دنیا
4 منٹ پڑھنے
آسٹریا نے ہٹلر کے جنم مقام کو پولیس اسٹیشن میں تبدیل کر دیا
آسٹریا نے ہٹلر کے جنم مقام کو پولیس اسٹیشن میں تبدیل کر دیا، جس سے مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں اور ہولوکاسٹ کی ذمہ داری اور انتہا پسندی پر دوبارہ بحث چھڑ گئی ہے۔
آسٹریا نے ہٹلر کے جنم مقام کو پولیس اسٹیشن میں تبدیل کر دیا
تزئین و آرائش کے اس منصوبے کی لاگت آسٹریا کے ٹیکس دہندگان کو 23.5 ملین ڈالر ہے۔ / AFP
13 گھنٹے قبل

ہٹلر کا جنم  ہونے والے گھر کو پولیس اسٹیشن میں تبدیل کرنے کے فیصلے نے اس کے آسٹریائی آبائی شہر میں ملے  جُلے جذبات کو جنم دیا۔

سیبیلے ٹرائبل مائر نے براوناؤ ایم نے ان کے گھر ،جو جرمنی کی سرحد کے قریب واقع ہے ،کے سامنے سے کہا کہ "یہ ایک تلوے کے دو دھارے جیسا ہے۔"

53 سالہ دفتر کی معاون نے اے ایف پی کو بتایا کہ اگرچہ یہ انتہا پسند دائیں بازو کے افراد کو اس مقام پر جمع ہونے سے روک سکتا ہے، لیکن یہ "بہتر یا مختلف مقصد کے تحت استعمال کیا جا سکتا تھا۔"

حکومت اس مقام کو "غیر جانبدار" کرنا چاہتی ہے اور 2016 میں ایک قانون پاس کیا تاکہ اس مخدوش عمارت کو اس کے نجی مالک سے اپنے کنٹرول میں لے سکے۔

آسٹریا ، جس کا 1938 میں ہٹلر کی طرف سے جرمنی کےساتھ  الحاق کیا گیا تھا — کو ماضی میں بارہا یہ تنقید سامنا کرنا پڑا ہے کہ اس نے ہولوکاسٹ میں اپنی ذمہ داری کو پوری طرح تسلیم نہیں کیا۔

دائیں بازو کی فریڈم پارٹی نے، جس کی بنیاد سابقہ نازیوں نے رکھی تھی، 2024 کے قومی انتخاب میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے،  تا ہم یہ  حکومت بنانے میں ناکام رہی  ۔

گزشتہ سال، براوناؤ ایم ان میں نازیوں کی تمجید کرنے والی دو سڑکوں کے نام طویل عرصے سے سرگرم کارکنوں کی شکایات کے بعد تبدیل کر دیے گئے تھے۔

وہ گھر جہاں ہٹلر 20 اپریل 1889 کو پیدا ہوا اور اپنے ابتدائی دور حیات کے ایک مختصر عرصے کے لیے رہا، شہر کے مرکز میں دکانوں سے بھری  ایک تنگ گلی واقع ہے۔

سامنے نصب ایک یادگاری پتھر پر یہ تحریر موجود  ہے: "امن، آزادی اور جمہوریت کے لیے دوبارہ کبھی فاشزم نہیں۔ لاکھوں افراد کی ہلاکتوں کا انتباہ۔"

وزارت ِ داخلہ نے کہا ہے کہ پولیس اہلکات "2026 کی دوسری سہ ماہی" کے دوران  یہاں پر تعینات ہوں گے ۔

لیکن مصنف لوڈوِگ لاہر ، جو ہولوکاسٹ متاثرین کی نمائندگی کرنے والی ماوتھاؤزن کمیٹی آسٹریا کے رکن ہیں،  کا کہنا  ہے "پولیس اسٹیشن تشویش ناک ہے۔  ہر سیاسی نظام میں پولیس اس چیز کی پابند ہوتی ہے کہ جو ریاست چاہتی ہے اس کی پاسداری کرے۔"

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ پہلے یہ خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ اس گھر کو ایک ایسی جگہ بنایا جائے جہاں لوگ امن سازی پر بات چیت کے لیے جمع ہوں گے، اور اسے "کافی حمایت" حاصل ہوئی تھی۔

جےسمین اسٹڈلر، 34 سالہ دکاندار اور براوناؤ کی مقامی خاتون، نے کہا کہ ہٹلر کی پیدائش کو اس گھر میں تاریخی تناظر میں رکھ کر گھر کے بارے میں زیادہ وضاحت کرنا دلچسپ ہوتا۔ انہوں نے مرمت پر 20 ملین یورو کی لاگت پر بھی تنقید کی۔

"کچھ سکون"

لیکن دیگر لوگ گھر کی تجدید کے حق میں ہیں، جو کئی سال پہلے  وزارتِ داخلہ نے کرائے پر لیتے ہوئے  وہاں معذور افراد کے لیے ایک مرکز قائم کیا تھا۔

ولف گینگ لیٹنر، 57 سالہ الیکٹریکل انجینئر نے کہا کہ اسے پولیس اسٹیشن میں تبدیل کرنے سے "امید ہے کہ کچھ سکون آئے گا" اور یہ اسے دائیں بازو کے انتہا پسندوں کے لیے کسی مقدس مقام بننے سے روکے گا۔

انہوں نے کہا کہ "عمارت کو استعمال میں لانا اور اسے پولیس، عوامی حکام کو دینا معنی رکھتا ہے۔"

براوناؤ کے قدامت پسند میئر کے دفتر نے اے ایف پی کی تبصرہ کی درخواست مسترد کر دی۔

پورے آسٹریا میں، ملک کی ہولوکاسٹ کی تاریخ سے نمٹنے کے طریقہ کار پر بحث بار بار چھڑتی رہی ہے۔

نازی دور کی حکومت کے دوران تقریباً 65,000 آسٹریائی یہودی مارے گئے اور 130,000 کو جلاوطن کیا گیا۔