برازیل کے سابق صدر جائر بولسونارو کے مقدمے کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ ججوں کے بنچ میں سے ایک نے بولسونارو کی رہائی کے حق میں ووٹ دے کر عدالت کو حیران کر دیا ہے۔
اس ووٹ کے نتیجے میں بولسونار و کے خلاف، 2022 میں بغاوت کی کوشش کے، مقدمے میں تقسیم پیدا ہو گئی ہے۔ مذکورہ فیصلہ، ایک دن پہلے دو ججوں کے سابق صدر کو مجرم قرار دینے کے حق میں ووٹ دینے کے بعد سامنے آیا ہے۔
اس ووٹ کے بعد اب تک دو ججوں 'الیکسینڈر ڈی موریس اور فلاویو ڈینو' نے سزا کے حق میں اور ایک جج 'لوئز فکس' نے بریت کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ سزا کے لیے تین ججوں کی سادہ اکثریت کافی ہے اور ابھی دو ججوں کے ووٹ باقی ہیں۔
زیرِ سماعت مقدمہ یہ طے کرنے کے لیے چل رہا ہے کہ آیا بولسونارو نے 2022 کے انتخابات میں شکست کے بعد غیر قانونی طور پر اقتدار پر قابض رہنے کی سازش کی تھی یا نہیں۔
”فوجداری ذمہ داری کو معقول شک سے بالاتر ثابت کرنا ضروری ہے“
اگرچہ جج فکس نےپیشی کا آغاز ان الفاظ سے کیا ہے کہ پورے مقدمے کو منسوخ کر دینا چاہیے کیونکہ بقول ان کے سپریم کورٹ اس مقدمے کی سماعت کے لیے مناسب عدالت نہیں ہے، لیکن دن کے اختتام پر انہوں نے شواہد کی کمی کی بنیاد پر بولسونارو کو بری کرنے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔
جج فکس نے اٹارنی جنرل کے مقدمے کے بیشتر حصے کو مسترد کر دیا اور دلیل دی ہے کہ بغاوت صرف اسی وقت بغاوت ہوتی ہے جب حکومت کو گرا دیا جائے ۔
اختلاف کرنے والے جج نے کہا ہےکہ بولسونارو کی کاروائی بغاوت نہیں سیاسی سرگرمی کے زمرے میں آتی ہے۔
دس گھنٹے سے زیادہ طویل ایک ایک بیان میں فکس نے کہا ہےکہ استغاثہ نےبولسونارو پر لگائے گئے الزامات کو مکمل طور پر ثابت نہیں کیا اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ فوجداری مقدمے میں ”فوجداری ذمہ داری ایسے شواہد پیش کرنا ہے جو معقول شبہے کو ختم کر دیں"۔







