اقوامِ متحدہ نے وینزویلا میں ڈرامائی امریکی مداخلت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس نے واضح طور پر "بین الاقوامی قانون کے ایک بنیادی اصول کو کمزور بنا دیا ہے۔"
اقوامِ متحدہ کے دفترِ حقوقِ بشر کی ترجمان روینا شم داسانی نے منگل کو جنیوا میں صحافیوں سے کہا کہ"ریاستوں کو کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف دھمکی یا طاقت استعمال نہیں کرنی چاہیے۔"
وینزویلا کے دارالحکومت پر ہوائی حملے اور لڑاکا طیاروں اور بھاری بحری تعیناتی کی ہمراہی میں ہونے والی کارروائی میں وینزویلا کے صدر نِکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو ہفتے کی علی الصبح امریکی کمانڈوز کی طرف سے اغوا کر نے کے بعد اقوام متحدہ نے ایک بیان جاری کیا ہے ۔
شم داسانی نے چھاپے کے جواز کے طور پر امریکی دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ وینزویلا کی حکومت "طویل عرصے سے جاری اور نہایت افسوسناک انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں" کر رہی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا"انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جواب دہی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یک طرفہ عسکری مداخلت کے ذریعے نہیں کی جا سکتی۔"
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اقوامِ متحدہ کے دفتر برائِے حقوق ِ انسانی نے ایک دہائی سے وینزویلا میں صورتحال کے "مسلسل بگڑنے" کی باقاعدگی سے رپورٹنگ کی ہے۔
انہوں نے کہا، "ہمیں خدشہ ہے کہ امریکی مداخلت کے نتیجے میں ملک میں موجودہ غیر استحکام اور مزید عسکریت پسندی صورتحال کو صرف مزید بگاڑ دے گی۔"











