امریکہ نے منگل کو اعلان کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کیے گئے تجارتی معاہدے کے تحت ٹوکیو کی جانب سے وعدہ کیے گئے 550 بلین ڈالر میں سے جاپان نے پہلی قسط کے طور پر سرمایہ کاریوں کا آغاز کیا ہے۔
تین انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے 36 بلین ڈالر کی یہ ادائیگی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب جاپان پر ان وعدوں کو پورا کرنے کا دباؤ ہے جو اس نے 2025 میں کم امریکی تجارتی محصولات کے عوض کیے تھے۔
ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا ہے: "جاپان اب باضابطہ اور مالی طور پر اپنے 550 بلین ڈالر کے وعدے کے تحت امریکہ میں سرمایہ کاریوں کے پہلے مرحلے کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔"
انہوں نے لکھا: "ان منصوبوں کا دائرہ بہت وسیع ہے، اور یہ ایک بہت خاص لفظ کے بغیر ممکن نہ تھا، یعنی ٹیرفس"
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہےجب وزیرِ اعظم سناے تاکائیچی کا آئندہ ماہ وائٹ ہاؤس کا طے شدہ دورہ متوقع ہے، یہ دورہ اکتوبر میں ٹرمپ کے جاپان کے دورے کے بعد سر انجام پائے گا۔
تاکائیچی نے بدھ کو کہا کہ یہ منصوبے "جاپان اور امریکہ کے اتحاد کو مضبوط کریں گے کیونکہ یہ اقتصادی سلامتی کے لیے اسٹریٹیجک طور پر اہم شعبوں میں—جیسے کہ اہم معدنیات، توانائی، اور مصنوعی ذہانت/ڈیٹا سینٹرز—پائیدار سپلائی چینوں کی مشترکہ تعمیر ممکن بنائیں گے۔"
تاکائیچی نے X پر کہا: "ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اقدامات، جاپان اور امریکہ کے درمیان باہمی فوائد کی ترویج، اقتصادی سلامتی کی بہتری، اور اقتصادی ترقی کا فروغ جیسے سٹریٹیجک سرمایہ کاری اقدام کے مقصد کی عکاسی کرتے ہیں ۔"
انہوں نے مزید کہا: "آگے بڑھتے ہوئے، ہم جاپان اور امریکہ کے درمیان مل کر ہر منصوبے کی تفصیلات کو مزید نکھارنے اور یہ یقینی بنانے کے لیے قریبی طور پر کام کرتے رہیں گے کہ انہیں تیزی اور آسانی سے نافذ کیا جا سکے۔"
وسیع پیمانے کی تجارتی کامیابی
یہ منصوبے اوہائیو میں ایک قدرتی گیس کی تنصیب، خلیج میکسیکو میں تیل برآمدی سہولت، اور مصنوعی ہیرےبنانے کی ایک فیکٹری پر مشتمل ہیں۔
امریکی سیکرٹری تجارت ہاورڈ لٹ نک نے ان اعلانات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ایکس پر لکھا ہے کہ قدرتی گیس سے بجلی پیدا کرنے والی یہ تنصیب "تاریخ کی عظیم ترین" ہوگی اور 9.2 گیگاواٹ بجلی پیدا کرے گی۔
تاکائیچی نے کہا کہ یہ مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز اور اسی نوعیت کی تنصیبات کو بجلی فراہم کرے گی۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، مکمل صلاحیت پر یہ نو جوہری ری ایکٹرز کے برابر ہوگا یا تقریباً 7.4 ملین گھروں کے استعمال کے برابر توانائی پیدا کرے گا۔
لٹ نک نے کہا کہ تیل کا منصوبہ سالانہ 20–30 بلین ڈالر امریکی خام تیل کی برآمدات کا موقع دے گا اور "امریکہ کو دنیا کے سب سے بڑے توانائی فراہم کنندہ کے طور پر مضبوط کرے گا۔"
انہوں نے مزید کہا کہ جہاں چین اس مصنوعی ہیرے کی گریٹ کی سپلائی میں غلبہ رکھتا ہے، اس فیکٹری سے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ امریکہ اب درآمدات پر انحصار نہ کرے۔
"جاپان ان تینوں منصوبوں کے لیے سرمایہ فراہم کر رہا ہے۔ انفراسٹرکچر امریکہ میں تعمیر کیا جا رہا ہے،"
"آمدن اس طرح ترتیب دی گئی ہے کہ جاپان کو اس کا منافع ملے اور امریکہ کو اسٹریٹجک اثاثے، صنعتی صلاحیت میں توسیع، اور توانائی میں بالادستی حاصل ہو۔"
تعمیرِ نو اور توسیع
وائٹ ہاؤس کے مطابق، جولائی میں ٹوکیو نے 2029 تک امریکی بنیادی صنعتوں کو "تعمیرِ نو اور توسیع" دینے کے لیے 550 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری پر اتفاق کیا تھا۔
یہ عہد اس کے بدلے میں کیا گیا تھا کہ امریکی طرف سے جاپانی درآمدات پر 25 فیصد کے ممکنہ ٹیرف کو 15 فیصد تک کم کیا جائے گا۔
جاپانی وزیرِ تجارت ریوسے آکازاوا نے کہا ہے کہ 550 بلین ڈالر میں سے صرف ایک سے دو فیصد ہی اصل سرمائے کی صورت میں ہوگا۔
باقی رقم جاپان بینک فار انٹرنیشنل کوآپریشن (JBIC) کی بانڈز اور قرضوں اور عوامی ضمانتوں کے ساتھ کریڈٹس پر مشتمل ہوگی۔
تاکائیچی کے 19 مارچ کے وائٹ ہاؤس کے منصوبہ بند دورے سے قبل وقت کم ہوتا جا رہا ہے، اور میڈیا رپورٹس کے مطابق مزاج میں کشیدگی بڑھنے لگی ہے۔
ٹرمپ نے جنوری میں 350 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ ہونے والے جنوبی کوریا سے کہا تھا، کہ وہ ٹیرف بڑھا دیں گے کیونکہ وہ "اپنے وعدے پر پورا نہیں اتر رہا۔"
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جاپانی کمپنیاں انتظامی اور مالیاتی طریقہ کار کی وضاحت نہ ہونے اور امریکہ میں محنت کشوں کی قلت کے خدشات کی وجہ سے محتاط ہو سکتی ہیں۔














