دنیا
2 منٹ پڑھنے
جنوبی کوریا کا امریکی جیٹ طیاروں کا چینی طیاروں سے ٹاکرا ہونے پر احتجاج کرتا
وزیرِ دفاع آن گیو-بیک نے بدھ کو واقعے کی رپورٹ ملتے ہی کمبائنڈ فورسز کمانڈ اور امریکی افواجِ کوریا کے کمانڈر جنرل زاویر برنسن کو فون کر کے شکایت درج کروائی۔
جنوبی کوریا کا امریکی جیٹ طیاروں کا چینی طیاروں سے ٹاکرا ہونے پر احتجاج کرتا
جنوبی کوریا میں ایک باہمی دفاعی معاہدے کے تحت تقریباً 28,500 امریکی فوجی تعینات ہیں۔ [فائل فوٹو] / AP
12 گھنٹے قبل

مقامی میڈیا نے ہفتہ کو اطلاع دی ہے کہ جنوبی کوریا  اور امریکی افواجِ کوریا نے اس ہفتے کے اوائل میں   بحیرہ زرد کے اوپر تربیتی ہوائی مشق کے دوران چینی لڑاکا طیاروں  سے ٹاکر ا ہونے پر احتجاج کیا۔

یون ہاپ نیوز نے نام نہ ظاہر کرنے والے فوجی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ وزیرِ دفاع آن گیو-بیک نے بدھ کو واقعے کی رپورٹ ملتے ہی کمبائنڈ فورسز کمانڈ اور امریکی افواجِ کوریا کے کمانڈر جنرل زاویر برنسن کو فون کر کے شکایت درج کروائی۔

جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف کے چیئرمین  جنرل جن ینگ-سونگ  نے بھی جنرل برنسن کو کال کر کے شکایت کی۔

بدھ کو امریکی فضائیہ کی ایک ہوائی مشق کے دوران امریکی اور چینی لڑاکا طیارے  بحیرہ زرد  کے اوپر مختصر عرصے کے لیے مدمقابل آئے ؛ اس مشق میں 10 ایف-16 لڑاکا طیارے شامل تھے۔

اطلاعات کے مطابق ایف-16 طیارے جنوبی کوریا اور چین کے ہوائی دفاعی شناختی زونز کے درمیان واقع علاقے کی جانب گئے۔

اس اقدام پر چینی فوج نے اپنے لڑاکا طیارے وہاں بھیج دیے، تاہم کوئی تصادم یا جھڑپ نہیں ہوئی۔

جنوبی کوریا کے عہدیداروں کے مطابق، US Forces Korea، جو امریکی انڈو-پیسیفک کمانڈ کا ماتحت متحدہ کمانڈ ہے، نے تربیتی آپریشن سے قبل سیول کی فوج کو اپنے منصوبے کے بارے میں آگاہ کیا تھا لیکن بظاہر مشقوں کے مقصد سمیت تفصیلات واضح نہیں کی گئیں۔

جنوبی کوریا امریکہ کے قدیم ترین اور قریبی اتحادیوں میں سے ایک ہے؛ یہاں واشنگٹن اور سیوئل کے باہمی دفاعی معاہدے کے تحت تقریباً 28,500 امریکی فوجی کورین جزیرہ نما میں تعینات ہیں۔