دنیا
2 منٹ پڑھنے
فرانس: اسرائیلی کھجوروں کا بائیکاٹ کیا جائے
مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں کاشت کی جانے والے کھجوروں کا بائیکاٹ کیا جائے: یورو فلسطین
فرانس: اسرائیلی کھجوروں کا بائیکاٹ کیا جائے
زیمور کا کہنا ہے کہ فرانس میں فروخت ہونے والی میڈجول برانڈ کی کھجوروں کا ایک بڑا حصہ "غیر قانونی اسرائیلی بستیوں یا قبضے میں ملوث کمپنیوں سے آتا ہے۔" / AA
15 گھنٹے قبل

فرانس کی یورو فلسطین تنظیم نے مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں کاشت کی جانے والے کھجوروں کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔

فلسطینی حقوق کے لیے کام کرنے والی اس  تنظیم میں  مسلمانوں کے مقدس مہینے 'رمضان' کے دوران، جب کھجوروں کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے، اسرائیلی کھجوروں  کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔

یورو فلسطین تنظیم کی صدر 'اولیویا زیمور' نے بروز بدھ جاری کردہ بیان میں کہا  ہےکہ فرانس میں فروخت ہونے والی میجدول برانڈ کی کھجوروں کا بڑا حصہ "غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے یا قبضے کے ساتھ اشتراک کرنے والی  کمپنیوں" سے درآمد کیا جاتا ہے۔

زیمور کے مطابق بعض ڈبوں پر پیداواری ملک  اردن یا مراکش لکھا ہوتا ہے لیکن  یہ مصنوعات دراصل اسرائیلی ہوتی ہیں۔

سپر مارکیٹوں میں آگاہی سرگرمیاں

انہوں نے کہا ہے کہ بائیکاٹ مہم کے دائرہ کار میں  کچھ رضاکار سپر مارکیٹوں میں صارفین کو آگاہی فراہم کر رہے اور متبادل مصنوعات کے استعمال کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں ۔

زیمور نے کہا ہے کہ فرانس کے اصول و  ضوابط کے تحت فروخت کنندگان کے لیے خاص طور پر خشک میوہ جات میں پیداواری ملک کے بارے میں واضح اطلاع دینا ضروری ہے ۔ مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے آنے والی مصنوعات پر"اسرائیلی مصنوعات " کا  لیبل نہیں لگایا جا سکتا۔

انہوں نے بائیکٹ مہم کے اہداف میں خوراک کی بعض بین الاقوامی کمپنیوں کی موجودگی کا بھی ذکر کیا اور کہا ہے کہ  ان مصنوعات کے بائیکاٹ سے اسرائیلی معیشت پر منفی اثر پڑے گا ۔

واضح رہے کہ اسرائیل، اکتوبر 2023 سے غزہ پرمسّلط کردہ  نسل کشی جنگ کے دوران  زیادہ تر خواتین اور بچوں سمیت 72,000 سے زائد افراد کو قتل  اور 171,000 سے زائد کو زخمی کر چُکا ہے۔

غزہ میں فلسطینی محکمہ صحت کے مطابق اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود  اسرائیلی فوج نےگولہ باری اور فائرنگ کے ذریعے سینکڑوں خلاف ورزیاں کر چُکی ہے۔ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے  نتیجے میں 603 فلسطینی ہلاک اور 1,618 سے زائد زخمی ہوچُکے ہیں۔

دریافت کیجیے