پاکستان میں ایک خود کش حملہ آور کے دھماکے میں چودہ سیکیورٹی اہلکار اور ایک بچہ ہلاک ہو گئے ۔
حکام نے بتایا ہے کہ ایک خودکش بمبار نے اپنی بارودی گاڑی دھماکے سے ہوا میں اڑا دی۔ دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے 12 دہشت گرد وں کو جہنم واصل کر دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے پیر کی رات شمال مغربی خیبر پختونخوا کے باجوڑ ضلع میں ایک خودکش حملے کو کامیابی سے ناکام بنایا، جب دہشت گرد میلنجے علاقے میں ایک سیکیورٹی چیک پوائنٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش میں تھے۔
آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ" حملہ آور چیک پوسٹ کی سیکیورٹی میں دراندازی کی کوشش کر رہے تھے؛ تاہم، ان کے شرپسند ارادے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے چوکس اور پختہ ردِ عمل سے تیزی اور مؤثر انداز میں ناکام بنا دیے گئے۔" اپنے غیرمتزلزل حوصلے اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے، ہماری بہادر افواج نے فرار ہونے والے بارہ خوارج کو ہلاک کر دیا ۔
پاکستانی فوج دہشت گردوں کو 'خوارج' کہتی ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق، ایک بچہ بھی ہلاک ہوا، جبکہ قریبی گھروں میں آٹھ دیگر شہری — جن میں سات بچے شامل ہیں — زخمی ہوئے۔
دوسری جانب، وزیرِ داخلہ نے بتایا ہے کراچی میں دہشت گردوں کے خلاف ایک انسدادِ دہشت گردی آپریشن کے دوران چار دہشت گرد ہلاک ہو گئے جبکہ اس دوران دو پولیس افسر زخمی ہو ئے۔
محسن نقوی نے کہا کہ میں پولیس اور تمام سیکیورٹی فورسز کی دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کامیاب کارروائیوں کو سراہتا ہوں۔
حالیہ برسوں میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا اور جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں سیکیورٹی اہلکاروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سرکاری تنصیبات پر بم دھماکے اور دہشت گردانہ حملوں کی رپورٹیں موصول ہوئی ہیں۔
پیر کے روز بھی ، شمال مغربی خیبر پختونخوا کے شنگلا ضلع میں دہشت گردوں کے خلاف ایک اور کارروائی میں کم از کم تین پولیس افسر ہلاک ہو گئے تھے۔ اسی آپریشن میں دو دہشت گرد بھی ہلاک ہوئے۔
اسی دن پیر کو، خیبر پختونخوا کے بنوں ضلع میں ایک آئی ای ڈی پھٹنے سے کم از کم دو افراد ہلاک اور 17 افراد زخمی ہوئے۔















