امریکہ، یوکرین اور روس نے متحدہ عرب امارات میں مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا ہے، کریملن نے کہا، یہ اعلان ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوتن اور سینئر امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے درمیان "مثبت " مذاکرات کے بعد کیا گیا ہے۔
یوکرین میں جنگ ختم کرنے کی سفارتی کوششیں حالیہ مہینوں میں تیز ہو چکی ہیں، تاہم ماسکو اور کیف زمینی حدود اور بعدِ جنگ انتظامات پر اختلافات رکھتے ہیں۔
کریملن کے مطابق اسٹیو وٹکوف کی قیادت میں امریکی مذاکرات کاروں نے ماسکو میں پوتن کے ساتھ مذاکرات کیے۔
کریملن کے سفارتی مشیر یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ مذاکرات "ہر لحاظ سے مفید" رہے۔
وٹکوف اور امریکی وفد اب ابو ظہبی جا رہے ہیں، جہاں بات چیت جاری رہنے کی توقع ہے۔
اوشاکوف نے کہا کہ ایک روسی وفد بھی متحدہ عرب امارات جائے گا جس کی قیادت روسی فوجی انٹیلی جنس ایجنسی GRU کے ڈائریکٹر جنرل ایگور کوستیُکوف کریں گے ۔
انہوں نے مزید کہا، " سکیورٹی امور پر تین طرفہ ورکنگ گروپ کی پہلی ملاقات آج ابو ظہبی میں طے ہے۔"
مذاکرات کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں اور یہ بھی واضح نہیں کہ آیا روسی اور یوکرینی حکام بلمشافہ ملاقات کریں گے یا نہیں۔
اوشاکوف نے کہا "ہم واقعی میں تنازعات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ "جب تک یہ عمل میں نہیں آتا، روس میدانِ جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کرتا رہے گا۔"
جمعرات کو یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا تھا کہ ایک مسودہ معاہدہ " تقریباً تیار" ہے اور انہوں نے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے بعد سکیورٹی ضمانتوں کے مسئلے پر اتفاق کیا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں ہونے والی بات چیت تازہ ترین سفارتی کوششوں کے آغاز کے بعد واشنگٹن، کیف اور ماسکو کے حکام کے درمیان پہلی تصدیق شدہ تین طرفہ ملاقات کی علامت ہے۔













