ترکیہ-عراق تعلقات کا مستقبل انقرہ میں ایک پینل میں مرکزِ بحث رہا، جہاں ماہرین نے کہا کہ ادارہ جاتی تعاون میں توسیع اور مشترکہ سکیورٹی خدشات دونوں پڑوسیوں کے تعلقات کو بڑھتے ہوئے طور پر متعین کر رہے ہیں۔
اس پروگرام کا عنوان"نئے علاقائی محرکات اور ترکیہ-عراق تعلقات کا مستقبل," تھا جو کہ سیاسی، اقتصادی وسماجی انجمن اور سیتا ادارے کے زیرِ اہتمام منعقد ہوا تھا۔ اس دوران ترکیہ اور عراق کے تجزیہ کاروں کو یکجا کر کے تعلقات کے سیاسی، سکیورٹی اور اقتصادی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔
انادولو ایجنسی کی ڈائریکٹر بلگے دومان نے کہا کہ عراق خطے میں ایک کلیدی مقام رکھتا ہے اور وہاں کی پیش رفت کا اثر براہ راست ترکیہ پر پڑتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ انقرہ کی پالیسی عراق کی سیاسی یکجہتی کو ترجیح دیتی ہے اور یہ پالیسی وزیرِ اعظم محمد شیعہ السودانی کے زیرِ قیادت تقویت حاصل کر چکی ہے۔
ترکیہ کا عراق کے بحران کے حوالے سے نقطہ نظر
دومان نے کہا کہ عراق میں 2019 کے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ترکیہ کا زیادہ ادارہ جاتی اور محتاط رویہ اس کی توازن برقرار رکھنے والے فریق کی شبیہ کو مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوا، ہمیں دو طرفہ تعلقات کو وسیع علاقائی رقابتوں سے آزاد رہ کر آگے بڑھانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ PKK دہشت گرد تنظیم اور داعش کی موجودگی کو مشترکہ کارروائی کے اہم معاملات ہیں۔
دومان نے کہا،”میں سمجھتی ہوں کہ ترکیہ-عراق تعلقات کو علاقائی عمل سے علیحدہ ہو کر آگے بڑھنا چاہیے۔”
ترکیہ اور عراق کے حساس تعلقات
انادولو کے چیف رپورٹر محمت الاچا نے کہا کہ تعلقات ادارہ جاتی نوعیت اختیار کر رہے ہیں، مگر علاقائی کشیدگیوں کے لیے حساسیت برقرار ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ حالیہ علاقائی پیش رفت یا تو مجموعی پیش رفت کو تیز کر سکتی ہیں یا تعاون کو متاثر کر سکتی ہیں۔
جہاں تک پانی کے تنازعات کا تعلق ہے جو وقفے وقفے سے عراقی سیاست میں سرِ اٹھاتے ہیں، الاچا نے کہا کہ بعض فریق اس مسئلے کو اشتعال انگیز انداز میں استعمال کرتے ہیں، جبکہ ترکیہ مستقل طور پر اسے انسان دوست نقطہ نظر سے پیش کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بغداد ،شمالی عراق میں PKK کی موجودگی کے حوالے سے ترکیہ کی تشویش کو بالائے طاق رکھ رہا ہے، کیونکہ عراق کے قندیل پہاڑ اس دہشت گرد گروہ کا مرکزی ٹھکانہ تصور کیے جاتے ہیں۔
الاچا نے یہ بھی کہا کہ شامی انتظامیہ اور YPG کے درمیان تناؤ میں کمی، اس کے بعد جنگ بندی اور انضمامی عمل، ترکیہ-عراق تعلقات کے لیے مثبت ثانوی اثرات پیدا کر سکتے ہیں۔
"انقرہ-بغداد تعاون کو گہرا کرنے کی صلاحیت"
بغداد یونیورسٹی کے عادل بدوی نے عراقی نقطہ نظر سے کہا کہ خلیجی کشیدگیاں اور امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ نے ایک نازک سکیورٹی ماحول پیدا کیا ہے جو دونوں ممالک کو متاثر کرتا ہے۔









