سال کے اندر متعدد مرتبہ روسی حکام سے ملاقاتیں کیں جو اس بات کا اشارہ ہیں کہ دونوں جانب ان تعلقات کو اہمیت دی جاتی ہے۔
لاوروف کا کہنا تھا کہ ماسکو کی شام میں موجودگی، خاص طور پر خمییم اور طرطوس میں دیگر فریقین کے مقابلے میں استحکام بخش توازن کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔
روس نے طویل عرصے تک سابق شامی رجیم کے رہنما بشار الاسد کو مالی اور عسکری پشت پناہی فراہم کی جو تقریباً پندرہ سالہ خانہ جنگی کے بعد اقتدار سے بر طرف ہو گئے ۔
واضح رہے کہ اسد دسمبر 2024 میں روس فرار ہو گئے تھے ۔












