امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کل بروز ہفتہ وینزویلا آپریشن کے بعد کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو کو بھی ایک سخت وارننگ دی اور اپنی تُند بیانی کو کیوبا اور علاقائی سیاست تک پھیلا دیا ہے۔
فلوریڈا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جب ٹرمپ سے ، کولمبیا کے صدر پیٹرو گستاوو کے وینزویلا حملوں کے نتائج کو ہلکا لینے کے بارے میں ، پوچھا گیا تو انہوں نے گستاوو کو امریکہ میں منشیات کی تیاری اور اسمگلنگ کا سرپرست ہونے کا قصوروار ٹھہرایا ہے۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ"پیٹرو کے پاس کوکین کی مِلیں ہیں۔ اُس کے پاس فیکٹریاں ہیں جہاں وہ کوکین بناتا اور امریکہ بھیجتا ہے ۔ اسے چاہیے کہ اپنا خیال رکھے"۔
وینزویلا پر کارروائی سے قبل بھی ٹرمپ نے بارہا کاراکاس پر امریکہ کی طرف منشیات کے غیرقانونی بہاؤکا الزام لگایا تھا اورموجود حملوں کو بھی ا نہوں نے وسیع تر علاقائی سکیورٹی کاروائیوں کا حصّہ قرار دیا ہے۔
کیوبا جلد ہی امریکی پالیسی مباحثوں کا مرکز بن سکتا ہے
ٹرمپ نے اپنی تنقید کا رُخ کیوبا کی طرف موڑ کرجزیرے کو 'ناکام قوم' قرار دیا اور اس کی قیادت کو دہائیوں پر محیط اقتصادی مشکلات کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا ہےکہ کیوبا جلد ہی امریکی پالیسی مباحثوں کا مرکز بن سکتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ"وہاں کے لوگ برسوں سے تکلیف میں ہیں۔ہم کیوبا کے لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں اور ہم اُن لوگوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں جو کیوبا سے نکالے گئے اور امریکہ میں رہ رہے ہیں"۔انہوں نے یہ بات فلوریڈا میں کہی، جہاں ایک بڑی اور سیاسی طور پر بااثر کیوبا نژاد امریکی برادری مقیم ہے۔
اسی پریس کانفرنس میں شریک امریکہ کے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ہیوانا کے بارے میں اور بھی سخت بیان جاری کیا ، کیوبا کو 'ایک آفت' قرار دیا اور گستاوو کو مادورو حکومت کو سہارا دینے میں مرکزی کردار ادا کرنے کا قصوروار ٹھہرایا ہے۔









