غّزہ جنگ
4 منٹ پڑھنے
اقوام متحدہ: فلسطینیوں کی بھوک کا سبب اسرائیلی ناکہ بندی ہے
حالیہ دنوں میں غزّہ مین داخل ہونے والی امداد پر عالمی ادارہ صحت کی کڑی تنقید: "امداد شدید ناکافی ہے"
اقوام متحدہ: فلسطینیوں کی بھوک کا سبب اسرائیلی ناکہ بندی ہے
Aid entering Gaza is grossly inadequate says World Health Organization. / Reuters

اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزین ایجنسی 'انروا' کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ اسرائیلی ناکہ بندی کے گیارہ ہفتوں کے دوران غزہ میں غذائی قلت کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور اگر خوراک کی قلت جاری رہی تو یہ شرح تیزی سے بڑھ سکتی ہے ۔

جنیوا میں ایک پریس بریفنگ  کے دوران 'انروا' کے ڈائریکٹر برائے صحت، 'آکی ہیرو سیٹا 'نے کہا ہے کہ"میرے پاس موجود اپریل کے آخر تک کے اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ غذائی قلت میں اضافہ ہو رہا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا ہے کہ "تشویش یہ ہے کہ اگر خوراک کی قلت موجودہ  شکل میں جاری رہی تو یہ تیزی سے بڑھے گی اور پھر ہمارے قابو سے باہر ہو جائے گی۔"

واضح رہے کہ اسرائیل نے 2 مارچ سے غزہ کی مکمل ناکہ بندی کر رکھی ہے۔

حکومت، انسانی حقوق اور بین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق، اسرائیل نے غزہ کے لئے خوراک اور طبی و انسانی امداد کی ترسیل بند کر  کے،علاقے میں پہلے سے موجود انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

پیر کے روز اسرائیل نے کرم ابو سالم کراسنگ کے ذریعے غزہ میں امداد کے نو ٹرک داخل ہونے کی اجازت دی لیکن امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ صرف پانچ ٹرک داخل ہوئے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے غزہ میں داخل ہونے والی امداد کی مقدار پر تنقید کرتے ہوئے اسے انتہائی ناکافی قرار دیا۔

اقوام متحدہ کے امدادی سربراہ ٹام فلیچر نے کہا ہے کہ " اس ہنگامی ضرورت کے سامنے یہ امداد  سمندر میں ایک قطرے تک کے برابر نہیں ہےلہٰذا   کل صبح سے غزہ میں مزید امداد کےداخلے کی  فوری اجازت دی جانی چاہیے ۔"

93 فیصد سے زائد فلسطینی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

ایک عالمی بھوک مانیٹر نگ تنظیم نے کہا ہے کہ غزہ کی پوری آبادی قحط کے سنگین خطرے سے دوچار ہے۔  پانچ لاکھ افراد میں غذائی قلّت 'قحط زدگی' کی حد تک پہنچ گئی ہے۔تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ماہِ اکتوبر کی رپورٹ کے مقابلے میں صورتحال میں تیزی سے خرابی کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔

انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ ترین جائزے  کے بنیادی شواہد کے مطابق یکم اپریل سے 10 مئی تک کے عرصے کا تجزیہ کیا گیا اور  ستمبر کے آخر تک  صورتحال کے اس طرح جاری رہنے کا اندازہ  لگایا ہے۔

IPC کے تجزیے کے مطابق  1.95 ملین افراد بالفاظِ دیگر اسرائیلی ناکہ بندی والے فلسطینی علاقے کی 93 فیصد آبادی، شدید غذائی قلّت کے درجے پر زندگی گزار رہی ہے ہیں۔ ان میں سے 2 لاکھ 44 ہزار افراد سب سے شدید یا "تباہ کن" سطح پر ہیں۔

IPC کے تجزیے نے پیش گوئی کی کہ ستمبر کے آخر تک 4,70,000 افراد، یا آبادی کا 22 فیصد، تباہ کن زمرے میں آ جائیں گے، جبکہ ایک ملین سے زیادہ افراد "ہنگامی" سطح پر ہوں گے۔

تنظیم  نے کہا ہے کہ "زندگیاں بچانے، مزید بھوک اور اموات کو روکنے اور قحط سے بچنے کے لیے فوری کاروائی کی ضرورت ہے۔"

اسرائیلی افواج نے تباہ شدہ فلسطینی علاقے پر مہلک حملے کیے ہیں اور 18 مئی کو شمالی اور جنوبی غزہ میں ایک وسیع پیمانے کی  زمینی کارروائی شروع کی، جسے "آپریشن گوڈیون کے رتھ" کا نام دیا گیا ہے۔

غزہ میں اسرائیلی خونریزی گزشتہ ہفتے سے عروج پر ہے۔ یہ خونریزی  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ مشرق وسطیٰ کے ساتھ شروع ہوئی  اور مستقل جاری ہے۔

اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد میں زیادہ تر تعداد عورتوں اور بچّوں کی ہے۔

اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بارہا کہا ہے، "غزہ میں کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے۔"

دریافت کیجیے
اسرائیل نے 6 لبنانیوں کو ہلاک کر دیا
اسرائیلی فوج نے دو فلسطینیوں کو قتل کر دیا
لبنان کے متعدد علاقوں پر اسرائیلی حملے، 7 افراد ہلاک
غزہ میں تازہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک
اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ تنازع سے ہتھیاروں پر پابندی لگ سکتی ہے — رپورٹ
اسرائیل کی فوجی حکمت عملی علاقے میں نفرت اور تشدد کو مزید ہوا دیتی ہے: میکرون
اسرائیل نے غزہ میں ایک فلسطینی بچے کو اس کے والد کی گود میں قتل کر دیا
قابض اسرائیلیوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں مسجد پر حملہ اور گاڑیوں کو نذر آتش کیا
غزہ پر اسرائیلی حملے جاری،مزید 3 فلسطینی ہلاک
سروے کے مطابق نتن یاہو کی لیکود پارٹی کی حمایت ایک سال کی کم ترین سطح پر
ڈاکٹر حسام ابو صفیہ: "مجھے رہا کیا جائے"
اسرائیل نے غزہ میں مزید آٹھ فلسطینیوں کو قتل کر دیا
36 ممالک کی اکثریت اسرائیل کے بارے میں منفی سوچ رکھتی ہے
غزّہ پر اسرائیلی حملے: متعدد فلسطینی زخمی
مسجد الاقصی میں عید الاضحی
غزہ میں اسرائیلی حملوں کے سائے میں عید الاضحی: 9 فلسطینی شہید
ترکیہ اسرائیل کے خلاف آئی سی جے میں نسل کشی کے معاملے کا بڑا حمایتی ہے، جنوبی افریقہ
ملائیشیا غزہ فلوٹیلا کارکنوں سے بد سلوکی پر اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت سے رجوع گا
اسرائیلی فوج نے عید الضحیٰ کی خریداری کے دوران مغربی کنارے کے علاقوں کی دکانیں بند کر دیں
غزہ میں انسانی صورتحال تاحال بد ترین حالت میں ہے، بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں