ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ہفتہ کو امریکی دعووں کو مسترد کیا کہ ایران میں مظاہروں کے دوران 32,000 شہری ہلاک ہوئے، انہوں نے بتایا کہ تہران پہلے ہی سرکاری اعداد و شمار جاری کر چکا ہے، انہوں نے زیادہ تخمینوں کی تائید کے لیے شواہد مانگے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا"آپ جانتے ہیں، ایران کے لوگ ایران کے رہنماؤں سے بہت مختلف ہیں، اور یہ بہت، بہت، افسوسناک صورتِ حال ہے"، اور مزید کہا کہ وہاں ایک نسبتاً مختصر مدت کے دوران 32,000 لوگ مارے گئے۔
ایکس پر دیے گئے بیانات میں، عراقچی نے کہا کہ تہران نے اپنی “مکمل شفافیت کے عہد” کو پورا کرتے ہوئے سرکاری فہرست شائع کی ہے جس میں وہ 3,117 افراد کے نام درج ہیں جنہیں انہوں نے حالیہ "دہشتگردانہ کارروائیوں"کے متاثرین قرار دیا، جن میں تقریباً 200 سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ "اگر کوئی ہمارے اعداد و شمار کی درستگی پر سوال اٹھاتا ہے تو ازراہ کرم کوئی ثبوت پیش کرے۔"
اس سے پہلے جمعہ کو ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کو معاہدے پر مجبور کرنے کے لیے محدود فوجی حملے پر 'غور' کر رہے ہیں، مگر مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
حالیہ گرفتاریوں کی یہ لہر ایسے ہفتوں کے بعد سامنے آئی ہے جب ایران میں مظاہرے معاشی محرومیوں کے باعث پرامن انداز میں شروع ہوئے مگر بعد میں پرتشدد ہو گئے، اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس کے نتیجے میں 3,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
ایرانی حکام نے الزام لگایا کہ امریکہ اور اسرائیل نے اُن واقعات کی حمایت کی جو انہوں نے 'ہنگامہ آرائی' اور 'دہشت گردی' کہہ کر بیان کیے تھے۔
اس ماہ کے آغاز میں ایران اور امریکہ نے عمان کے دارالحکومت مسقط میں جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کیے، جس کے بعد منگل کو جنیوا میں عمان کی ثالثی میں ایک اور دورِ مذاکرات ہوا۔
یہ تجدیدِ سفارتکاری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب علاقائی کشیدگی بڑھی ہوئی ہے، جس کی وجہ خلیجِ فارس میں امریکی فوجی تعیناتی میں اضافہ اور ایرانی فوجی مشقیں ہیں۔
جمعرات کو واشنگٹن ڈی سی میں 'امن بورڈ' کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام رہے تو امریکہ '10 سے 15 دن' کے اندر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا انتخاب کرے گا۔











