سیاست
3 منٹ پڑھنے
قارا قاس میں دھماکوں سے زمین لرز اٹھی، صدر ٹرمپ کا ونیزویلا کے خلاف جارحانہ موقف برقرار
یہ دھماکے ایسے وقت میں ہوئے جب کیریبیئن میں بحری ٹاسک فورس تعینات  کرنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف زمینی حملوں کے امکان کی بات کی تھی۔
قارا قاس میں دھماکوں سے زمین لرز اٹھی، صدر ٹرمپ کا ونیزویلا  کے خلاف جارحانہ موقف برقرار
Smoke raises at La Carlota airport after explosions and low-flying aircraft were heard in Caracas, Venezuela, Saturday, Jan. 3, 2026. / AP
3 جنوری 2026

ای ایف پی کے ایک صحافی نے  رپورٹ کیا ہے کہ ہفتے کو تقریباً دو بجے قارا قاس  میں زوردار دھماکے سنائی دیے، جن کے ساتھ ساتھ   لڑاکا طیاروں کی فضا  سے  گونج سنائی دی۔

یہ دھماکے ایسے وقت میں ہوئے جب کیریبیئن میں بحری ٹاسک فورس تعینات  کرنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف زمینی حملوں کے امکان کی بات کی تھی۔

دھماکوں کی آوازیں تقریباً سوا دو بجے تک سنائی دیں  تا ہم  ان کی صحیح جگہ واضح نہیں تھی۔

ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا کہ امریکہ نے  مبینہ وینزویلاوی منشیات بردار کشتیوں کے  خلاف آپریشن میں ایک   ڈاک یارڈ کو نشانہ بناتے ہوئے  تباہ کر دیا ہے۔

ٹرمپ  نے یہ نہیں بتایا کہ آیا یہ فوجی کارروائی تھی یا سی آئی اے کی، اور نہ ہی کہا کہ یہ حملہ کہاں ہوا۔

یہ مبینہ حملہ وینزویلا کی سرزمین پر معلوم ہونے والا پہلا زمینی حملہ تھا۔

امریکی فوجی دباؤ کے کئی ہفتوں کے بعد صدر نکولا مادورو نے پیر کے حملے کی تصدیق یا تردید نہیں کی، لیکن جمعرات کو کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ تعاون کے  لیے ہمارے   دروازے  کھلے  ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے مادورو  پر منشیات کارٹل کی قیادت کا الزام عائد کیا  اور کہا کہ  وہ اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہی ہے، مگر بائیں بازو کے رہنما نے منشیات کےلین دین میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ واشنگٹن اسے اقتدار سے ہٹانا چاہتا ہے کیونکہ وینزویلا کے پاس دنیا  کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر ہیں۔

واشنگٹن نے قارا قاس  پر دباؤ بڑھا دیا ہے:  جس میں وینزویلا کی فضائی حدود کو غیر رسمی طور پر بند کرنا، مزید پابندیاں عائد کرنا اور وینزویلا کے تیل سے لوڈ ٹینکروں کی ضبطی کا حکم دینا شامل ہیں۔

ٹرمپ  خطے میں منشیات کارٹلز کے خلاف زمینی حملوں کی دھمکی دیتے چلے آ رہے تھے  اور کہہ رہے تھے کہ  یہ "جلد" شروع ہوں گے اور پیر کے روز کاحملہ   اس کی پہلی   ٹھوس کارروائی تھا۔

ستمبر سے امریکی افواج نے کیریبیئن اور مشرقی پیسیفک دونوں میں متعدد کشتیوں پر حملے کیے ہیں، جنہیں واشنگٹن منشیات اسمگلروں کے طور پر قرار دیتا ہے۔

تاہم انتظامیہ نے یہ ثابت کرنے کے لیے کوئی شواہد فراہم نہیں کیے کہ نشانہ بننے والی کشتییں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث تھیں یا نہیں، جس سے ان کارروائیوں کی قانونی حیثیت پر بحث چھڑ گئی ۔

امریکی فوج کی جاری کردہ معلومات کے مطابق اس مہلک بحری مہم کے دائرہ کار میں  30 حملوں میں کم از کم 107 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مزید تفصیلات کے لیے اس خبر کو دوبارہ کلک کیجیے!

دریافت کیجیے
نائب صدر وینس نے امریکہ کی طویل مشرق وسطی جنگ کے مفروضات کو مسترد کر دیا
آپ نے امریکی شہریوں کا قتل کیا ہے! ٹرمپ کے کانگریس سے خطاب میں الہام عمر کا الزام
میکسیکن صدر: امریکی افواج کارٹیل کے سربراہ کے خلاف کارروائی میں شامل نہیں
چین امریکہ سے 'یکطرفہ ٹیرف' کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے
ڈیموکریٹس کی ٹرمپ ٹیرف کے غیر قانونی قرار دیے جانے کے بعد واپسی ادائیگی کی اپیل
ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نئے 10% عالمی محصولات نافذ کر دیے
ٹرمپ اور روبیو نے بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے امن بورڈ  سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا
امریکہ: جاپان نے 550 بلین ڈالر کی پہلی قسط کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے
ایران: امریکہ، اسرائیلی اثر و رسوخ سے آزاد جوہری مذاکرات کرے
ٹرمپ: 'خوف' ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات میں کامیابی کی کنجی بن سکتا ہے
طارق رحمان بنگلہ دیش کے وزیر اعظم کے طور پر سامنے آنے والے ہیں
صومالیہ اور سعودی عرب کا بحرِ احمر کی سلامتی کو مضبوط کرنے کے لیے دفاعی معاہدہ
امریکہ اور بھارت کا عارضی تجارتی معاہدے کے لیے ایک فریم ورک کا اعلان
ترکیہ اور عراق کے تعلقات میں، امن اور علاقائی تبدیلیوں کے باعث تیزی کا مشاہدہ
کارنی نے ترکیہ کو کینیڈا کے لیے "حیاتی شراکت دار" قرار دے دیا
ایران-امریکہ جوہری مذاکرات عمان میں ہوں گے: ایکسیوس
ایران-امریکہ مذاکرات استنبول میں ہونے کا امکان
اسرائیل کی خواہش ہے کہ امریکہ ایران پر حملہ کرے، لیکن ٹرمپ سخت سیاسی مذاکرات کے حق میں ہیں: رپورٹ
ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو 6.67 بلین ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی
ابوظہبی امن مذاکرات میں یوکرین میں جنگ بندی پر بحث ہوئی ہے، زیلنسکی