شمالی کوریا کے صدر کِم جونگ اُن نے ملک کی جوہری مزاحمت صلاحیت اور حرب و ضرب قوّت کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
ملک کی سرکاری خبر ایجنسی KCNA نے آج بروز بدھ جاری کردہ خبر میں کہا ہے کہ شمالی کوریا نے ایک بڑے کیلیبر کے ملٹی بیرل راکٹ لانچر سسٹم کی کامیاب تجرباتی فائرنگ کی ہے۔ یہ تجرباتی فائرنگ شمالی کوریا محکمہ میزائل کی طرف سے منگل کے روز کی گئی ہے اور اس کا مقصد جدید ٹیکنالوجی سے تیار کئے گئے فائر سسٹم کی کارکردگی کی تصدیق کرنا تھا۔ صدر کِم جونگ اُن نے دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ بذاتِ خود فائرنگ کا مشاہدہ کیا ہے۔
KCNA کے مطابق تجربے کے دوران داغے گئے چار راکٹوں نے لانچنگ مقام سے تقریباً 358 کلومیٹر دور پانیوں میں اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔
نہایت اہمیت کا حامل ہے
اس بارے میں جاری کردہ بیان میں کِم نے کہا ہےکہ شمالی کوریا کی اسٹریٹجک جارحانہ صلاحیت کی مؤثریت میں اضافے کے حوالے سے یہ تجربہ 'نہایت اہمیت' کا حامل ہے۔ حالیہ جدّت نے سسٹم کی حربی و ضربی صلاحیت کو بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
کِم نے یقین ظاہر کیا ہے کہ "کم از کم چند سالوں تک کوئی اور ملک نہ تو ایسی ٹیکنالوجی تک پہنچ سکے گا اور نہ ہی اس کا مالک بن سکے گا۔ ان نتائج نے پیونگ یانگ کے ساتھ جنگ کی خواہش مند قوتوں کے لیے سنگین خطرہ پیدا کر دیا ہے"۔
کِم نے کہا ہے کہ قوم کے جوہری صلاحیت کی تقویت کی خاطر کوریا لیبر پارٹی آئندہ کانگریس کے اگلے مرحلے کے منصوبے وضع کرے گی اور قابلِ اعتماد جارحانہ صلاحیتوں کی تعمیر پارٹی پالیسی کا مرکزی ستون بنی رہے گی۔
یہ خبر ، جاپان اور جنوبی کوریا کے منگل کو جاری کردہ اور شمالی کوریا کی طرف سے مشرقی سمندر کی جانب دو بیلسٹک میزائل فائروں پر مبنی بیان جاری کئے جانے کے بعد شائع کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ شمالی کوریا کی طرف سے میزائل تجربات جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی کو بڑھاتے رہتے اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے مذمت کا باعث بنتے رہتے ہیں۔










