اسرائیلی غیر قانونی آبادکاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلوس کے گاؤں یاتما پر حملوں میں چار فلسطینیوں کو زخمی کر دیا ہے۔
ریڈیو صدائے فلسطین نے جاری کردہ خبر میں کہا ہے کہ غیر قانونی آبادکاروں نے فلسطینیوں کو زدوکوب کیا اور ان پر آنسو گیس چھڑکی۔تشدّد کے نتیجے میں متاثرین کو زخم آئے اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہوا۔
ریڈیو کے مطابق ایک اورواقعے میں فلسطینیوں نے رام اللہ کے شمال مشرق میں واقع قصبے سنجل کے مضافات میں ایک غیرقانونی اسرائیلی آبادکار کے حملے کا مقابلہ کیا اور کسی زخمی کے بارے میں اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
جنوبی مقبوضہ مغربی کنارے کے ایکٹیوسٹ اسامہ مخمّارہ نے کہا ہے کہ غیرقانونی اسرائیلی آبادکاروں نے الخلیل کے جنوبی علاقے مسافر یطا میں حملے کیے ہیں۔ حملوں میں مویشیوں کو گھروں کے درمیان اور زرعی زمینوں پر بدکا کر فصلوں و املاک کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔
خمّارہ نے کہا ہے کہ غیر قانونی آبادکاروں نے خربت الطبان میں باڑ، درخت اور ایک پانی کے ٹینک کو بھی توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا ہے۔ ان حرکتوں کا مقصد روزگار کو نقصان پہنچانا اور زمین پر قبضہ کرنا تھا۔
غیرقانونی آبادکاروں کے ہزاروں حملے
استبدادیت اور محاصرہ دیوار کے خلاف مزاحمتی کمیٹی کے مطابق کہ جو ایک سرکاری ادارہ ہے، غیرقانونی اسرائیلی آبادکاروں نے 2025 میں مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں اور ان کی املاک پر تقریباً 4,723 حملے کیے، جن میں 14 فلسطینی ہلاک اور 13 بدوی برادریوں کے 1,090 افراد کو نقل مکانی پر مجبور کیا گیا ہے۔
سرکاری فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق، 2024 کے اختتام تک مقبوضہ مغربی کنارے میں غیرقانونی اسرائیلی آبادکاروں کی تعداد 770,000 تک پہنچ گئی، جو 180 سے زائد بستیوں اور 256 بستیوں سے باہر کی چوکیوں میں مقیم تھے۔
اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کئی دہائیوں سے بستیوں کی تعمیر روکنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کا بین الاقوامی قانون کے تحت کوئی جواز نہیں ہے۔ یہ بستیاں دو ریاستی حل کے امکانات کو کمزور کرتی ہیں ۔











