صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ غزہ میں خواتین کے خلاف وحشیانہ کاروائیوں کو وہ ردِعمل حاصل نہیں ہوا جو اسے ملنا چاہیے تھا۔
صدر نے دارالحکومت انقرہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ بیان دیا، یہ تقریب خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے بین الاقوامی دن کے موقع پر منعقد کی گئی تھی۔
ایردوان نے کہا کہ "مجرم اور متاثرہ کی شناخت نے ایک بار پھر ردِعمل کے لہجے کا تعین کیا ہے" ۔
انہوں نے غزہ میں اسرائیل کے قتلِ عام کا حوالہ دیتے ہوئے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جرائم کی شدت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ "بدقسمتی سے غزہ کے قتلِ عام میں شہید ہونے والے 70,000 فلسطینیوں میں سے دو تہائی خواتین اور بچے تھے۔ یہ باشعور اور احساس مند انسانوں کے لیے تشویشناک اعداد و شمار ہیں۔"
خواتین کے خلاف تشدد کو انسانی عظمت کی بنیادی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ایرددوان نے کہا کہ یہ ایک عالم گیر جرم ہے،ہم ظالم یا مظلوم کی شناخت سے قطعِ نظر حق کا دفاع کریں گے اور ہر فورم پر سچ کو بلند آواز سے بیان کریں گے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ "صدر ہونے کے ساتھ ساتھ دو بیٹیوں کے باپ کے طور پر، جیسا کہ میں ہمیشہ کرتا آیا ہوں، میں خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد کے خلاف جدوجہد میں پیش پیش رہوں گا۔"
ترک صدر کہا کہ خاص طور پر خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد انسانیت سوز جرائم ہیں، جو بھی کسی عورت پر ہاتھ اٹھاتا ہے اس کا ہاتھ اور ضمیر داغدار ہو جاتا ہے۔













