سیاست
3 منٹ پڑھنے
ترکیہ اور عراق کے تعلقات میں، امن اور علاقائی تبدیلیوں کے باعث تیزی کا مشاہدہ
عراق خطے میں ایک کلیدی مقام رکھتا ہے اور وہاں کی پیش رفت کا اثر براہ راست ترکیہ  پر پڑتا ہے۔
ترکیہ اور عراق کے تعلقات میں، امن اور علاقائی تبدیلیوں کے باعث تیزی کا مشاہدہ
ترکی اور عراق کے سفارتی تعلقات کا آغاز 1927 میں ہوا، جب پہلے عراقی سفیر نے انقرہ میں بطور ناظم الامور خدمات انجام دینا شروع کیں۔ / AA

ترکیہ-عراق تعلقات کا مستقبل انقرہ میں ایک پینل میں مرکزِ بحث رہا، جہاں ماہرین نے کہا کہ ادارہ جاتی تعاون میں توسیع اور مشترکہ سکیورٹی خدشات دونوں پڑوسیوں کے تعلقات کو بڑھتے ہوئے طور پر متعین کر رہے ہیں۔

اس پروگرام کا عنوان"نئے علاقائی محرکات اور ترکیہ-عراق تعلقات کا مستقبل,"  تھا جو کہ سیاسی، اقتصادی  وسماجی انجمن   اور  سیتا ادارے  کے زیرِ اہتمام منعقد ہوا تھا۔  اس دوران ترکیہ اور عراق کے تجزیہ کاروں کو یکجا کر کے  تعلقات کے سیاسی، سکیورٹی اور اقتصادی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔

انادولو ایجنسی کی ڈائریکٹر بلگے دومان نے  کہا کہ عراق خطے میں ایک کلیدی مقام رکھتا ہے اور وہاں کی پیش رفت کا اثر براہ راست ترکیہ  پر پڑتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ انقرہ کی پالیسی عراق کی سیاسی یکجہتی کو ترجیح دیتی ہے اور یہ پالیسی وزیرِ اعظم محمد شیعہ  السودانی کے زیرِ قیادت تقویت حاصل کر چکی  ہے۔

ترکیہ کا عراق کے بحران کے حوالے سے نقطہ نظر

دومان نے کہا کہ عراق میں 2019 کے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ترکیہ کا زیادہ ادارہ جاتی اور محتاط رویہ اس کی توازن برقرار رکھنے والے فریق کی شبیہ کو مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوا، ہمیں دو طرفہ تعلقات کو وسیع علاقائی رقابتوں سے آزاد رہ کر آگے بڑھانا چاہیے۔

 انہوں نے کہا کہ  PKK دہشت گرد تنظیم اور داعش کی موجودگی کو مشترکہ کارروائی کے اہم  معاملات  ہیں۔

دومان نے کہا،”میں سمجھتی ہوں کہ ترکیہ-عراق تعلقات کو علاقائی عمل سے علیحدہ ہو کر آگے بڑھنا چاہیے۔”

ترکیہ اور عراق کے حساس تعلقات

انادولو کے چیف رپورٹر محمت الاچا نے کہا کہ تعلقات ادارہ جاتی نوعیت اختیار کر رہے ہیں، مگر علاقائی کشیدگیوں کے لیے حساسیت برقرار ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ حالیہ علاقائی پیش رفت یا تو مجموعی پیش رفت کو تیز کر سکتی ہیں یا تعاون کو متاثر کر سکتی ہیں۔

جہاں تک پانی کے تنازعات کا تعلق ہے جو وقفے وقفے سے عراقی سیاست میں سرِ اٹھاتے ہیں، الاچا نے کہا کہ بعض فریق اس مسئلے کو اشتعال انگیز انداز میں استعمال کرتے ہیں، جبکہ ترکیہ مستقل طور پر اسے انسان دوست  نقطہ نظر سے پیش کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بغداد ،شمالی عراق میں PKK کی موجودگی کے حوالے سے ترکیہ کی تشویش کو بالائے طاق رکھ  رہا ہے، کیونکہ عراق کے قندیل پہاڑ اس دہشت گرد گروہ کا مرکزی ٹھکانہ تصور کیے جاتے ہیں۔

الاچا نے یہ بھی کہا کہ شامی انتظامیہ اور YPG کے درمیان تناؤ میں کمی، اس کے بعد جنگ بندی اور انضمامی عمل، ترکیہ-عراق تعلقات کے لیے مثبت ثانوی اثرات پیدا کر سکتے ہیں۔

"انقرہ-بغداد  تعاون کو گہرا کرنے کی صلاحیت"

 بغداد یونیورسٹی کے عادل بدوی نے عراقی نقطہ نظر سے کہا کہ خلیجی کشیدگیاں اور امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ نے ایک نازک سکیورٹی ماحول پیدا کیا ہے جو دونوں ممالک کو متاثر کرتا ہے۔

دریافت کیجیے
امریکہ نے 'نگرانی میکانزم' شروع کر دیا
ناروے سینیگال کو 3۔ 2 کے اسکور سے شکست دیتے ہوئے ناک راونڈ میں پہنچ گیا
فرانس: گرمی کی شدت میں اضافہ،عوام پریشان
ایران نے ایٹمی ایجنسی کی ٹیم کےملک میں آنے پر رضا مندی ظاہر کر دی
یونانی عدالت نے اقلیتی ترک شہریوں کو مذہبی پالیسی کے خلاف خلاف احتجاج کرنے پر سزا سنا دی
سوٹزرلینڈ میں ایران۔امریکہ مذاکرات، پاکستان اور قطر کا مشترکہ بیان
عالمی کپ 2026:مصر نے نیوزی لینڈ کو 1-3 سے ہرا دیا
اسرائیلی فوج نے دو فلسطینیوں کو قتل کر دیا
قطر : صنعتی پلانٹ میں دھماکہ، درجنوں زخمی اور لاپتا
اسٹارمر مستعفی ہو جائیں گے:ٹرمپ
ماسکو کے ہوائی اڈوں کو قلیل مدت کے لیے بند کر دیا گیا، تقریباً 60 ڈراونز کو مار گرایا گیا ہے، روس
فلپائن میں اسکول میں فائرنگ کے واقعے میں تین افراد ہلاک، متعدد زخمی
ہم، لبنان میں فوجی مداخلت کے موقف کی طرف واپس پلٹنا نہیں چاہتے:شرع
ایرانی مذاکراتی وفد اور امریکی نائب صدر وینس سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے
لبنان کے متعدد علاقوں پر اسرائیلی حملے، 7 افراد ہلاک