ویٹیکن کے کارڈینل پیٹرو پارولن نے کہا ہے کہ "ویٹیکن، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزّہ کے لئے قائم کردہ 'امن بورڈ ' میں شامل نہیں ہو گا۔
ویٹیکن کے اعلیٰ سفارتی عہدیدار 'پارولن' نے بروز منگل جاری کردہ اعلان میں کہا ہے کہ بحرانوں کو حل کرنے کی کوششیں اقوام متحدہ کے پلیٹ فورم سے کی جانی چاہئیں۔ویٹیکن کا مقدس مقام، امن بورڈ میں شامل نہیں ہوگا کیونکہ اس کی اپنے سے مخصوص فطرت واضح طور پر دیگر ریاستوں جیسی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا ہےکہ ہمارا ایک اندیشہ یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح کے بحرانوں کو اقوام متحدہ کو ہی سنبھالنا چاہیے۔ اور یہ ان نقاط میں سے ایک ہے جن پر ہم نے زور دیا ہے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ کی بعض پالیسیوں کے ناقد پہلے امریکی پوپ 'لیو'کو جنوری میں بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی۔
ٹرمپ کے غزہ منصوبے میں شامل اس امن بورڈ کا مقصد غزہ کی عارضی حکمرانی کی نگرانی کرنا تھا۔ بعد ازاں ٹرمپ نے بذاتِ خود اس بورڈ کو بطور چیئرمین چلانے اور عالمی تنازعات سے نمٹنے کے لیے وسیع کرنے کے عزم کا اعلان کیا تھا۔ بورڈ، غزّہ کی تعمیرِ نو پر بات چیت کے لئے، اپنا پہلا اجلاس بروز جمعرات واشنگٹن میں کرے گا ۔
یورپ، مشرقِ وسطیٰ، مشرقی ایشیا اور لاطینی امریکہ میں امریکہ کے مضبوط حلیف ممالک 'امن بورڈ' میں شامل ہیں۔ اٹلی اور یورپی یونین بورڈ میں شامل نہیں ہوئے لیکن دونوں نے کہا ہے کہ ان کے نمائندے بطور مبصرین بورڈ میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں ۔
میکسیکو مکمل رکنیت سے انکاری
میکسیکو کی صدر کلاودیا شینباوم نے بھی بروز منگل جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ فلسطینی نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے میکسیکو بحیثیت مکمل رکن کے ، امریکی زیرِ قیادت اور غزہ جنگ بندی منصوبے کے نگران، بورڈ میں حصہ نہیں لے گا ۔
پریس کانفرنس سے خطاب میں شینباوم نے کہا ہےکہ ہم فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ دونوں ریاستیں یعنی اسرائیل اور فلسطین اس بورڈ میں شریک ہوں۔
انہوں نے کہا ہے کہ میکسیکو اپنے سفیر کو بحیثیت مبصر کے اقوامِ متحدہ میں بھیجے گا۔ہمیں ملنے والی دعوت میں کہا گیا ہے کہ اگر ہم مکمل شرکت نہیں کر رہے تو ہمیں بحیثیت مبصرشرکت کرنی چاہیے۔لہٰذا ہم نے،وزیر خارجہ کے ساتھ مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ ہمارا سفیر مبّصر کی حیثیت سے اقوامِ متحدہ میں شرکت کرے گا۔
شینباوم نے فلسطین کی حمایت کا اظہار کیا ، اسرائیل کے غزہ اور فلسطینی عوام پر جاری حملوں کو نسل کشی قرار دیا اور دو ریاستی حل کا مطالبہ کیا ہے۔












