ثقافت
3 منٹ پڑھنے
برطانیہ میں فلسطین ایکشن گروپ پر پابندی کی مذمت اور اسرائیل کو ہتھیار فراہم نہ کرنے کی اپیل
چار سو سے زائد برطانوی فنکاروں اور موسیقکاروں نے حکومت کے فلسطین ایکشن پر پابندی لگانے کے منصوبے کی مذمت کی ہے، اس کو جمہوریت پر حملہ قرار دیتے ہوئے اسرائیل کو ہتھیار فروخت بند کرنے کی مطالبہ کیا۔
برطانیہ میں فلسطین ایکشن گروپ پر پابندی کی مذمت اور اسرائیل کو ہتھیار فراہم نہ کرنے کی اپیل
Police officers block a street as pro-Palestinian demonstrators gather in protest against plans to proscribe the "Palestine Action" group / Reuters

چار سو سے زائد ثقافتی شخصیات کے ایک گروپ نے پیر کے روز برطانوی حکومت سے اپیل کی کہ وہ فلسطین ایکشن گروپ پر پابندی لگانے کے ارادے سے پیچھے ہٹ جائے اور "اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنا بند کرے۔"

یہ اپیل ایک کھلے خط میں کی گئی  ہے جس پر معروف فنکاروں نے دستخط کیے، جن میں موسیقار پال ویلار، میسیو اٹیک کے رابرٹ ڈیل نجا، برائن اینو، اور امریکی فنکار ریگی واٹس شامل تھے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ"فلسطین ایکشن نسل کشی کو روکنے کے لیے مداخلت کر رہا ہے۔ یہ زندگی بچانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ ہم اسے غیر قانونی قرار دیے جانے کے حکومت کے فیصلے کی مذمت کرتے ہیں"۔

فنکاروں نے نشاندہی کی کہ غیر متشدد براہ راست کارروائی کو دہشت گردی قرار دینا "اظہار خیال  اور جمہوریت پر حملہ ہے۔"

" انہوں نے مزید کہا کہ قوم کی زندگی کے لیے حقیقی خطرہ فلسطین ایکشن سے نہیں بلکہ وزیر داخلہ کی کوششوں سے ہے جو اسے غیر قانونی قرار دینے  کے درپے ہے۔"

خط  میں اپیل کی گئی  کہ حکومت فلسطین ایکشن پر پابندی کے فیصلے کو واپس لے اور "اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنا بند کرے۔"

برطانیہ کو 'غصے اور مخالفت کا سامنا  کرنا پڑے گا'

گزشتہ ہفتے، وزیر داخلہ یوویٹ کوپر نے فلسطین ایکشن، جو ایک برطانوی گروپ ہے اور اسرائیلی حکومت کو ہتھیار فراہم کرنے والے اسلحہ سازوں کی کاروائیوں کو روکنے کا مقصد رکھتا  ہے، کو غیر قانونی قرار دینے کے ارادے کا اعلان کیا۔

یہ اعلان اس وقت  کیا گیا جب اس گروپ کے کارکنوں نے 20 جون کو آکسفورڈشائر میں آر اے ایف برائز نورٹن میں داخل ہو کر دو طیاروں کو نقصان پہنچایا تاکہ برطانیہ کی اسرائیل کی حمایت اور غزہ پر حملوں کے خلاف احتجاج کیا جا سکے۔

کوپر نے کہا کہ وہ یہ اقدام دہشت گردی ایکٹ کے تحت کریں گی — ایک ایسا اقدام جو فلسطین ایکشن کا رکن بننا یا اس کی حمایت کی دعوت دینا غیر قانونی بنا دے گا۔

اسی دن سینکڑوں افراد نے ٹریفلگر اسکوائر کے مرکز میں جمع ہو کر فلسطین ایکشن کی حمایت کا اظہار کیا، جب کہ اطلاعات تھیں کہ اس گروپ کو دہشت گردوں کی  فہرست میں شامل کیا جائے گا۔

آرٹسٹس فار فلسطین یو کے کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا: "اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی فیصلے کو فنکاروں نے اتنی فوری طور پر اور ملک بھر میں اتنی وسیع پیمانے پر چیلنج کیا ہو۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "اگر حکومت اس پابندی پر اصرار کرتی ہے تو اسے بڑے پیمانے پر غصے اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔"

 

دریافت کیجیے
فرانس اور ہسپانیہ میں بے قابو ہونے والی جنگلات کی آگ کے باعث دو لاکھ افراد فرار
ترکیہ: یوروفائٹر ٹائیفون کی تربیت کے لئے پہلا پائلٹ گروپ برطانیہ بھیجا جا رہا ہے
ایران، جنگ کی بھاری قیمت چُکا رہا ہے: روبیو
امریکی اسٹاک مرکیٹوں میں تناو، تیل 100 ڈالر سے اوپر چلا گیا
اسرائیلی فوج نے تین فلسطینیوں کو قتل کر کے لاشیں قبضے میں لے لیں
روسی گودام پر یوکرینی ڈرون حملے
جاپان امید کرتا ہے کہ فلسطین کے لیے حمایت میں اضافہ ہوگا
ترکیہ COP31 پروگرام میں رضاکار بننے کے لیے درخواستیں جاری
چین نے آبنائے تائیوان میں دو روزہ فوجی مشقیں شروع کر دیں
ایران: ہمارا دفاعی نظریہ بالکل واضح ہے، "آنکھ کے بدلے آنکھ"
اسرائیل نے تازہ خلاف ورزیوں میں چار فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے
امریکہ نے ایران پر حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا
نیٹو کا 'فرنٹ ڈور' منصوبہ ،ترک دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کا ہدف
ترک خواتین اور مردوں کی ٹیمیں VNL فائنلز میں پہنچ گئیں
فرانس میں پھِیلتی جنگلاتی آگ،سینکڑوں افراد کا انخلا