امریکی سفارت کار اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ یوکرین اور روس کے درمیان مذاکرات نے واشنگٹن کی قیادت میں جنگ ختم کرنے کی کوشش میں بامعنی پیش رفت کی ہے۔
انہوں نے بدھ کو ایکس پر لکھا کہ صدر ٹرمپ کی اس جنگ کے دونوں فریقوں کو اکٹھا کرنے میں کامیابی نے بامعنی پیش رفت کی ہے ، اور ہم اس تنازعہ میں قتل و غارت روکنے کے لیے ان کی قیادت میں کام کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔
دونوں فریقوں نے اپنے اپنے قائدین کو نتائج سے آگاہ کرنے اور معاہدے کی طرف کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے ۔
یوکرینی اور روسی مذاکرات کار بدھ کو جنیوا میں امریکی ثالثی والے امن مذاکرات کے دوسرے دور کی بحالی کے لیے دوبارہ مذاکرات شروع کرنے والے تھے تاہم، دونوں جانب سے یہ اشارہ نہیں ملا کہ وہ یورپ کے اس مہلک تنازعے کو ختم کرنے کے قریب ہیں۔
یہ مذاکرات لڑائی روکنے کی تازہ ترین سفارتی کوشش ہیں، جس نے ہزاروں افراد کو ہلاک کیا، لاکھوں کو بے گھر کیا اور مشرقی و جنوبی یوکرین کے بڑے حصوں کو تباہ کر دیا ہے۔
امریکہ تقریباً چار سالہ جنگ ختم کرانے کے لیے زور دے رہا ہے، مگر علاقے کے اہم مسئلے یعنی زمینی حدود پر ماسکو اور کیف کے درمیان سمجھوتہ کروانے میں ناکام رہا ہے۔
دونوں جانب کے دو پچھلے مذاکراتی دور ابو ظبی میں کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے تھے۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اپنی شام کی تقریر میں کہا کہ وہ جنگ ختم کرنے کے لیے ایک باعزت معاہدے کی طرف تیزی سے بڑھنے کے لیے تیار ہیں لیکن سوال کیا کہ کیا روس امن کے بارے میں سنجیدہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ حقیقی سفارتکاری کے بجائے میزائل حملوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔
روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر اپنی بھرپور جنگ شروع کی جس کے نتیجے میں تباہی کی ایسی لہر آئی کہ پورے شہر کھنڈر بن گئے۔
جنیوا مذاکرات کے لیے کریملن نے قوم پرست سخت گیر اور سابق ثقافتی وزیر ولادیمیر میڈنسکی کو اپنا مذاکرات کار منتخب کیا ہے جبکہ یوکرین کے قومی سلامتی کے مشیر رستم عمروف کیف کے وفد کی قیادت کر رہے تھے جنہوں نے کہا کہ مذاکرات بدھ کو جاری رہیں گے۔
انہوں نے واشنگٹن کی ثالثی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے یورپی اتحادیوں کو پہلے دور مذاکرات کے نتائج سے آگاہ کیا، جن کی توجہ عملی معاملات اور ممکنہ حل کے طریقہ کار پر مرکوز تھی۔












