دنیا
3 منٹ پڑھنے
ٹرمپ نے دو ریاستی حل پر بات کرنے سے انکار کر دیا
میں ایک ریاست یا دو ریاستوں کے بارے میں بات نہیں کر رہا۔ ہم غزہ کی تعمیرِ نو کے بارے میں بات کر رہے ہیں: ٹرمپ
ٹرمپ نے دو ریاستی حل پر بات کرنے سے انکار کر دیا
US President Donald Trump gestures while addressing the Knesset amid a US-brokered Gaza ceasefire and prisoner swap deal on October 13, 2025. / Reuters
14 اکتوبر 2025

امریکہ کےصدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اسرائیل۔فلسطین تنازعے کے دو ریاستی حل کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا اور کہا  ہےکہ اس وقت ان کی توجہ غزہ کی تعمیر ِنو پر مرکوز ہے۔

ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ "میں کسی اور چیز کی بات کر رہا ہوں۔ ہم غزہ کی تعمیر نو کی بات کر رہے ہیں۔"

یہ گفتگو انہوں نے مصر سے واپسی کے دوران  مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے، دو ریاستی حل اور آزاد فلسطینی ریاست کے، مطالبے سے متعلق  سوال کے جواب میں کی ہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا ہے کہ "میں ایک ریاست یا دو ریاست یا دوہری ریاست کی بات نہیں کر رہا۔ ہم غزہ کی تعمیر نو کی بات کر رہے ہیں۔"

پیر کے روز ٹرمپ اور السیسی نے مصر کے سیاحتی مقام شرم الشیخ میں، 20 سے زائد عالمی رہنماؤں کی شرکت سے منعقدہ، ایک اجلاس کی میزبانی کی ۔ اس اجلاس کا مقصد، ترکیہ، مصر، اور قطر کی ضمانت میں،غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کرنا تھا ۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ "کچھ لوگ ایک ریاستی حل کو پسند کرتے ہیں اور کچھ دو ریاستی حل کو۔ ہمیں  اس پہلو کو دیکھنا ہوگا۔ میں نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔" انہوں نے مزید کہا  ہےکہ وہ غزہ کے مستقبل کے منصوبوں پر دیگر ممالک کے ساتھ رابطے میں رہیں گے۔

بدھ کے روز، ٹرمپ نے اعلان کیا  تھا کہ اسرائیل اور حماس نے 29 ستمبر کو پیش کیے گئے 20 نکاتی منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق کر لیا ہے۔ منصوبے میں غزہ میں جنگ بندی، اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بدلے تقریباً 2,000 فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور فلسطینی علاقے سے اسرائیلی افواج کا بتدریج انخلا شامل ہے۔

غزہ میں جنگ بندی  معاہدے کا پہلا مرحلہ جمعہ کے روز نافذ ہوا تھا ۔

منصوبے کے دوسرے مرحلے میں غزہ میں ایک نئے حکومتی نظام کے قیام، فلسطینیوں اور عرب و مسلم ممالک کے فوجیوں پر مشتمل ایک سکیورٹی فورس کی تشکیل اور حماس کو غیر مسلح کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیل، غزہ میں 67,800 سے زائد فلسطینیوں کو قتل کر چُکا ہے۔ قتل کئے گئے فلسطینیوں میں زیادہ تر تعداد عورتوں  اور بچوں کی ہے۔  اسرائیل نے انسانی قتل عام کے ساتھ ساتھ نہایت بے شعوری سے ماحولیاتی قتل عام بھی کیا اور پورے علاقے کو تباہ کر کے  ناقابل رہائش بنا دیا ہے۔

دریافت کیجیے
ایرانی رہنما: ایران دشمن کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا، ہم ہمسایہ ممالک سے معذرت خواہ ہیں
یوکرین کی ایک رہائشی عمارت پر روسی حملے میں متعدد افراد ہلاک
ایردوان اور میلونی نے مشرق وسطیٰ کے بڑھتے ہوئے بحران کے درمیان علاقائی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا
اقوام متحدہ کا مشرق وسطی میں پھیلتی ہوئی جنگ کے باعث 'سنگین انسانی ہنگامی صورتحال' کا اعلان
امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ کے پہلے 36 گھنٹوں میں 3,000 سے زیادہ فضائی حملے کیے: رپورٹ
چین: مشرقِ وسطیٰ میں احتیاط سے کام لیا جائے
یورپی یونین: ترک مصنوعات پر 'میڈ ان ای یو' لیبل چسپاں ہو گا
امریکہ: ہم بھارت کو چین کی طرح اپنا رقیب نہیں بننے دیں گے
امریکی تحقیقات میں ایرانی اسکول پر حملے میں امریکی کردار کی تائید ہوتی نظر آتی ہے — رپورٹ
نیپال میں 2025 کی بغاوت کے بعد پہلے پارلیمانی انتخابات
سعودی عرب نے 3 بیلسٹک میزائلوں کو ناکارہ کر دیا
ایران میں برّی کاروائی کا سوچنا فی الحال وقت کا زیاں ہو گا: ٹرمپ
اسرائیل: ہم نے، بیروت کے جنوبی مضافات پر، نئے فضائی حملے کئے ہیں
اسپین: ٹرمپ سے اپیلیں کرتے رہنا بالکل بے فائدہ ہے
ترک قومی خفیہ سروس کا شام میں کلیدی داعش آپریشن