رائے
ترکیہ
7 منٹ پڑھنے
برہان الدین دُوران: اب جنگیں کہانیوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے ذریعے لڑی جاتی ہیں
قطر میں 17ویں الجزیرہ فورم کے افتتاحی اجلاس سے خطاب میں، دوران نے اس پینل  کے مرکزی عنوان، " مسئلہ فلسطین اور ابھرتی ہوئی کثیرالقطبی دنیا کے پس منظر میں علاقائی طاقت کا توازن" کو اس فریم ورک کے طور پر پیش کیا
برہان الدین دُوران: اب جنگیں کہانیوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارموں  کے ذریعے لڑی جاتی ہیں
ترکی کے صدراتی مواصلاتی ڈائریکٹر برہان الدین دوران 7 فروری 2026 کو 17ویں الجزیرہ فورم کے افتتاح کے موقع پر تقریر کر رہے ہیں۔ / AA
8 گھنٹے قبل

ترک محکمہ اطلاعات  کے سربراہ برہان الدین دُوران نے ہفتے کے روز کہا کہ اب جنگیں صرف جسمانی محاذوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ وہ بیانیہ، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ادراک کی تشکیل کے ذریعے بھی چلائی جا رہی ہیں۔

قطر میں 17ویں الجزیرہ فورم کے افتتاحی اجلاس سے خطاب میں، دوران نے اس پینل  کے مرکزی عنوان، " مسئلہ فلسطین اور ابھرتی ہوئی کثیرالقطبی دنیا کے پس منظر میں علاقائی طاقت کا توازن" کو اس فریم ورک کے طور پر پیش کیا جس نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ نہ صرف غزہ پر اسرائیل کی جنگ کی تباہ کن حقیقتوں کا سامنا کریں بلکہ بین الاقوامی نظام کی گہری تبدیلیوں کا بھی جائزہ لیں۔

انہوں نے کہا: "ہمیں بیس سال سے بتایا جا رہا تھا کہ دنیا تبدیلی کے مرحلے میں ہے۔"

انہوں نے مزید کہا: "آج وہ بیانیہ کافی نہیں رہا۔ دنیا صرف منتقلی کے مرحلے میں نہیں ہے۔ یہ پہلے ہی منتقل ہو چکی ہے۔"

دُوران نے نشاندہی کی کہ وہ مفروضے جو جنگ کے بعد کے بین الاقوامی نظام کو شکل دیتے تھے ٹوٹ چکے ہیں، قابل قبول رویوں کے ضوابط کمزور پڑ گئے ہیں، اور نسل کشی عالمی سیاست کے مرکز میں دوبارہ آ گئی ہے ،  انہیں  اب ایک استثنا کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے حقیقت کے طور پر جسے برداشت کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے ایسے اداروں کی بار ہا اور ساختی ناکامیوں کی نشاندہی کی جو ایسی تباہیوں کو روکنے کے لیے بنائے گئے تھے، اور زور دیا کہ موجودہ نظام تنازعہ، مسابقت، اور ادارتی تھکن کی خصوصیات رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا"عظیم طاقتوں کی مخاصمت عالمی ایجنڈوں پر بڑھتی ہوئی اجارہ داری قائم کر رہی ہے۔ اس ماحول میں غیر یقینی ایک ساختی حقیقت بن چکی ہے،"

نظام کا اہم اصول: انصاف

دُوران نے زور دیا کہ اس دور کی خاص بات اطلاعاتی جنگ کے منطقی ڈھانچے میں مکمل انضمام ہے۔

"جنگیں اب صرف جسمانی محاذوں تک محدود نہیں رہیں۔ بلکہ  بیانیوں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، اور ادراک کے ذریعے  لڑی جا رہی ہیں۔"

غیر ریاستی کرداروں جیسے ٹیکنالوجی  فرموں، پلیٹ فارم مالکان، اور الگورتھم تیار کرنے والوں کے عروج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، دُوران نے الگورتھمک کنٹرول کی شکل میں ایک نئے ظہورِ تسلط کی طرف خبردار کیا جس کے ذریعے "کیا ظاہری ہو گا، کیا معتبر قرار پائے گا، اور کیا غائب ہو جائے گا" طے ہوتا ہے۔

انہوں نے ایک تنقیدی  سوال کیا: "جب درجہ بندی ٹوٹ جائے، ادارے کمزور پڑ جائیں، اور طاقت منتشر ہو جائے تو کون سا اصول نظم  و نسق پیدا کر سکتا ہے؟" جس کا جواب ہے "انصاف"۔

انہوں نے کہا کہ انصاف صرف اخلاقی خواہش نہیں بلکہ سیاسی نظم کا بنیادی اصول ہے۔

"انصاف سے جواز پیدا ہوتا ہے۔ جہاں انصاف موجود ہوتا ہے، وہاں نظم بیرونی طور پر نافذ کیے جانے کے بجائے اندرونی طور پر اپنایا جاتا ہے،" انہوں نے کہا۔ "انصاف سچ کے بغیر وجود میں نہیں آ سکتا۔ اور سچ ایسے حالات کے بغیر برقرار نہیں رہ سکتا جو اس کی حفاظت کریں۔"

مرکز ثقل

دُوران نے کہا کہ اس خطے کے پاس ایک تہذیبی  ورثہ  موجود ہے جو سچ اور انصاف کو  یکجا کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا"الافرابی سے ابن خلدون تک، ہماری فکری روایت ہمیں سکھاتی ہے کہ تہذیبوں کی بقا،  جواز، اجتماعیت، اور اخلاقی مقصد کے ذریعے قائم دائم رہتی ہے ۔"

انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ اوپر تلے بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے اور مرکز ثقل منتقل ہو رہا ہے۔ اثر و رسوخ اب محض عسکری پیمانوں سے ماپا نہیں جاتا بلکہ اقتصادی صلاحیت، سفارتی نیٹ ورکس، اور تعمیر نو کے ذرائع سے بھی ناپا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "سیکورٹی اور انسانی نوعیت کے شعبوں کے درمیان حدیں منہدم ہو گئی ہیں" اور اس بات پر زور دیا کہ علاقائی کھلاڑیوں کے پاس غیر معمولی صلاحیتیں ہیں مگر انہیں ہم آہنگی میں دشواری کا سامنا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا"اجتماعی کارروائی کے بغیر، فردی طاقت پائیدار استحکام پیدا نہیں کر سکتی۔جنگیں صرف جنگ بندی سے ختم نہیں ہوتیں بلکہ حکمرانی، تعمیر نو، اور سیاسی فریم ورکس کے ذریعے ختم ہوتی ہیں۔"

انہوں نے علاقائی ملکیت پر مبنی ترکیہ کا ایک وژن پیش کیا، جس میں مقامی صلاحیت کو فوقیت دی جاتی ہے، علاقائی سفارتکاری کو فعال بنایا جاتا ہے، اور اجتماعی صلاحیت کو مضبوط کیا جاتا ہے۔"علاقائی مسائل کے لیے علاقائی حل درکار ہیں"

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر علاقائی کھلاڑی اپنے تنازعات کا انتظام نہیں کر پاتےتو "عالمی انتشار کے ایندھن" بن جائیں گے، اور دلیل دی کہ خطہ اب یا تو عالمی بحران کو کم کر سکتا ہے یا اس کو گہرا کر سکتا ہے۔

دُوران نے ایک عدم تحفظ کی لہر کا ذکر کیا جو عسکری تنازعات، انسانی آفات، معاشی دباؤ، اطلاعاتی جنگ اورقطب پذیری سے پیدا ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا"غزہ میں یہ عدم تحفظ اپنی سب سے واضح شکل میں دیکھا جا سکتا ہے: وسیع پیمانے پر تباہی، گہرا صدمہ، اور انسانی نظام کا انہدام،"

انہوں نے علاقائی اور خلیجی کھلاڑیوں سے تین ترجیحات کے حوالے سے یکجہتی کا مطالبہ کیا: جنگ کے خاتمے، جبری نقل مکانی کی روک تھام، اور تعمیرِ نو کو سیاسی معقولیت، تحفظ، اور دیرپا استحکام سے منسلک کرنا۔

عالمی امن اور علاقائی سلامتی کی جانب ترکی ہکے اقدامات

دُوران نے کہا کہ ترکیہ نے عالمی امن کی حمایت کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں، انہوں نے خطے کے ممالک کو یہ کہتے ہوئے کہ "استحکام صرف جامع تعاون، باہمی اعتماد، اور اجتماعی حکمت سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔"،  اس ذمہ داری میں شریک ہونے کی دعوت دی۔

انہوں نے چند مثالیں پیش کیں جن میں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان معمولات کا عمل، روس اور یوکرین کے درمیان غلے کی راہداری، اور ایران کے بحران میں ترکیہ کا ثالثی کردار  شامل  تھا۔

ایک نئے علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسے بیرونی خطرات کے خلاف مشترکہ صلاحیت کو بھی فروغ دیا جاناچاہیے۔

"ہم نئے خطرات سے نمٹنے کے لیے متنوع تعاون کے میکانزم کے قیام میں حصہ ڈال رہے ہیں۔"

دوران نے کہا"آخر کار، ان تمام کوششوں کے ذریعے ہم اپنا ایک معلوماتی، علمی اور سفارتی ماحولیاتی نظام قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔"

"ہم چاہتے ہیں کہ یہ ہمارے خطے کے حقائق کی عکاسی کرے، اجتماعی حکمت کو فروغ دے اور ایک زیادہ متوازن عالمی نظام میں حصہ ڈالے۔"

انہوں نے زور دیا کہ خطے کو اپنی کہانی کا  تالیفی حق واپس لینا چاہیے۔

انہوں نے کہا"بیانیہ ہی طاقت ہے۔ جو معنی طے کرتا ہے وہی نظم کی تشکیل کرتا ہے،ہمارے خطے کو خود کو اسطوریہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ اپنی تہذیبی مشن کو وضاحت اور اعتماد کے ساتھ بیان کرنے کے لیے اپنی کہانی کی تصنیف بذاتِ خود کرنی چاہیے ۔"

ترکی صدر رجب طیب ایردوان کے 'ایک زیادہ منصفانہ دنیا' کے مطالبے کا حوالہ دیتے ہوئے دُوران نے کہا کہ یہ صرف امید کا ایک اعلان نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک وژن ہے۔"دنیا پہلے ہی بدل چکی ہے۔ ہماری ذمہ داری یہ یقینی بنانا ہے کہ یہ درست سمت میں بدلے۔"

"اس کے لیے سرحد پار تعاون، الگورتھمک اجارہ داری کے خلاف مزاحمت، سچ کے دفاع، انصاف کی بحالی، اور ایک نئے عالمی نظم کا تصور کرنے کی ہمت درکار ہے جو عزت اور جواز پر مبنی ہو۔"

انہوں نے آخر میں کہا: "یہی طریقہ ہے جس کے ذریعے سچ انصاف بنتا ہے۔ یہی طریقہ ہے جس کے ذریعے انصاف نظم بنتا ہے۔ اور یہی طریقہ ہے جس کے ذریعے ایک ایسا خطہ جس کے بارے میں پہلے بات کی جاتی تھی، خود بولنے والا خطہ بن جاتا ہے۔"