دنیا
2 منٹ پڑھنے
تہران نے مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد کے امریکی دعوے کو چیلنج کر دیا
وزیر خارجہ عراقچی نے امریکی دعووں کو مسترد کر دیا ہے کہ 32,000 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ان اعداد و شمار کو ثابت کرنے کے لیے شواہد طلب کیے ہیں۔
تہران نے مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد کے امریکی دعوے کو چیلنج کر دیا
ایرانی وزیر خارجہ نے ٹرمپ سے مظاہروں کے دوران 32,000 مبینہ ہلاکتوں کے حوالے سے ثبوت کا مطالبہ کیا۔ / AP

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ہفتہ کو امریکی دعووں کو مسترد کیا کہ ایران میں مظاہروں کے دوران 32,000 شہری ہلاک ہوئے،  انہوں نے بتایا کہ  تہران پہلے ہی سرکاری اعداد و شمار جاری کر چکا ہے، انہوں نے  زیادہ تخمینوں کی تائید کے لیے شواہد مانگے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا"آپ جانتے ہیں، ایران کے لوگ ایران کے رہنماؤں سے بہت مختلف ہیں، اور یہ بہت، بہت، افسوسناک صورتِ حال ہے"، اور مزید کہا کہ وہاں ایک نسبتاً مختصر مدت کے دوران 32,000 لوگ مارے گئے۔

ایکس پر دیے گئے بیانات میں، عراقچی نے کہا کہ تہران نے اپنی “مکمل شفافیت کے عہد” کو پورا کرتے ہوئے سرکاری فہرست شائع کی ہے جس میں وہ 3,117 افراد کے نام درج ہیں جنہیں انہوں نے حالیہ "دہشتگردانہ کارروائیوں"کے متاثرین قرار دیا، جن میں تقریباً 200 سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اگر کوئی ہمارے اعداد و شمار کی درستگی پر سوال اٹھاتا ہے تو ازراہ کرم  کوئی ثبوت پیش کرے۔"

اس سے پہلے جمعہ کو ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کو معاہدے پر مجبور کرنے کے لیے محدود فوجی حملے پر 'غور' کر رہے ہیں، مگر مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

حالیہ گرفتاریوں کی یہ لہر ایسے ہفتوں کے بعد سامنے آئی ہے جب ایران میں مظاہرے معاشی محرومیوں کے باعث پرامن انداز میں شروع ہوئے مگر بعد میں پرتشدد ہو گئے، اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس کے نتیجے میں 3,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

ایرانی حکام نے الزام لگایا کہ امریکہ اور اسرائیل نے اُن واقعات کی حمایت کی جو انہوں نے 'ہنگامہ آرائی' اور 'دہشت گردی' کہہ کر بیان کیے تھے۔

اس ماہ کے آغاز میں ایران اور امریکہ نے عمان کے دارالحکومت مسقط میں جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کیے، جس کے بعد منگل کو جنیوا میں عمان کی ثالثی میں ایک اور دورِ مذاکرات ہوا۔

یہ تجدیدِ سفارتکاری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب علاقائی کشیدگی بڑھی ہوئی ہے، جس کی وجہ خلیجِ فارس میں امریکی فوجی تعیناتی میں اضافہ اور ایرانی فوجی مشقیں ہیں۔

جمعرات کو واشنگٹن ڈی سی میں 'امن بورڈ' کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام رہے تو امریکہ '10 سے 15 دن' کے اندر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا انتخاب کرے گا۔

 

دریافت کیجیے
پاکستانی وزیر اعظم: مجھے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پانے پر فخر ہے
روسی حملوں میں ایک بچہ سمیت تین افراد ہلاک، متعدد زخمی
سربراہ فوج کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام ایران جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں
تھائی لینڈ میں ایک نوجوان نے اپنے دادا دادی کو قتل کرنے کے بعد اسکول میں دھاوا بول دیا
روس کے وائلڈبیریز ہب پر ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی
یونیسف: غزہ میں فائر بندی کے بعد سے 300 بچوں قتل کئے جا چُکے ہیں
پاکستان: وزیرِ اعظم شہباز شریف سعودی عرب کے دورے پر
سلامتی کونسل کی طرف سے پاکستان میں ہونے والے خونریز دہشت گردانہ حملے کی مذّمت
ایرانی مذاکرات کار: امریکہ 'لوپ تھیٹر ڈپلومیسی' میں مصروف ہے
حوثی حملوں میں 58 یمنی فوجی ہلاک، سعودی عرب میں شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات
اسرائیلی آبادکاروں کا فلسطینیوں پر حملہ،متعدد زخمی
جاپان: ہیروشیما پر امریکی ایٹمی بمباری کی 81 ویں سالانہ یاد
جاپان کی وزیر اعظم کا غیر جوہری اصولوں کو برقرار رکھنے کے واضح وعدے سے گریز
سی آئی اے نے کیوبا کے لیے پوشیدہ ٹاسک فورس تشکیل  دے دی
یکاترینبرگ کے قریب کار دھماکہ، روسی ڈرون بنانے والی کمپنی کے سربراہ شدید زخمی