دنیا
3 منٹ پڑھنے
سوڈان کو موجودہ خانہ جنگی تک لانے والے حالات و واقعات
سوڈان مسلّح افواج اور ریپڈ سپورٹ فورس کے درمیان لڑائی ملک کو تباہی کے دہانے پر لے آئی ہے
سوڈان کو موجودہ خانہ جنگی تک لانے والے حالات و واقعات
This photo released by The Norwegian Refugee Council, shows displaced families from Al Fasher, in Tawila, Darfur region, Sudan, Friday, Oct 31, 2025. / AP

سوڈان اس وقت دنیا کے سنگین ترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق ملکی آبادی  کا نصف سے زیادہ  حصہ یعنی تیس ملین سے زائد افراد  امداد کے محتاج ہیں۔ ان میں سے 9.6 ملین بے گھر ہو چکے ہیں اور تقریباً 15 ملین بچے  ہیں  جو زندگی موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

ملک میں جاری سنگین غذائی قلّت  تقریباً 24 ملین افراد کو متاثر کر رہی ہے۔الفاشر کے قریب مقیم  بے گھر افراد کے کیمپوں میں قحط کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

سوڈان مسلّح افواج اور ریپڈ سپورٹ فورس کے درمیان لڑائی ملک کو تباہی کے دہانے پر لے آئی ہے۔ پورے ملک میں قحط، بڑے پیمانے پر ہجرت اور وسیع پیمانے پر تشدد کا سامنا ہے۔

کون لڑ رہا ہے؟

یہ جنگ، جنرل عبدالفتاح البرہان کی زیرِ قیادت، سوڈان مسلح افواج (SAF) اور، محمد حمدان دگلو المعروف ہمدتی کی زیرِ قیادت، ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF)کے درمیان ہو رہی ہے۔

SAF ملک کی باقاعدہ فوج ہے اور طویل عرصے سے ریاست کا غالب ادارہ رہی ہے۔ دوسری طرف، RSF ، سن 2000 میں جنگِ دارفور کے دوران باغی گروپوں کے مقابل 'جنجاوید' کے نام سے مسلّح کئے گئے گروپوں پر مشتمل ہے۔  

وقت کے ساتھ ساتھ، RSF اپنی کمانڈ، مالیاتی نیٹ ورک، سونے کی کان کنی  اور غیر ملکی تعلقات کی حامل ایک باقاعدہ نیم فوجی فورس میں تبدیل ہو گئی تھی۔

سوڈان اس نقطے تک کیسے پہنچا — ایک ٹائم لائن

2003 کی جنگِ دارفور

2003 میں دارفور میں غیر عرب باغی گروپوں نے سوڈان حکومت کے خلاف بغاوت کی اور  اس پر کئی دہائیوں سے جاری  سیاسی و اقتصادی نظراندازی کے الزامات لگائے۔ خرطوم نے عرب ملیشیا ' جنجاوید ' کو مسلح کر کےبغاوت کا  جواب دیا۔ اس مسلّح گروپ  نے لوٹ مار اور آتش زنی کی مہمیں چلائیں جس کے نتیجے میں  ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوگئے۔

2007 تک یہ انسانی بحران بہت گہرا ہو چکا تھا۔ لاکھوں افراد ہلاک ہو چکے تھے ۔ دو ملین سے زیادہ  انسانوں کو بے گھر کر دیا گیا اور   زمین، شناخت اور طاقت سے متعلقہ بنیادی مسائل جُوں کے توں رہ گئے۔

2013، آر ایس ایف کا قیام

سابق صدر عمر البشیر کے دور میں  جنجاوید کو RSF کے نام سے دوبارہ  منظم کیا گیا۔ اس طرح اس مسلّح گروہ کو  سوڈان خفیہ ایجنسی  کے تحت قانونی حیثیت دے کر "بغاوتوں سے لڑنے" کا کام سونپ دیا گیا۔

سابقہ اونٹوں کے تاجر سے جنگجو بننے والے ' ہمدتی' نے RSF کی کمانڈ سنبھالی اور اسے ایک نیم خودمختار فوجی سلطنت میں تبدیل کر دیا۔

2017: آر ایس ایف کا طاقت حاصل کرنا

سوڈان پارلیمنٹ نے، RSF کے اپنا کمانڈو ڈھانچہ برقرار رکھنے کے باوجود، ایک قانون منظور کر کے اسے قومی مسلح افواج کا حصہ بنادیا ۔

2019 : انقلاب اور بشیر کا زوال

2019 میں ایک طویل عرصے سے عہدہ صدارت پر فائز عمر البشیر کے خلاف بڑے پیمانے کے عوامی مظاہروں کے بعد انہیں معزول کر کے ایک نازک سول۔فوجی عبوری حکومت تشکیل دے دی گئی۔

2023 : خانہ جنگی کا آغاز

اپریل 2023 میں، دونوں افواج کے درمیان خرطوم سے لڑائی شروع ہوئی اور جلد ہی  ملک بھر میں پھیل گئی۔

2024 – 2025 : تباہی اور مظالم

18 ماہ کے محاصرے کے بعد گذشتہ ہفتے RSF نے ،دارفور میں سوڈان مسلّح فوج کے مضبوط گڑھ الفاشر پر قبضہ کر لیا ۔

دریافت کیجیے
چلی: سابق صدر نے اقوام متحدہ کے سربراہ کی دوڑ سےنام واپس لے لیا
ایران نےمذاکرات میں دوبارہ شامل ہونے کا شرط نامہ پیش کردیا
امریکہ کا منشیات کی ترسیل کرنے والے جہاز پر حملہ، 4 افراد ہلاک
اسرائیل کا غزہ پر حملہ، چار فلسطینی ہلاک
ڈیموکریٹ سینیٹر نے اسرائیل کو 2.8 بلین ڈالر کے اسلحے  کی فروخت روک دی
ترک صدر ایردوان نیویارک روانہ،جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے
ایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی   اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
صدر ایردوان کا یوم غازی کے حوالے سے پیغام
یورپ میں تعلیمی بحران: PISA کے نتائج تاریخ کی کم ترین سطح پر
سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا امریکہ کی طرف سے صدرِ فلسطین کو ویزا نہ جاری کرنے پر اظہارِ افسوس
پاکستان میں دہشت گرد حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 31 ہو گئی
اسرائیلی فوج کو تین سالہ جنگوں کے بعد عسکری سازو سامان میں 'شدید کمی' کا سامنا ہے: رپورٹ
صدر ایردوان:"ہم نے ترکیہ کو دنیا کے سب سے بڑے فضائی نیٹ ورکس  میں شامل کیا ہے"
پاکستان میں مسجد کے قریب دھماکہ،  کم ازکم  15 افراد جاں بحق، 50 سے زائد زخمی
ایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی،  لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے