پاکستان نے کہا ہے کہ اس نے افغانستان کی سرحد کے ساتھ دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کے لیے حملے کیے، جن پر وہ حالیہ حملوں کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔
افغان مقامی میڈیا اور پاکستانی وزارتِ اطلاعات کے مطابق اتوار کو پاکستانی افواج نے مشرقی اور جنوب مشرقی افغانستان کے کئی علاقوں میں فضائی حملے کیے۔
اسلام آباد نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ حملے کن مخصوص علاقوں میں کیے گئے یا تفصیلات کیا ہیں، مگر اوّلِ سبب کے طور پر پاکستان میں گزشتہ ہفتے رمضان کے آغاز سے اب تک ہونے والے تین دہشت گردانہ حملوں کا حوالہ دیا گیا۔
اطلاعاتی وزیر عطا اللہ ترار نے صبحِ صادق سے قبل X پر لکھا کہ فوج نے سات کیمپوں کے خلاف وہ کارروائیاں کیں جنہیں انہوں نے ‘‘انٹیلی جنس پر مبنی، مخصوص آپریشنز’’ قرار دیا، یہ کیمپ تحریکِ طالبانِ پاکستان (ٹی ٹی پی) اور اس کے اتحادیوں کے بتائے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقے میں داعش کے ایک اتحادی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اکتوبر میں بھی پاکستان نے دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے افغانستان کے اندر گہرے حملے کیے تھے۔
وزارتِ اطلاعات نے مزید کہا کہ پاکستان توقع کرتا ہے اور عبوری افغان حکومت پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پورا کرے اور خوارج اور دہشت گردوں کو پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین کے استعمال سے روکے، کیونکہ پاکستانی عوام کی سلامتی اور تحفظ اولین اور اولین ترجیح ہے۔’’
وزارت نے کہا کہ یہ حملے حالیہ خود کش بم دھماکوں کے بعد کیے گئے۔
TOLO نیوز نے X پر لکھا کہ ذرائع نے بتایا ہے کہ خوگیانی ضلع، ننگرہار صوبے میں ہوائی حملوں کے بعد پاکستانی افواج نے اسی صوبے کے غنی خیل ضلع اور ننگرہار کے بہسود ضلع میں بھی حملے کیے۔
افغانستان نے ‘‘مناسب اور متوازن جواب’’ کا عندیہ دیا
افغانستان کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر ہونے والے پاکستانی حملوں کا ‘‘مناسب اور متوازن جواب وقت آنے پر دے گی۔
وزارتِ دفاع نے X پر ان حملوں کی ‘‘شدید ترین الفاظ میں’’ مذمت کی اور کہا کہ یہ قومی خودمختاری، بین الاقوامی قانون، اچھی ہمسائیگی کے اصولوں اور اسلامی اقدار کی واضح خلاف ورزی ہیں۔
وزارت نے کہا کہ شہری اور مذہبی مراکز کو نشانہ بنانا پاکستانی فوج کی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی میں کمزوریوں کو ظاہر کرتا ہے اور ایسے بار بار ہونے والے جارحانہ اقدامات کبھی بھی ان کی داخلی کمزوریوں کو چھپا نہیں پائیں گے۔’’
افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے X پر لکھا کہ پاکستان نے ننگرہار اور پکتیکا صوبوں میں بمباری کی، اور دعویٰ کیا کہ ہلاکتیں عام شہریوں کی تھیں، اگرچہ انہوں نے ہلاکتوں کی تعداد یا نوعیت کی تفصیل نہیں بتائی۔
فی الحال ممکنہ ہلاکتوں کے بارے میں کوئی تصدیق شدہ معلومات جاری نہیں کی گئی ہیں۔
پاکستان نے خیبر پختونخوا میں ہفتے کو دو سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت اور دو ہفتے پہلے اسلام آباد کی ایک مسجد میں ہونے والے خود کش دھماکے کا انتقام لینے کا عندیہ دیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ وہ افغانستان سے کیے جانے والے کسی بھی حملے کو جواب کے بغیر نہیں چھوڑے گا۔
پاکستان نے ہمسایہ افغانستان پر الزام لگایا ہے کہ وہاں ٹی ٹی پی دہشت گردوں کو پناہ دی جاتی ہے اور سرحد پار حملوں میں اضافے کے لیے وہ ذمہ دار ہے، جسے افغانستان نے مسترد کیا ہے۔
پاکستانی حکومت نے افغان حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ افغانستان کے اندر مبینہ طور پر موجود تحریکِ طالبانِ پاکستان کے ٹھکانوں کو ختم کرے۔
پاکستانی عسکری حکام کے مطابق گزشتہ سال ٹی ٹی پی کی سرکردگی میں ہونے والے حملوں میں 500 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں 311 سے زائد فوجی بھی شامل تھے۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے جمعہ کو افغان سفارت کار کو شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا میں افغان سرحد کے قریب ایک حالیہ دہشت گردانہ حملے کے سلسلے میں طلب کیا تھا جس میں 11 فوجی ہلاک ہوئے تھے











