سیاست
3 منٹ پڑھنے
ہم سے کسی عالمی رہنما نے آپریشن روکنے کو نہیں کہا: مودی
بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے دوران کسی بھی غیر ملکی رہنما نے جنگ بندی میں ثالثی نہیں کی: نریندر مودی
ہم سے کسی عالمی رہنما نے آپریشن روکنے کو نہیں کہا: مودی
FILE PHOTO: U.S. President Donald Trump and Indian Prime Minister Narendra Modi attend a joint press conference at the White House in Washington, D.C. / Reuters

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے  درمیان حالیہ جھڑپوں  کے دوران کسی بھی غیر ملکی رہنما نے جنگ بندی میں ثالثی نہیں کی۔

مودی  نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا  ہےکہ واشنگٹن نے امن قائم کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔

مئی میں پاکستان کے خلاف شروع  کئے گئے "آپریشن سندور" پر پارلیمنٹ میں بحث کے دوران ٹرمپ کا نام لئے بغیر انہوں نے کہا ہے کہ "کسی عالمی رہنما نے ہم سے آپریشن روکنے کو نہیں کہا۔"

7 مئی سے، ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ تقریباً 30 بار یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ امریکہ نے جوہری ہتھیاروں سے لیس ان دو ہمسایہ ممالک کے درمیان مکمل جنگ بندی میں کردار ادا کیا ہے۔ اسلام آباد نے واشنگٹن کے کردار کو تسلیم کیا ہے لیکن نئی دہلی اس کی مسلسل تردید کر رہا ہے۔

مختصر جھڑپ

یہ جھڑپ اپریل میں بھارتی زیر انتظام کشمیر میں ایک دہشت گردانہ  حملے کے بعد شروع ہوئی۔ حملے میں زیادہ تر ہندووں پر مشتمل 26 سیاح ہلاک ہو گئے تھے۔

بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر لگایا اور کہا تھا کہ وہ حملہ آوروں کی حمایت کر رہا ہے۔ تاہم اسلام آباد نے اس الزام کو مسترد کر دیا تھا۔

مئی میں چار دن کی شدید لڑائی کے دوران دونوں طرف سے 70 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔

ٹرمپ نے پیر کے روز اسکاٹ لینڈ کے دورے کے دوران کہا تھا کہ "اگر میں  نہ ہوتا تو اس وقت چھ بڑی جنگیں ہو رہی ہوتیں اور بھارت، پاکستان کے ساتھ لڑ رہا ہوتا۔"

تاہم، مودی نے دعویٰ کیا  ہےکہ جنگ بندی کی درخواست پاکستان نے کی تھی۔

انہوں نے کہا ہے کہ "انہیں ہمارے حملوں کی شدت کا سامنا کرنا پڑا ہے"۔

یہ بیان اس وقت دیا گیا ہے جب حزب اختلاف  کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی نے مودی کو چیلنج کیا کہ وہ پارلیمنٹ میں کہیں کہ " ڈونلڈ ٹرمپ جھوٹ بول رہے ہیں"۔

واضح رہے کہ کشمیر، جو ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے، 1947 سے بھارت اور پاکستان کے درمیان تقسیم ہے۔ دونوں ممالک اس پر مکمل حق کا دعویٰ کرتے ہیں اور اس علاقے پر دو جنگوں اور متعدد تنازعات کا سامنا کر چکے ہیں۔

مئی کی لڑائی نے ان حریفوں کو ایک اور بڑی جنگ کے قریب کر دیا لیکن ٹرمپ نے عوامی طور پر جنگ کو روکنے کا سہرا اپنے سر لے لیا ۔ یہ  ایک ایسا دعویٰ  ہےجسے اسلام آباد نے تسلیم کیا لیکن نئی دہلی نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

دریافت کیجیے
ٹرمپ: ہم ایردوان کے ساتھ ایف-35 کے معاملے پر بات کریں گے
ترک وزیر خارجہ فیدان: یورپی سلامتی کو یورپی یونین تک محدود نہیں کیا جا سکتا
فیدان  کے انقرہ میں نیٹو سمٹ سے قبل امریکی سینیٹرز سے مذاکرات
یورپ انقرہ میں نیٹو اجلاس کو ٹرمپ کو اجتماعی دفاع میں اپنی دلچسپی دکھانے کا ،مظاہرہ کرے گا: جرمنی
انقرہ میں نیٹو سمٹ سے قبل پوتن اور ٹرمپ کی یوکرین کے معاملے پر بات چیت
اسرائیل حکومت اپنی بگڑتی ساکھ کو بچانے کے لیے نئے دشمن کی متلاشی ہے، ترک وزیر خارجہ
روس اور امریکہ پر  عظیم جوہری طاقتیں ہونے کے ناطے عالمی سلامتی کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، پوتن
ایردوان اور میلونی نے انقرہ نیٹو سمٹ سے قبل دفاعی روابط پر بات چیت کی
یوکرین سے ایران تک: نیٹو انقرہ سمٹ میں زیر غور آنے والے ممکنہ موضوعات کا جائزہ
نیٹو سیکریٹری جنرل: "ترکیہ میثاق کی سب سے طاقتور افواج میں سے ایک ہے"
امریکہ نے اسرائیل اور لبنان امن  معاہدے کے فریم کی تفصیلات جاری کر دیں
میلونی: ٹرمپ کے تبصروں سے مجھے ' سخت حیرانگی' ہوئی ہے
امریکہ اور ایران نے سوئٹزرلینڈ میں اعلی سطحی مذاکرات مکمل کر لیے ہیں، ثالث ممالک
وٹکوف اور عراقچی اسرائیل کے لبنان پر قبضے کے دوران سویٹزرلینڈ میں مذاکرات کے لیے جا رہے ہیں
ممکن ہے کہ نیتن یاہو ٹرمپ کے ایران امن معاہدے کو خطرے میں ڈال دے: امریکی انٹیلی جنس
امریکہ اور ایران کے درمیان مقرر کردہ مذاکرات میں تاخیر
امریکہ-ایران معاہدے سے متعلق تیکنیکی مسائل تا حال حل نہیں ہوئے: ترک وزیر خارجہ
2022 کا استنبول یوکرین معاہدہ مغربی مداخلت کی وجہ سے بگڑا، روس کا دعوٰی
امریکہ-ایران امن معاہدے کے باوجوداسرائیلی فوج لبنان میں طویل المدت قبضے کی تیاری کر رہی ہے — رپورٹ
لبنان میں جنگ کا خاتمہ ایران کی جنگ کے خاتمے کے لیے 'لازمی شرط' ہے: وزیر خارجہ عراقچی