سیاست
3 منٹ پڑھنے
جاپان میں 'سی سی ایچ ایف وائرس'، ایک موت کے بعد الرٹ جاری کر دیا گیا
سی سی ایچ وائرس کے نتیجے میں ایک وٹرنر کی موت کے بعد وائرس کے ملک گیر پھیلاو کا خدشہ محسوس کیا جا رہا ہے
جاپان میں 'سی سی ایچ ایف وائرس'، ایک موت کے بعد الرٹ جاری کر دیا گیا
Japan has recorded over 600 SFTS cases since it was first confirmed in the country in 2013. / Reuters

جاپان میں، حیوانات سے پھیلنے والے   مہلک "کریمین ہیمرجک کانگو بخار" یعنی 'CCHF' وائرس کے نتیجے میں ایک ویٹرنر  کی موت کے بعد  ،  وائرس  کے ملک بھر میں پھیلنے کا اندیشہ محسوس کیا جا  رہا ہے۔

ساوتھ مارننگ چائنہ پوسٹ کے مطابق ایک 50 سالہ ویٹرنر کی موت کے بعد تشویش محسوس کی جا رہی ہے کہ کہیں  'سی سی ایچ ایف' وائرس پورے ملک میں نہ پھیل جائے۔یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اور اس کی علامات میں  شدید بخار، سر درد، پٹھوں میں کھچاو، قے، اسہال اور جلد پر رِستے ہوئے زخم ظاہر ہونا شامل  ہیں۔

اخبار کے مطابق متاثرہ  وٹیرنر  ایک بیمار بلی کا علاج کرنے کے بعد بخار میں مبتلا ہو گیاتھا۔ اسی دن اسے اسپتال میں داخل کیا گیا لیکن چند دنوں میں ہی اس کا انتقال ہو گیا۔ ڈاکٹر کے پوسٹ مارٹم میں کسی حیوانی جُوں یا چچڑی کے کاٹنے کے نشانات نہیں ملےاور نہ ہی اس کے ساتھیوں یا بلی کے مالک نے کسی قسم کی علامات کی اطلاع دی ہے۔

واضح رہے کہ 'سی سی ایچ ایف' ایک متعدی بیماری ہے جو بنیادی طور پر متاثرہ  چچڑی  کے کاٹنے سے پھیلنے والے بونی وائرس کی وجہ سے ظاہر ہوتی ہے۔ یہ بیماری شدید بخار، قے، اسہال اور کئی اعضا کے ناکارہ ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔ سی سی ایچ ایف وائرس کے مریضوں میں  شرح اموات 10 سے 30 فیصد کے درمیان بتائی گئی ہے۔

جاپان میں 2013 میں پہلی بار اس بیماری کی تصدیق کے بعد سے 600 سے زیادہ کیسوں کا اندراج کیا جا  چکا ہے جن میں زیادہ تر کاتعلق مئی، واکایاما، اور شیمانے جیسے مغربی علاقوں سے ہے۔

جاپان کی ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن نے ایک الرٹ جاری کیا ہےجس میں ویٹرنری ڈاکٹروں کو جانوروں یا ان کی لاشوں کو سنبھالتے وقت حفاظتی سامان جیسے ماسک، دستانے اور حفاظتی چشمے  پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مقامی حکام اس انفیکشن کےسبب کی تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وائرس براہ راست بلی سے ویٹرنر کومنتقل ہوا ہے یا اس کی کوئی وجہ تھی۔

اگرچہ پالتو جانوروں سے 'سی سی ایچ ایف'  کیس شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتے  ہیں لیکن اس واقعے نے متاثرہ گھریلو جانوروں سے لاحق خطرات کے بارے میں نئے اندیشوں کو جنم دیا ہے۔ خاص طور پر موسم بہار اور خزاں کے درمیان، جب چچڑیوں اور جووں  کی افزائش عروج پر ہوتی ہے، محتاظ رہنے کی تنبیہ کی گئی ہے۔

حکام عوام کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ چچڑی  سے بچاؤ کے لیے اسپرے استعمال کریں، گھاس والے علاقوں میں لمبی آستین والی قمیضوں کا اور شارٹس کی بجائے پتلونوں کا استعمال کریں۔ علاوہ ازیں بیمار یا آوارہ جانوروں کی دیکھ بھال  کے وقت  اضافی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

دریافت کیجیے
جنوبی فلپائن میں ہولناک زلزلے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 61 تک پہنچ گئی
فلسطینی فٹبال  چیف ورلڈ کپ میں شرکت کرنے کے لیے امریکی ویزے سے محروم
سروے کے مطابق نتن یاہو کی لیکود پارٹی کی حمایت ایک سال کی کم ترین سطح پر
امریکہ یورپ میں نیٹو کے لیے تعینات طیاروں اور جنگی جہازوں  کی تعداد میں گراوٹ لائے گا
جنوبی کوریا نے ورلڈ کپ کا آغاز فتح سے کیا
ٹرمپ: 'عظیم' معاہدہ ہونے کو ہے، ایران: فیصلہ ابھی حتمی نہیں ہے
ترک ہلال احمر عالمی انسانی دوستانہ کوششوں کی بدولت مظلوم انسانوں کے دلوں میں گھر کر رہا ہے: ایردوان
ایران: ہم  نے 18 اہم امریکی فوجی اہداف پر حملے کئے ہیں
ٹرمپ: تہران انتظامیہ نے مجھے فون کیا ہے
فلپائن: زلزلہ زدہ دیہات میں فاقہ کشی کا سامنا
ڈاکٹر حسام ابو صفیہ: "مجھے رہا کیا جائے"
ہم نے اردن میں امریکی اڈّوں کو نشانہ بنایا ہے: ایران
ہماری کوشش ہوگی کہ پاکستان کو پانی کی ایک بوند نہ ملے:بھارت
یونان نے مہاجرین کی بے دخلی کا قانون منظور کر لیا
جوہانسبرگ: مسلح حملہ 12 افراد ہلاک