دنیا
3 منٹ پڑھنے
امریکی کیریئر میڈیٹرینین بحیرہ روم میں داخل، صدر ٹرمپ کی ایران پر حملے کی تیاریاں جاری
ایک امریکی اہلکار کے مطابق واشنگٹن کے پاس فی الحال مشرقِ وسطیٰ میں 13 جنگی جہاز ہیں: ایک ایئرکرافٹ کیریئر — یو ایس ایس ابراہیم لنکن —9 ڈسٹرائیر اور 3 قریبِ ساحل جنگی بحری جہاز۔
امریکی کیریئر میڈیٹرینین بحیرہ روم میں داخل، صدر ٹرمپ کی ایران پر حملے کی تیاریاں جاری
فائل: جبل الطارق سے دیکھا گیا یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ طیارہ بردار بحری جہاز سمندر میں۔ / Reuters
14 گھنٹے قبل

یو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ ایئرکرافٹ کیریئر کو جمعہ کے روز بحیرۂ روم میں داخل ہوتے دیکھا گیا، جہاں اسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر فوجی تقویت کے حصے کے طور پر بھیجا تھا۔

اس بیڑے کو جبل الطارق کے تنگ راستے سے گزرتے ہوئے دیکھا گیا — جو اٹلانٹک اوشیئن کو بحیرۂ روم سے ملاتا ہے — یہ تصویر جبل الطارق کی سمت سے لی گئی  ہے۔

ٹرمپ — جنہوں نے پہلے بھی ایک اور کیریئر مشرقِ وسطیٰ بھیجا تھا — نے جمعہ کو کہا کہ اگر مذاکرات تہران کے ساتھ اس جوہری معاہدے کے متبادل تک نہ پہنچ پائیں جنہیں انہوں نے اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران ختم کر دیا تھا، تو وہ ایران پر محدود حملے پر 'غور' کر رہے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اثاثے

جہاز

ایک امریکی اہلکار کے مطابق واشنگٹن کے پاس فی الحال مشرقِ وسطیٰ میں 13 جنگی جہاز ہیں: ایک ایئرکرافٹ کیریئر — یو ایس ایس ابراہیم لنکن —9 ڈسٹرائیر اور 3 قریبِ ساحل جنگی بحری جہاز۔

فورڈ — جو دنیا کا سب سے بڑا کیریئر ہے — تین ڈسٹرائیرز کے ہمراہ ہے، اور جب یہ اپنی پوزیشن میں پہنچ جائے گا تو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی جنگی جہازوں کی کل تعداد 17 ہو جائے گی۔

دونوں کیریئرز  پر ہزاروں کی تعداد میں  جہاز ران عملہ موجود  ہےاور ان کے ایئر ونگز میں درجنوں لڑاکا طیارے شامل ہیں۔ ایک ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں دو ایسے بڑے جنگی جہازوں کا موجود ہونا نادر ہے۔

طیارے

میڈیا رپورٹس  کے مطابق کیریئرز پر موجود طیاروں کے علاوہ، امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں درجنوں دیگر لڑاکا طیارے بھی بھیجے ہیں، جیسا کہ اوپن سورس انٹیلی جنس اکاؤنٹس (X)، فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ اور فلائٹ راڈار 24 ۔

ان میں F-22 ریپٹر اور F-35 لائٹننگ سٹیلتھ فائٹر جیٹس، F-15 اور F-16 لڑاکا طیارے، اور KC-135 ایریل ریفیولنگ طیارہ شامل ہیں جو ان کے آپریشنز کو جاری رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔

فضائی دفاع

رپورٹوں کے مطابق امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں زمینی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو بھی مضبوط کیا ہے۔ اسی وقت، خطے میں موجود متعدد گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائیرز سمندری حدود میں فضائی دفاع کی صلاحیتیں فراہم کرتے ہیں۔

اڈوں  پر امریکی فوجی دستے

اگرچہ بری  افواج سے توقع نہیں کی جا رہی کہ وہ ایران کے خلاف جارحانہ کارروائی میں حصہ لیں گی، تاہم متحدہ  امریکہ کے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے فوجی اڈوں پر ہزاروں کی تعداد میں  اہلکار تعینات ہیں۔