میڈیا رپورٹوں کے مطابق، جمعرات کو اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزلئل سموٹ ریچ نے مقبوضہ مشرقی القدس میں 3,600 رہائشی یونٹس پر مشتمل ایک نئی غیرقانونی یہودی کالونی کے قیام کی منظوری دے دی۔
چینل 7 کے مطابق 'مِشمار یہودا' نامی یہ کالونی شہر کے مشرقی حصے میں 835 ایکڑ رقبے پر تعمیر کی جائے گی۔
سموٹ ریچ نے ایکس پر اعلان کیا کہ یہ بستی "مشرقی جانب سےالقدس کے دفاع کے لیے ایک حکمتِ عملی بنیاد" کا کام دے گی اور یہ علاقے پر کنٹرول مضبوط کرنے کی اسرائیلی پالیسی کا حصہ ہے۔
یہ کالونی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے تو سموٹ ریچ نے کہا کہ یہ " ہزاروں رہائشی یونٹس" فراہم کرے گی اور "القدس کی مشرقی حدود کو مضبوط کرے گی"۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ "تاریخی" منصوبہ اسرائیلی حاکمیت کو مستحکم کرنے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
اسرائیلی کابینہ نے 12 دسمبر کو مغربی کنارے میں 19 غیرقانونی بستیاں قائم کرنے کی بھی منظوری دی، جو الحاق کے اقدامات میں مزید شدت کا باعث بنی۔
اسرائیلی حقوقی گروپ 'پیِس ناؤ' کے مطابق تقریباً 5 لاکھ غیرقانونی اسرائیلی آبادکار مغربی کنارے کی مختلف کالونیوں میں جبکہ اڑھائی لاکھ مقبوضہ مشرقی القدس کی زمینوں پر بنائی گئی بستیوں میں مقیم ہیں۔
مغربی کنارے کو وسعت دینا اور رسمی طور پر الحاق کرنا درحقیقت اقوامِ متحدہ کے قراردادوں میں بیان کردہ دو ریاستی حل، یعنی اسرائیلی اور فلسطینی ریاست کے نفاذ کے امکانات کو ختم کر دے گا۔
اسرائیل 1948 میں فلسطینی زمین پر قائم کیا گیا تھا، اور بعد ازاں باقی فلسطینی علاقوں پر قبضہ کیا گیا۔ بعد میں آنےو الی اسرائیلی حکومتوں نے پیچھے ہٹنے اور مشرقی القدس دارالحکومت ہونے والی ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کیا ۔














