رائے
ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
ڈپلومیسی کے حق میں ہونے والے ایردوان کا ترکیہ کی ممکنہ امریکہ-ایران جنگ کو روکنے کی کوششوں پر زور
ہم خطے کو مزید تصادم اور انتشارمیں دھکیلے بغیر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ہر ممکنہ کوششیں صرف کر رہے ہیں، ترک صدر
ڈپلومیسی کے حق میں ہونے والے ایردوان کا ترکیہ کی ممکنہ امریکہ-ایران جنگ کو روکنے کی کوششوں پر زور
صدر اردگان سعودی عرب اور مصر کے دوروں کے بعد ترکی واپسی کے دوران صحافیوں کے سوالات کے جواب دے رہے ہیں۔ / AA
6 فروری 2026

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ترکیہ کی،  امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری  ہیں اور زور دیا کہ یہ عمل فعال ہے اور گفتگو ممکن ہے۔

جمعرات کو سعودی عرب اور مصر کے دوروں کے بعد ترکیہ واپسی کی پرواز میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایردوان نے کہا کہ انقرہ،  خطے کو مزید تنازعات اور افراتفری کے ماحول میں دھکیلنے  کا سد باب کرنے کی خاطر  کام کر رہا ہے۔

صدر نے کہا کہ "ہم خطے کو مزید تصادم اور انتشارمیں دھکیلے بغیر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ہر ممکنہ کوششیں صرف کر رہے ہیں۔"

ترکیہ کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے ترک صدر نے کہا  کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات چیت کی، جس کے بعد اگلے روز ایرانی صدر مسعود پزیشکیان سے مذاکرات ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ استنبول میں ایک سہ فریقی ملاقات بھی ہوئی، جس میں  ہمارے وزیرِ خارجہ اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی شامل تھے۔

سفارتی گنجائش

ایردوان نے کہا کہ "ایران میں عسکری مداخلت کی مخالفت واضح طور پر ظاہر کی گئی ہے اور ہم نے اس  موقف  کابراہِ راست اپنے ہم منصبوں  سے اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام فریقین سفارت کے لیے گنجائش تلاش کر رہے ہیں، جسے انہوں نے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ "مسائل جنگوں کے ذریعے حل نہیں ہوتے بلکہ مذاکرات اور مفاہمت کے ذریعے ہوتے ہیں، یہ عمل فعال برقرار اور بلا وقفہ جاری  رہنا چاہیے۔ سفارت اور گفت و شنید کے لیے راستہ کھلا ہے۔

ایردوان نے وضاحت کی کہ نچلی سطح پر پیش رفت رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کے لیے راستہ ہموار کر سکتی ہے، اور کہا کہ بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کے دوران ایک گفت و شنید کی میز قائم کرنا اہم ہے۔

علاقائی محرکات

علاقائی محرکات  کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ایردوان نے کہا کہ خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب نئی جنگ نہیں چاہتے اور تیزی سے سفارتی طریقہ کار کی حمایت کر رہے ہیں۔ہر کوئی سمجھتا ہے کہ ہمارے خطے میں مکمل امن اور استحکام قائم ہونے سے ہم سب کو فائدہ ہوگا،  انہوں  نے متنبہ کیا کہ تنازعات صرف نقصان کا باعث بنتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ علاقائی مسائل کو صرف عسکری نقطہ نظر سے دیکھنا تباہی کی طرف لے جائے گا۔ہمارے خطے نے پہلے ہی کافی خون دیکھا ہے اور جنگیں جھیلی ہیں، آگے بڑھتے ہوئے ہم امن و سکون کی بات کرنا چاہتے ہیں اور تعاون کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

ترک صدر کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکہ جمعہ کو عمان میں مذاکرات کی تیاری کر رہے تھے، اور واشنگٹن یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ ایرانی جوہری پروگرام اور دیگر معاملات پر سفارتی پیش رفت کے امکانات تو موجود ہیں یا نہیں، جبکہ اس نے عسکری حملوں کے امکان کی نفی نہیں کی۔

یہ مذاکرات — جو مقام، وقت اور انداز کے بارے میں غیر یقینی کے بعد بدھ کے روز دونوں اطراف کی جانب سے آخر کار تصدیق کیے گئے تھے — دشمن ملکوں کے درمیان اس نوعیت کی پہلی ملاقات ہوں گے۔

 

دریافت کیجیے
بغداد میں حملوں کا خطرہ ہے، امریکی شہری عراق سے نکل جائیں
عالمی ممالک کا ایران پر دباو: آبنائے ہُرمز کھولی جائے
ایران کا اسرائیل پر تازہ  میزائلوں سے حملہ
حزب اللہ:  اسرائیلی فوجیوں اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے
ٹرمپ، یسوع مسیح سے مشابہہ ہیں: پاؤلا وائٹ۔کین
بحیرہ ملوکا میں 7٫8 شدت کا زلزلہ،ہمسایہ ممالک میں سونامی انتباہ
سینئر ایرانی عہدیدار امریکی-اسرائیلی حملے میں شدید زخمی
پاکستان۔افغانستان مذاکرات دوبارہ شروع ہو گئے
انڈونیشیا:اسرائیل کی باتوں پر بھروسہ نہیں،بم دھماکے کی تفتیش کروائی جائے
کریمیا میں روسی فوجی طیارے کا حادثہ، سوار تمام افراد ہلاک
پاکستانی فوج کا آپریشن ، 13 دہشت گرد ہلاک
ہرمز کھلوانے کےلیے فوجی کاروائی کی تیاریاں،ابو ظہبی کے شامل ہونے کاامکان
ٹرمپ، جنگ ختم کرنے کا سفارتی راستہ تلاش کریں: پوپ لیو
ترکیہ نے کوسووا کو شکست دے کر 2026 عالمی فٹ بال کپ ٹورنا منٹ کے لیے کوالیفائی کر لیا
ترکیہ: اسرائیلی قانون غیر آئینی اور نسلی ہے