رائے
ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
ڈپلومیسی کے حق میں ہونے والے ایردوان کا ترکیہ کی ممکنہ امریکہ-ایران جنگ کو روکنے کی کوششوں پر زور
ہم خطے کو مزید تصادم اور انتشارمیں دھکیلے بغیر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ہر ممکنہ کوششیں صرف کر رہے ہیں، ترک صدر
ڈپلومیسی کے حق میں ہونے والے ایردوان کا ترکیہ کی ممکنہ امریکہ-ایران جنگ کو روکنے کی کوششوں پر زور
صدر اردگان سعودی عرب اور مصر کے دوروں کے بعد ترکی واپسی کے دوران صحافیوں کے سوالات کے جواب دے رہے ہیں۔ / AA

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ترکیہ کی،  امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری  ہیں اور زور دیا کہ یہ عمل فعال ہے اور گفتگو ممکن ہے۔

جمعرات کو سعودی عرب اور مصر کے دوروں کے بعد ترکیہ واپسی کی پرواز میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایردوان نے کہا کہ انقرہ،  خطے کو مزید تنازعات اور افراتفری کے ماحول میں دھکیلنے  کا سد باب کرنے کی خاطر  کام کر رہا ہے۔

صدر نے کہا کہ "ہم خطے کو مزید تصادم اور انتشارمیں دھکیلے بغیر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ہر ممکنہ کوششیں صرف کر رہے ہیں۔"

ترکیہ کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے ترک صدر نے کہا  کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات چیت کی، جس کے بعد اگلے روز ایرانی صدر مسعود پزیشکیان سے مذاکرات ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ استنبول میں ایک سہ فریقی ملاقات بھی ہوئی، جس میں  ہمارے وزیرِ خارجہ اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی شامل تھے۔

سفارتی گنجائش

ایردوان نے کہا کہ "ایران میں عسکری مداخلت کی مخالفت واضح طور پر ظاہر کی گئی ہے اور ہم نے اس  موقف  کابراہِ راست اپنے ہم منصبوں  سے اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام فریقین سفارت کے لیے گنجائش تلاش کر رہے ہیں، جسے انہوں نے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ "مسائل جنگوں کے ذریعے حل نہیں ہوتے بلکہ مذاکرات اور مفاہمت کے ذریعے ہوتے ہیں، یہ عمل فعال برقرار اور بلا وقفہ جاری  رہنا چاہیے۔ سفارت اور گفت و شنید کے لیے راستہ کھلا ہے۔

ایردوان نے وضاحت کی کہ نچلی سطح پر پیش رفت رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کے لیے راستہ ہموار کر سکتی ہے، اور کہا کہ بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کے دوران ایک گفت و شنید کی میز قائم کرنا اہم ہے۔

علاقائی محرکات

علاقائی محرکات  کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ایردوان نے کہا کہ خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب نئی جنگ نہیں چاہتے اور تیزی سے سفارتی طریقہ کار کی حمایت کر رہے ہیں۔ہر کوئی سمجھتا ہے کہ ہمارے خطے میں مکمل امن اور استحکام قائم ہونے سے ہم سب کو فائدہ ہوگا،  انہوں  نے متنبہ کیا کہ تنازعات صرف نقصان کا باعث بنتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ علاقائی مسائل کو صرف عسکری نقطہ نظر سے دیکھنا تباہی کی طرف لے جائے گا۔ہمارے خطے نے پہلے ہی کافی خون دیکھا ہے اور جنگیں جھیلی ہیں، آگے بڑھتے ہوئے ہم امن و سکون کی بات کرنا چاہتے ہیں اور تعاون کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

ترک صدر کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکہ جمعہ کو عمان میں مذاکرات کی تیاری کر رہے تھے، اور واشنگٹن یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ ایرانی جوہری پروگرام اور دیگر معاملات پر سفارتی پیش رفت کے امکانات تو موجود ہیں یا نہیں، جبکہ اس نے عسکری حملوں کے امکان کی نفی نہیں کی۔

یہ مذاکرات — جو مقام، وقت اور انداز کے بارے میں غیر یقینی کے بعد بدھ کے روز دونوں اطراف کی جانب سے آخر کار تصدیق کیے گئے تھے — دشمن ملکوں کے درمیان اس نوعیت کی پہلی ملاقات ہوں گے۔

 

دریافت کیجیے
وزیر فیدان: "ہم نے یوکرین کا ایک بہت ہی سود مند دورہ کیا ہے"
اسرائیل:فلسطینی قیدیوں کی حامل جیلوں کے گرد مگر مچھ چھوڑنے پر غور
امریکہ۔ ایران کشیدگی اور بحرِ احمر میں آمدورفت کے بند ہونے کے خطرات سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ
یوگنڈا میں اسکول بس حادثے میں کم از کم 21 افراد لقمہ اجل
15 جولائی اقدام بغاوت کے 10 سال اور توانائی کی بدلتی پالیسیاں
فرانس میں شدید طوفان، 13,000 گھر بجلی سے محروم
یوکرین: روسی حملوں میں دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں
میانمار: روہینگیا مہاجرین کی کشتیاں الٹ گئیں، 500 سے زیادہ افراد ہلاک
امریکی فوج کیوبا کے خلاف ممکنہ کارروائی کے لیے اختیارات پر غور کر رہی ہے: رپورٹ
امریکہ نے سعودی عرب کے ہاتھ تقریباً 2 بلین ڈالر کی اسلحہ فروخت کی منظوری دے دی
سیمی فائنل میں ارجنٹائن کی کامیابی،فائنل اسپین کے ساتھ کھیلے گا
آسٹریلیا نےڈیٹا سینٹروں اور کاپی رائٹ سے متعلقہ اے آئی قوانین کا اعلان کر دیا
ملائیشیا میں کسی بھی اسرائیلی کو پایا گیا تو فوراً ملک بدر کر دیا جائے گا: انور ابراہیم
فیتو کی دفاعی صنعت میں تخریب کاری، اہم منصوبے اور حالیہ 10 برسوں میں مقامی دفاعی صنعت کی پیش رفتیں
کیوبا میں ملک گیر لوڈ شیڈنگ