گرین لینڈ کے مستقبل پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی مباحثے میں ایک قابلِ توجہ مداخلت کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ اگر امریکہ ڈنمارک سے اس آرکٹک علاقے کو خریدے تو قیمت ایک ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے اور اس اندازے کے لیے انہوں نے امریکہ کی الاسکا کی تاریخی خریداری اور کچھ بنیادی حساب کتاب بطور معیار استعمال کیا۔
پوتن نے کوپن ہیگن کے گرین لینڈ کے ساتھ تاریخی سلوک پر بھی سخت تنقید کی اور الزام لگایا کہ ڈنمارک نے جزیرے کے لوگوں کے ساتھ نوآبادی جیسا برتاؤ کیا۔
بدھ کو روس کے سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں بات کرتے ہوئے، روسی رہنما نے کہا کہ ماسکو گرین لینڈ کے تنازع کو واشنگٹن اور کوپن ہیگن کے درمیان طے پانے والا معاملہ سمجھتا ہے اور روس کا اس میں "کوئی مفاد نہیں" ہے۔
انہوں نے کہا،یہ یقینی طور پر ہمارا معاملہ نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہے وہ آپس میں اسے سلجھا لیں گے۔"
ٹرمپ بارہا اصرار کر چکے ہیں کہ گرین لینڈ کا حصول قومی سلامتی کی ترجیح ہے اور امریکہ کو جزیرے کا مالک ہونا چاہیے تاکہ روس یا چین کے قبضے کو روکا جا سکے۔ یورپ سے شمالی امریکہ جانے کا سب سے کم فاصلہ گرین لینڈ سے گزرتا ہے، اس لیے یہ امریکی بالسٹک میزائل قبل از وقت وارننگ سسٹم کے لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے۔
گرین لینڈ آرکٹک کو عسکریت پسندی کے درمیان جیوپولیٹیکل سنگِ میل پر واقع ہے، جہاں نیٹو، روس اور چین اپنا عسکری اثر بڑھا رہے ہیں۔ امریکہ اپنا فوجی نفوذ بڑھانا چاہتا ہے، بشمول ایسے ریڈارز جو روسی بحری جہازوں اور آبدوزوں کے راستوں کی نگرانی کریں۔
روسی حکام کا کہنا ہے کہ ماسکو اور بیجنگ کو گرین لینڈ کے لیے خطرہ قرار دینے والی باتیں محض ہنگامہ آرائی پیدا کرنے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں۔
یہ جزیرہ، جس کی راجدھانی نوک نیویارک سے ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن کے مقابلے میں قریب تر ہے، معدنیات، تیل اور قدرتی گیس کے ذخائر کا حامل ہے، مگر ترقی سست رہی ہے اور کان کنی میں امریکی سرمایہ کاری بہت محدود رہی ہے۔
پوتن نے اپنی باتوں کو تاریخی امریکی زمینی حصولات کے حوالے سے پیش کیا۔ ٹیلی وژن تقریر میں انہوں نے کہا کہ امریکہ نے 1867 میں روس سے الاسکا 7.2 ملین ڈالر میں خریداتھا جسے اُس وقت 'سی ورڈ کی حماقت' کہا گیا کیونکہ بہت سے ناقدین نے اس خرید کو بیکار اور غلط فیصلہ قراردیا۔
بعد ازاں الاسکا کی خرید امریکہ کے لیے اسٹریٹجک اور معاشی طور پر اہم ثابت ہوئی۔ پوتن کے مطابق، اگر گرین لینڈ کے رقبے کا موازنہ الاسکا سے کیا جائے اور سابقہ لین دین کی قیمت کو بنیاد بنایا جائے تو اسی طرز کے معاہدے میں گرین لینڈ کی قیمت تقریباً 200 سے 250 ملین ڈالر بنتی۔
انہوں نے کہا کہ اُس وقت سونے کی نسبتی قدر کو مدِ نظر رکھنے سے وہ اس قیمت کو "شاید تقریباً ایک ارب ڈالر" تک بڑھا سکتا ہے۔ "خیر، میرا خیال ہے امریکہ ایسے رقم برداشت کر سکتا ہے۔
پوتن نے یہ بھی یاد دلایا کہ امریکہ نے ڈنمارک سے ہی زمین خریدی تھی ،ڈینش ویسٹ انڈیز جو کہ اب امریکی ورجن جزائر ہے اس کو 1917 میں جنگِ عظیم اول کے دوران سونے میں 25 ملین ڈالر میں خریدا گیا۔
اس معاہدے کے تناظر میں واشنگٹن نے باضابطہ طور پر یہ بھی اعلان کیا کہ وہ ڈنمارک کی طرف سے "پورے گرین لینڈ پر سیاسی اور اقتصادی مفادات کے پھیلاؤ" پر اعتراض نہیں کرے گا، اور اسی طرح ڈنمارک کی خودمختاری کو تسلیم کیا گیا۔
معاشی پہلوؤں کے علاوہ، پوتن کے بیانات کا نشانہ ڈنمارک کی گرین لینڈ پر طویل نگرانی بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ ڈنمارک نے "ہمیشہ گرین لینڈ کو نوآبادی کی طرح" سمجھا اور بعض اوقات اسے "کافی سخت، اگر نہ کہیں کہ ظالمانہ" انداز میں رکھا۔ اس طرح انہوں نے گفتگو کو محض جیوپولیٹیکل مفادات کے بجائے تاریخی طاقت کے عدم توازن کے نقطۂ نظر میں پیش کیا۔
گرین لینڈ تاریخی طور پر 18ویں صدی سے ڈنمارک کی نوآبادی رہا، اور اسے حالیہ دہائیوں میں وسیع خود حکومتی اختیارات ملے، مگر یہ ابھی بھی ڈنمارک کی سبسڈیز اور خارجہ و دفاعی امور میں کنٹرول پر کافی حد تک منحصر ہے۔
گرین لینڈ میں تقریباً 2,500 قبل مسیح سے ایشیا اور شمالی امریکہ سے آنے والی انیوئٹ (Inuit) قوموں نے وقفے وقفے سے رہائش اختیار کی۔ تقریباً 985 عیسوی میں وائکنگ سردار ایرک دی ریڈ نے جنوبی گرین لینڈ میں بستی بسائی، کھیتی باڑی کی اور گرجا گھر قائم کیے۔ اسی دور میں آج کے انیوئٹس کے آباؤ اجداد بھی آئے جو شکاری اور جمع آورانہ طرزِ زندگی رکھتے تھے، اور آخرکار وہ غالب ثقافت بن گئے، جبکہ 1400 کے قریب وائکنگ بستیوں کو پیچھے دھکیل دیا گیا۔
ڈنمارک نے 18ویں صدی میں گرین لینڈ پر نوآبادیاتی قبضہ کیا جب مبلغ ہانس ایگیڈے 1721 میں پہنچا، جسے نوآبادیاتی دور کے آغاز کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ دارالحکومت نوک کے نوآبادیاتی بندرگاہ پر ایگیڈے کا ایک مجسمہ اب بھی پہاڑی پر کھڑا ہے جسے بہت سے گرین لینڈرز کھوئی ہوئی انیوئٹ روایات کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔
1953 میں ڈنمارک کے آئین کے تحت گرین لینڈ کو کالونی سے باقاعدہ علاقہ میں تبدیل کر دیا گیا، حالانکہ گرین لینڈرز سے مشاورت نہیں کی گئی تھی۔ کسی بھی فروخت کے لیے آئینی ترمیم درکار ہوگی۔ 2009 کے بعد سے، گرین لینڈ خود حکمرانی کے عمل کے ذریعے آزادی کا اعلان کر سکتا ہے جس کے لیے ریفرنڈم اور ڈینش پارلیمان کی منظوری لازمی ہے۔
خودمختاری وسیع ہے مگر اس میں خارجہ امور اور دفاع شامل نہیں جب تک کہ اس پر اتفاق نہ ہو۔ گرین لینڈ کی آبادی تقریباً 57,000 ہے، انفراسٹرکچر محدود ہے، اور اس کے تقریباً 17 شہروں کے درمیان سڑکیں موجود نہیں ہیں۔
جبکہ ڈنمارک کسی فروخت کی سختی سے مخالفت کرتا ہے اور گرین لینڈ کے رہنماؤں کا اصرار ہے کہ جزیرہ فروخت کے لیے نہیں ہے، پوتن کی روس کے براہِ راست مفاد کو پس پشت ڈالنے اور ڈنمارک کی حکمرانی پر تنقید نے آرکٹک خودمختاری اور بڑی طاقتوں کے تنازع کے بارے میں بدلتے ہوئے جیوپولیٹیکل بیانیوں کو اجاگر کیا ہے۔













