دنیا
3 منٹ پڑھنے
ٹرمپ سےملاقات روس کے ساتھ جنگ کے خاتمے میں مدد کر سکتی ہے: زیلنسکی
زیلنسکی نے گزشتہ روز  اپنے  خطاب میں کہا کہ ہم نے صدر ٹرمپ کے  ساتھ ہونے والی ملاقات سے پہلے ہی   تیاریاں مکمل کر لی ہیں
ٹرمپ سےملاقات روس کے ساتھ جنگ کے خاتمے میں مدد کر سکتی ہے: زیلنسکی
زیلنسکی-ٹرمپ / AP Archive

یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ کیف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنی آئندہ ملاقات کی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی ہے  اور  اس بات پر زور دیا ہے کہ ایجنڈے میں فوجی اور معاشی دونوں اجزاء شامل ہیں جو روس کے ساتھ جنگ کو ختم کرنے میں مدد کرسکتے ہیں۔"

زیلنسکی نے گزشتہ روز  اپنے  خطاب میں کہا کہ ہم نے صدر ٹرمپ کے  ساتھ ہونے والی ملاقات سے پہلے ہی   تیاریاں مکمل کر لی ہیں ، امریکی صدر کے ساتھ ہماری ملاقات کا ایجنڈا بہت اہم ہے ، " انہوں نے تیاریوں میں مدد کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت "واقعی جنگ کو انجام کے قریب لا سکتی ہے، یہ امریکہ ہی ہے جو اس قسم کا عالمی اثر و رسوخ استعمال کر سکتا ہے اور ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں ۔

زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کا ایک وفد ، جس میں وزیر اعظم ، صدارتی دفتر کے سربراہ اور دیگر سینئر عہدیدار شامل ہیں ، پہلے ہی واشنگٹن میں ہیں تاکہ ملاقات  کے بنیادی  مواد   کی تیاری  اور امریکی دفاعی اور توانائی کی کمپنیوں کے ساتھ بات چیت کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین مشترکہ طور پر امریکی ہتھیار خریدنے کے لئے وسطی ، جنوبی اور شمالی یورپ میں شراکت داروں کے ساتھ اپنی  ضروریات کی فہرست (پی یو آر ایل)  پر بھی زور دے رہا ہے۔

برطانیہ نے روس پر پابندیاں عائد کیں

صدر نے روس کی سب سے بڑی تیل کمپنیوں کے ساتھ ساتھ یونان کی جاری حمایت پر نئی پابندیوں کے لئے برطانیہ کا شکریہ ادا کیا ، اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ وزیر اعظم کیریاکوس میچوتاکیس کے ساتھ ان کی بات چیت کے دوران توانائی کے تعاون اور لچک کے اقدامات دونوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ان پابندیوں نے روسی تیل کی بڑی کمپنیوں روزنیفٹ اور لوک آئل کو نشانہ بنایا، روس نے ان پابندیوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ان کا الٹا اثر پڑے گا۔

لندن میں روسی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ روس کی تیل اور گیس کی معروف کمپنیوں پر حملے عالمی توانائی کی منڈیوں کو غیر مستحکم  اور دنیا بھر کے صارفین کو متاثر کر رہے ہیں جن میں عام برطانوی اور مقامی کاروبار بھی شامل ہیں۔

 بیان میں کہا گیا ہے کہ ان اقدامات سے گلوبل ساؤتھ میں توانائی کے عدم تحفظ میں بھی اضافہ ہوگا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ برطانوی رہنماؤں کی بلند آواز کی یقین دہانیوں کے برعکس ان پابندیوں کا روسی خارجہ پالیسی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ،اب وقت آگیا ہے کہ لندن کو یہ احساس ہو کہ ہمارے ملک کو بلیک میل کرنے ، پابندیوں اور دھمکیوں کی زبان میں ہم سے بات کرنے کی کوششیں بے معنی اور بیکار ہیں۔"

 بیان میں کہا گیا ہے کہ پابندیوں کا دباؤ "صرف پرامن بات چیت کو پیچیدہ بناتا ہے اور مزید کشیدگی کا باعث بنتا ہے جبکہ اس بات پر زور دیا گیا کہ روس اپنے قومی مفادات کا دفاع جاری رکھے گا اور معاشی استحکام کو یقینی بنائے گا۔

دریافت کیجیے
اسرائیل خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے: امریکی خفیہ رپورٹ
ایران: "امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں"
غزہ میں جنگ بندی مستقل طور سے بحال کروائی جائے: گوتیرس
اتحادی افواج کا یمن میں  آپریشن، حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے
"مکہ معاہدہ" سیکریٹری جنرل نعمان محمود ہونگے
ماسکو پر 650 ڈرونز سے حملہ،  روس کے خلاف گزشتہ دو برسوں میں بڑا ترین دوسرا حملہ تھا
ترکیہ کا ردعمل: اسرائیل، شام میں کاروائیاں کرنا بند کرے
فرانس:طلباء کی احتجاجی تحریک جاری، 500 ہائی اسکول بند ہو گئے
رونالڈو اگر چاہیں تو پرتگال ٹیم میں واپس آ سکتے ہیں:ہیڈ کوچ
روس میں لیبارٹری ملازمہ کی مشکوک موت سے وبا کا خدشہ پیدا
دہشتگردی کا خطرہ،امریکہ نے B-1 طیارے برطانیہ سے ہٹا دیئے
قاتل اسرائیل، 2023 سے اب تک، مقبوضہ مغربی کنارے پر تقریباً 63 ہزار حملے کر چکا ہے
ترکیہ: 21 ممالک نے انطالیہ اعلامیہ منظور کر دیا
حماس کے رہنما کے قتل کی ناکام کوشش  عیسائی ماں اور بیٹی ہلاک
غیر ملکی شہری اور سفارت کار کیف چھوڑ دیں:روس